اہم خبریںپاکستانسیاست

ڈاکٹر عافیہ صدیقی کیس،حکومت معاونت کرنے کی بجائے زخموں پر نمک چھڑکنے لگی

حکومت ایک طرف اس حساس معاملے پر تعاون سے انکاری ہے تو دوسرے طرف غیر ذمہ دارنہ بیانات سے عافیہ کیس کو نقصان بھی پہنچا رہی ہے۔

حکومت ڈاکٹر عافیہ صدیقی کیس میں ڈاکٹر عافیہ اور ان کی فیملی کے غم کا مداوا تو نہیں کر پارہی لیکن ساتھ ہی نمک پاشی میں بھی مصروف عمل ہے۔

حکومت وقت نے کئی ایسے اہم مواقع گنوائے جب تھوڑی سی سفارت کاری سے ڈاکٹر عافیہ کو ریلیف مل سکتا تھا۔

لیکن ایک طرف حکومت نے عالمی سطح پر کوئی قابل قدر کارروائی نہ کی تو دوسری طرف حکومت نے پاکستانی عدالتوں میں ڈاکٹر عافیہ صدیقی کی رہائی سے متعلق کیسز  میں بھی روڑے اٹکانے شروع کر دیئے ہیں۔

اس پر افسوسناک بات یہ کہ حکومت کی جانب سے ایسے غیر ذمہ درانہ بیانات کا سلسلہ بھی جاری ہے جس سے ڈاکٹر عافیہ صدیقی کے اہلخانہ اور دیگر پاکستانیوں کو شدید تکلیف پہنچ رہی ہے۔

 

حکومت کی ڈاکٹر عافیہ کیس میں غیر سنجیدگی:

 

موجودہ حکومت کے پاس ڈاکٹر عافیہ کی رہائی میں کردار ادا کرنے کیلئے کئی مواقع آئے لیکن حکومت نے اس معاملے میں کوئی سنجیدگی نہ دکھائی۔

ڈاکٹر عافیہ صدیقی کیس میں سرگرم دکھائی دینے والے سابق سینیٹر مشتاق احمد خان کی جانب سے حکومت کو کئی مواقعوں پر ایسی نشاندہی کی گئی جہاں حکومت کے کردار سے ڈاکٹر عافیہ کی رہائی کی صورت پیدا ہو سکتی تھی۔

لیکن حکومت نے ہر بار یہ موقع گنوایا۔ مثال کے طور پر امریکی صدر جوبائیڈن جب اپنے دورِ حکومت کے اختتام پر قیدیوں کیلئے صدارتی رہائی کے پروانے جاری کر رہے تھے تو سینیٹر مشتاق نے حکومت سے اس موقع پر کردار ادا کرنے کی گزارش کی۔

یوں یہ اہم موقع گنوا دیا گیا۔ نئی حکومت آنے کے بعد ٹرمپ کی جانب سے بھی کئی قیدیوں کے معافی نامے جاری کئے گئے۔

اگرچہ ٹرمپ کے حامی سمجھے جانے والے افراد ہی اس سہولت سے زیادہ مستفید ہوئے لیکن کوشش کرنے میں کیا حرج تھا کا سوال باقی رہا۔

اسلام آباد ہائیکورٹ میں ڈاکٹر فوزیہ صدیقی کی جانب سے دائر کی گئی درخواست میں بھی حکومت کی جانب سے ٹال مٹول سے کام لیا گیا۔

تاہم چند روز قبل اس کیس میں ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے اسلام آباد ہائیکورٹ کے جسٹس سردار اعجاز اسحاق خان کی عدالت میں بتایا کہ حکومت نے ڈاکٹر عافیہ کیس میں امریکی عدالت میں فریق بننے سے انکار کر دیا ہے۔

اس پر عدالت نے ریمارکس دیئے کہ جب حکومت یا اٹارنی جنرل کوئی فیصلہ لیتے ہیں تو اس کی کوئی قانونی یا آئینی بنیاد ہوتی ہے۔

عدالت نے اس معاملے پر تحریری رپورٹ جمع کرانے کی ہدایات جاری کیں لیکن فیصلے پر عملدرآمد نہ ہوسکا۔

عدالت نے بارہا وقت دینے کے بعد توہین عدالت کی کارروائی کا عندیہ دیا لیکن معاملات بہتر نہ ہوئے۔

اس کے بعد اسلام آباد ہائیکورٹ کے جسٹس سردار اعجاز اسحاق نے وزیر اعظم اور کابینہ کو توہین عدالت کے نوٹسز جاری کئے تو ان نوٹسز کو تکینکی طریقے سے روک لیا گیا ہے۔

دوسری جانب مشتاق احمد کان کے مطابق حکومت اسلام آباد ہائیکورٹ میں جاری کیس کی سماعت کو رکوانے کیلئے سپریم کورٹ بھی پہنچ چکی ہے۔

 

مزید پڑھیں: ڈاکٹر عافیہ صدیقی کیس رکوانے حکومت سپریم کورٹ پہنچ گئ

وزیر اعظم کا دلاسہ، ڈپٹی وزیر اعظم کا زخموں پر نمک:

 

ایک طرف تعاون کی یقین دہانیاں تو دوسری طرف زخموں پر نمک، حکومت کی دوغلی پالیسی جاری ہے۔

چند روز قبل وزیر اعظم سے عافیہ صدیقی کی بہن ڈاکٹر فوزیہ نے ملاقات کی۔ اس ملاقات میں وزیر اعظم نے انہیں ہر قانونی اور سفارتی مدد کی یقین دہانی کرائی حالانکہ حکومت جو اسلام آباد ہائیکورٹ میں اس کیس کو لے کر کر چکی ہے اس کے بعد یہ باتیں صرف رسمی دعوے ہی معلوم ہوتے ہیں۔

اس ملاقات میں وزیراعظم نے ڈاکٹر فوزیہ صدیقی سے کہا کہ وہ ڈاکٹر عافیہ کے معاملے پر غافل نہیں ہیں۔

اس یقین دہانی کو ایک ہی روز گزرا تھا کہ ڈپٹی وزیر اعظم اسحاق ڈار نے امریکی دورے کے دوران ایک انٹرویو میں ڈاکٹر عافیہ کی سزا سے متعلق متنازع بیان دیا۔

اگرچہ بعد میں انہوں نے اس پر وضاحتیں بھی دیں اور میرے بیان کو سیاق و سباق سے ہٹ کر پیش کیا گیا ہے جیسی باتیں بھی کیں، لیکن جو نقصان ہونا تھا وہ ہو چکا تھا۔

حکومت ایک طرف اس حساس معاملے پر تعاون سے انکاری ہے تو دوسرے طرف غیر ذمہ دارنہ بیانات سے عافیہ کیس کو نقصان بھی پہنچا رہی ہے۔

حکومت کو چاہیے کہ اگر وہ اس معاملے پر متاثرہ فیملی اور ڈاکٹر عافیہ سے تعاون نہیں کر سکتی تو وہ اس بارے غیر ذمہ درانہ بیانات سے بھی گریز کرے ۔

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button