اہم خبریں

پاکستان میں‌تاریخ اپنے آپ کو کیسے دہر ا رہی ہے

90 کی دہائی یا اس کے بعد پیدا ہونے والے پاکستانی جب تاریخ کی کتابیں پڑھتے ہیں تو دنگ رہ جاتے ہیں کہ اس ملک میں سب کچھ چل رہا تھا تو عدالتیں کہاں تھیں؟ سیاسی جماعتوں اور عوام نے یہ سب کیسے قبول کر لیا تھا؟آج پاکستان اس موڑ پہ آگیا ہے جہاں ہمیں وہ سب اپنی آنکھوں سے دیکھنے کا موقع مل رہا ہے۔
ہم جب سنتے ہیں کہ ماضی میں ڈکٹیٹر آئین کو کاغذ کا ایک ٹکڑا قرار دے کر اس میں من مرضی کی ترامیم کر دیتے تھے تو ہمیں یہ بات ہضم نہیں ہوتی تھی۔ لیکن آج ہمیں دیکھنے کو مل رہا ہے کہ ڈکٹیٹر نہیں سیاسی جماعتیں ہی آئین کو کاغذ کر ٹکڑا سمجھ کر اس میں ترامیم کئے جارہی ہیں جو ان کیلئے فائدہ مند ہیں۔
بات اب یہاں تک آن پہنچی ہے کہ حکومت وقت آئین کی صرف ان شقوں پر عمل پیرا ہور ہی ہے جو اس کے فیور میں جارہی ہیں۔ بقیہ آئینی شقوں کو من مرضی سے پیروں تلے روندا جارہا ہے۔
اس کے علاوہ جب ہم ملک میں مارشل لاء کی باتیں سنتے ہیں تو ہم سوال اٹھاتے ہیں کہ ڈکٹیٹر جب مارشل لاء لگاتے تھے تو عدالت اس سب کو کیسے قبول کر لیتی تھی؟

مزید پڑھیں:حکومت کیلئے آئینی ترامیم کا راستہ ہموار، سپریم کورٹ کا بڑا فیصلہ

آج اس کا واضح عمل دیکھنے کو مل رہا ہے جہاں حکومت وقت آئینی ترامیمی کیلئے سپریم کورٹ کے 63 اے کے فیصلے پر تکیہ کیئے بیٹھی تھی اور عدالت نے حکومت کو مایوس نہیں‌کیا۔ ا ب ایک بار پھر ضمیر کی منڈیا ں‌لگنے کا وقت آگیا ہے ۔
آج ہم کئی سیاسی جماعتوں کے راہنماؤں کے اسٹیبلشمنٹ کی مدد سے غیر آئینی کاموں میں معاون ہونے کی تاریخ پڑھتے ہیں تو دل یہ بات تسلیم نہیں کرتا۔
لیکن جب یہ کتاب بند کر کے حقیقی دنیا میں دیکھتے ہیں تو سامنے نظر آتا ہے کہ ملک کو آئین دینے والی پارٹی پیپلز پارٹی کا سربراہ ان آئینی ترامیم کے حق میں بیانیہ بناتا پھر رہا ہے جو کہ بنیادی انسانی حقوق سلب کرنے کی بات کر رہی ہیں۔
یوں تاریخ اپنے آپ کو دہر رہی ہے اور ہم اپنی آنکھوں سے اسے دیکھ رہے ہیں۔

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button