دنیا

ملائیشیا کا گمشدہ طیارہ MH370 کی تلاش دوبارہ شروع؛ ضرورت کیوں پیش آئی؟

اس اقدام سے مسافروں اور جہاز کے عملے کے لواحقین سمیت عالمی فضائی نگران اداروں میں امید کی ایک نئی کرن پیدا ہوئی ہے۔ 

 گیارہ سال سے زائد عرصے کے بعد، ملائیشیائی حکومت نے اعلان کیا ہے کہ گمشدہ پرواز Malaysia Airlines Flight MH370 کی گہرائی سمندری تلاشی 30 دسمبر 2025 کو دوبارہ شروع کی جائے گی۔

اس اقدام سے مسافروں اور جہاز کے عملے کے لواحقین سمیت عالمی فضائی نگران اداروں میں امید کی ایک نئی کرن پیدا ہوئی ہے۔

بحرالہند کے جنوبی حصے میں، سمندری روبوٹکس فرم Ocean Infinity اس مشن کی قیادت کرے گی، جو تقریباً 55 دن جاری رہے گا۔ تلاشی کا مرکز وہ مخصوص سمندری علاقہ ہے جسے ماہرین نے جہاز کے ملبے کے ملنے کے لیے “سب سے زیادہ امکان والے” زون کے طور پر شناخت کیا ہے۔

حکومت نے اس معاہدے کو “no-find, no-fee” کے اصول پر طے کیا ہے — اگر ملبہ نہ ملا تو کمپنی کو ادائیگی نہیں کی جائے گی۔ لیکن اگر ملبہ مل بھی گیا، تو معاوضہ 70 ملین امریکن ڈالر تک ہوسکتا ہے۔ یہ ماڈل مالی خطرات کو کم کرنے اور تلاشی کو ممکن بنانے کی حوصلہ افزائی کے لیے وضع کیا گیا ہے۔

تلاش کے لیے زون کی حدود پہلے کی نسبت بہت محدود رکھی گئی ہیں — تقریباً 15,000 square kilometres — جو اس بات کا ثبوت ہے کہ پچھلے ڈیٹا اور تحقیق کی روشنی میں اب علاقہ زیادہ درست انداز میں طے کیا گیا ہے۔ اسی بنیاد پر، اس بار امید کی جا رہی ہے کہ نتیجہ ملنے کے امکانات بہتر ہوں گے۔

ملائیشیا کا گمشدہ طیارہ ، نامعلوم اور نئے امکانات

8 مارچ 2014 کو MH370 اپنا ریڈار سگنل کھو کر افسانوی طور پر غائب ہو گیا تھا؛ جہاز میں 227 مسافر اور 12 عملے کے ارکان سوار تھے۔

ملائیشیا کا گمشدہ طیارہ  کی تلاشی کی پہلی مہمات، جنہوں نے بحیرہ ہند کے وسیع علاقوں کو چھانا، ناکام رہیں۔

اگرچہ وقتاً فوقتاً کچھ ملبے کے ٹکڑے دور دراز ساحلوں پر ملے، مگر جہاز کی بنیادی باقیات یا فلائٹ ریکارڈر تک کوئی رسائی نہیں ہو سکی۔ نتیجتاً یہ واقعہ جدید فضائی تاریخ کی سب سے بڑی اور پراسرار گمشدگیوں میں سے ایک بن گیا۔

گزشتہ برسوں میں خاندانوں اور بین الاقوامی برادری نے بارہا مطالبہ کیا تھا کہ تلاش کو دوبارہ شروع کیا جائے۔ اب جدت یافتہ سمندری روبوٹکس، بہتر ڈیٹا تجزیے اور تنگ کیے گئے ہدف زون کی بنیاد پر، حکومت نے ایک نیا موقع فراہم کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ اس مرتبہ امید ہے کہ جہاز کی لاش یا کم از کم ملبے کے اہم ٹکڑے ملنے کے امکانات بڑھ گئے ہیں۔

امید اور حقیقت کے مابین

اس نئی مہم سے ملائیشیا کا گمشدہ طیارہ کے متاثرہ خاندانوں کو ایک بار پھر امید کی کرن ملی ہے ۔کچھ نے اظہارِ تشکر اور راحت کا عندیہ دیا ہے کہ حکومت نے ان کی آرزو کو دوبارہ زندہ کر دیا ہے۔

اگر تحقیق کامیاب رہی اور ملائیشیا کا گمشدہ طیارہ کا  ملبہ مل گیا تو نہ صرف خاندانوں کو تسلی ملے گی بلکہ فضائی حادثات کی تحقیق اور سمندری تلاش و تحقیق کے شعبے میں بھی بہت بڑی پیش رفت ہو سکتی ہے۔

بہر حال، سمندر کی گہرائی، ملبے کا خطرہ، اور سابقہ ناکام تجربے یہ حقیقت ظاہر کرتے ہیں کہ نتیجہ یقینی نہیں ہے۔ چاہے روبوٹکس اور تحقیق بہتر ہو جائے — سمندر اتنا وسیع اور پیچیدہ ہے کہ بعض اوقات امید کے باوجود ملبہ نہ ملے۔ مگر اس نئے اقدام نے کم از کم ایک اور موقع فراہم کیا ہے — اور شاید یہی آخری امید ہو۔

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button