
ہم نے اکثر ڈش واشنگ صابن یا لیکوڈ کے اشتہارات دیکھے ہوں گے جن میں ایک صابن یا لیکوڈ کے اجزاء کی خصوصیات ایسی بتائی جاتی ہیں کہ انسان کو سمجھ نہیں آتا کہ اسے کھانا ہے یا استعمال کرنا ہے۔
ہم اپنے فہم کے مطابق سب سے اچھا لیکوڈ خریدتے ہیں تا کہ ہمارے برتن اچھی طرح دھلے ہوں اور ان میں کوئی جراثیم باقی نہ رہیں۔
اچھا ڈش واشنگ لیکوڈ اور رگڑ رگڑ کر دھونے کے باوجود بھی ہم ایسی غلطی کر جاتے ہیں جس کی وجہ سے ہمارے روز مرہ استعمال کے برتن جیسا کہ گلاس، پلیٹ ، جگ وغیرہ جراثیموں کی آماجگاہ بن جاتے ہیں۔
یہ غلطی برتن دھونے کیلئے استعمال ہونے والے سپونج کا استعمال ہے ۔ جی ہاں! ہر گھر کے کچن میں پایا جانا والا بظاہر یہ صفائی کرنے والا آلہ کئی جراثیم کی آماجگاہ ہوا کرتا ہے۔
برتن دھونے کی غلطی جو ہمیں بھاری پڑ سکتی ہے:
قدرت نے کئی طرح کے بیکٹریا پیدا کئے ہیں جسے جہاں اچھا ماحول میسر آئے وہ وہاں اپنی افزائش شروع کر دیتا ہے۔
لیکن عام فہم کی بات ہے کہ جو جگہ ہر وقت گیلی ہو گی اور اس پر طرح طرح کی اجزاء لگے ہوں گے وہاں جراثیموں کی افزائش ضرور ہو گی۔
سال 2017 میں ایک جرمن ریسرچر نے کچن میں استعمال شدہ سپونج پر جراثیموں کی کثافت سے متعلق ریسرچ میں پایا کہ ان سپونجز پر 362 اقسام کے جراثیم پائے جاتے ہیں۔
مزیدپڑھیں: اینٹی بائیوٹک ادویات پاکستان میں غیر مؤثر کیوں ہوتی جارہی ہیں؟
ریسرچر نے اس بات کی شدت کو سمجھاتے ہوئے مثال دی یہ تعداد اتنی زیادہ ہے جتنی آپ کو انسانے فضلے یعنی کہ پاخانے میں ملے گی۔
یہ ایک بہت ہی خطرناک تحقیق ہے جو ہماری سستی کی طرف اشارہ کرتی ہے جس میں ہم کچن میں استعمال ہونے والے اس سپونج کا درست استعمال نہیں کرتے اور اپنے جسم کو جراثیم کی آماجگاہ بنا لیتے ہیں۔
سپونج کے جراثیم کس قدر خطرناک ہو سکتے؟
یہ جراثیم کس حد تک خطرناک ہو سکتے ہیں اس بارے ماہرین کی متضاد رائے ہے۔ چند ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ بیکٹریا اس قدر خطرناک نہیں ہوتے اور انسان کی قوتِ مدافعت اس پر قابو پا لیتی ہے۔ لیکن کمزور قوتِ مدافعت والے بچے ، مریض یا بزرگ اس سے بیمار ہو سکتے ہیں۔
اسی طرح چند ماہرین کا خیال ہے کہ وہ برتن جس میں کچا گوشت رکھا گیا ہو اور اس میں لہو کےذرات ہوں یا عموماً کسی کھانے کے باسی ہونے کے بعد ضائع ہونے پر اس کے برتن کو دھویا جائے تو اس صورت میں جراثیم وہاں افزائش پا کر خطرناک ہوسکتےہیں۔
کیا احتیاطی تدابیر اپنا کر سپونج کے جراثیم سے بچا جائے؟
ماہرین کہتے ہیں کہ کوشش کی جائے کہ سپونج کو استعمال کے بعد ایسی جگہ پر رکھا جائے جہاں سے یہ خشک ہو جائے تا کہ دوبارہ استعمال تک اس میں بیکٹریا کو افزائش کا موقع نہ ملے۔
اسی طرح ماہرین کے مطابق ہر ہفتے سپونج کو تبدیل کرتے رہنا بھی بہتر عمل رہے گا۔ کچھ ماہرین اس کیلئے واشنگ برش کا استعمال کرنے یا اس طرز کا کپڑا استعمال کیا جائے جس میں کوئی پورز (سوراخ) وغیرہ نہ ہوں جس میں جراثیموں کو پنپنے کا موقع نہ ملے۔