
عجلت میں پاس کی گئی 26 ویں آئینی ترامیم نے جہاں عدلیہ کو حکومت کو تابع کر دیا ہے ، وہیں عدالتی معاملات کو اس حد تک کمزور کر دیا گیا ہے کہ آپ ہائیکورٹس اور سپریم کورٹ کے ججز میں بھی آپس کے اختلافات بڑھتے جارہے ہیں۔
ایسے میں سوال پیدا ہوتا ہے کہ کیا 26 ویںآئینی ترامیم ریورس ہو سکتی ہیں ؟ اور اگر ایسا ہوا تو کیا ایسا کرنا آسان ہوگا؟
26 ویںترمیم کے بعد سپریم کورٹمیںججز کے آپسی اختلافات:
26 ویں آئینی ترامیم کو پاس کرنے کے بعد سب سے سپریم کورٹ میں لڑائی دیکھنے کو ملی جب آئینی بینچز اور نارمل بینچز کی اصطلاحات استعمال ہونا شروع ہوئیں۔
اول میں تو ججز ہلکے پھلکے ریمارکس دے کر اپنی ناراضی کا اظہار کرتے رہتے تھے لیکن جب لمبے عرصے تک 26 ویں آئینی ترامیم پر فل کورٹ تشکیل نہ پایا تو معاملات کھل کر سامنے آ گئے۔
جسٹس منصور علی شاہ کے سامنے آرٹیکل 191 اے کی تشریح کا کیس لگا تو معاملہ ایڈیشنل رجسٹرار پر توہین عدالت لگانے سے ججز تک کو توہین عدالت کا مرتکب قرار دیئے جانے تک پہنچ گیا۔ نتیجتاً یہ لڑائی بہت آگے نکل گئی۔
26 ویںآئینی ترامیم ریورس کرنا کیوںمشکل ہوگا؟
26 ویں آئینی ترامیم کے خلاف کیس گزشتہ ہفتے آئینی بینچ کے سامنے سماعت کو مقرر ہوا تو فریقین کو نوٹسز جاری کر دیئے گئے لیکن معاملہ فل کورٹ کی تشکیل کی طرف نہ جاسکا۔
26 ویں آئینی ترامیم کو ریورس کرنا اس لئے مشکل ہوگا کہ اس وقت تمام ہائیکورٹس میں اضافی ججز کی تقرریاں کی جاری ہیں۔ اسلام آباد ہائیکورٹ ، پشاور ہائیکورٹ، بلوچستان ہائیکورٹ اور سندھ ہائیکوٹ میں یہ تقرریاں ہو بھی چکی ہیں۔ اب اگر آئینی ترامیم ر یورس ہوتی ہیں تو یہ معاملہ ریورس کرنا مشکل ہوگا۔
مزید پڑھیں:لاہور ہائیکورٹ کے جج اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس
اسی طرح سپریم کورٹ کے چیف جسٹس یحییٰ آفریدی بھی اسی ترامیم کےتیجے میں چیف جسٹس بنے ہیں جبکہ آئینی بینچ کے سربراہ جسٹس امین الدین خان کو بھی انہی ترامیم کی وجہ سے آئینی بینچ کی سربراہی ملی۔
جس طرح عجلت میں یہ ترامیم بنائی اور پاس کی گئیں، انہیں ریورس کرنا اتنا آسان نہ ہوگا۔ چیف جسٹس کی تقرری، عدالتوں میں ایڈیشنل ججز کی تعیناتی ، جوڈیشل کمیشن آف پاکستان کی تشکیل سمیت دیگر تمام معاملات کو ریورس کرنا ایک دفعہ نظام کو ہلا کر رکھ دے گا۔
دوسری طرف پارلیمںٹ سے بھی شدید رد عمل آئے گا کیونکہ بلاول بھٹو پہلے ہی عدلیہ کو خبردار کر چکےہیں اور شبانہ روز محنت کرنے والی حکومت یہ کسی طور قبول نہیں کرے گی۔
فی الوقت تو عدلیہ کے اندر بھی اس معاملے پر فل کورٹ کی تشکیل میں آمادگی نہیں پائی جارہی۔ اگر ایسا ہو جاتا ہے اور ججز متفقہ طور پر ان ترامیم کو کالعدم بھی کر دیتے ہیں، پھر بھی شاید مخصوص نشتوں کے فیصلے کی طرح حکومت اس پر عملدرآمد ہی نہ کرے جس سے نیا آئینی و قانونی بحران جنم لےگا۔