
عمران خان کو جیل میں ہوتےہوئے تقریباً 2 سال مکمل ہو چکے ہیں۔
ایک وقت تھا جب عمران خان کے صحافتی و سیاسی مخالفین یہ کہا کرتے تھے کہ عمران خان چند دن سے زائد جیل نہیں رہ سکیں گے۔
مخالفین ان پر نشہ کرنے کا الزام بھی لگاتے تھے اور یہی ان کا نقطہ بھی تھا کہ جب جیل میں یہ سہولت میسر نہ آئے گی تو عمران خان خود بخود ڈیل کرنے پر مجبور ہوں گے۔
لیکن آج دو سال ہونے کو ہیں اور عمران خان جیل کاٹ رہے ہیں اور جس انداز میں وہ جیل میں ہیں اس پر ان کے ناقدین بھی تعریفیں کر رہے ہیں۔
عمران خان پر نشہ کرنے کا الزام لگانے والے رانا ثناء اللہ نے چند روز قبل ایک میڈیا پروگرام میں اعتراف کیا کہ یہ گمان غلط تھا۔
رانا ثناء اللہ نے عمران خان کے جیل کاٹنے کے انداز پر بھی تعریف کی۔
صرف یہی نہیں ، عمران خان جیل میں رہتے ہوئے کبھی کوئی بیماری یا ایسا بہانہ بناتے نہیں پائے گئے جس سے انہیں کسی دوسرے ملک بھیجنے کی آفر دی جائے اور وہ اسے قبول کر لیں۔
عمران خان وقتاً فوقتاً اپنے ساتھ جیل میں ہونے والے ناروا سلوک کا اظہار کرتے رہتے ہیں ۔
لیکن اس کے باوجود بھی انہیں مل کر آنے والے بتاتے ہیں کہ خان صاحب مضبوط اعصاب میں ہیں۔
اب کی بار ان کے گزشتہ سال ٹرائل کو کور کرنے والے ایک صحافی نے ان کے مضبوط اعصاب کے بارے میں ایک واقعہ سنایا۔
یہ صحافی شبیر ڈار ہیں جو بہرحال عمران خان کے میڈیا ناقد گروپ جیو نیوز سے وابستہ ہیں۔
وہ اڈیالہ جیل ٹرائل کے دوران موجود ہوتے تھے سو انہوں نے ایسے ہی ایک جیل ٹرائل کا حوالہ دیا جو گزشتہ سال جنوری کا تھا۔
مزید پڑھیں: کیا قاسم اور سلیمان خان پاکستانی پاسپورٹ یا نائیکوپ رکھتے ہیں؟
عمران خان کے اڈیالہ جیل ٹرائل کی ایک دلچسپ کہانی:
یہ الیکشن سے چند روز قبل کی بات ہے جب عمران خان کو اڈیالہ جیل ٹرائل میں پے در پے سزائیں دی جارہیں تھیں جن کا مقصد انہیں الیکشن سے باہر رکھنا تھا۔
صحافی شبیر ڈار لکھتے ہیں کہ "گزشتہ سال جنوری (2024) میں اڈیالہ جیل میں عمران خان کے ایک کیس کی سماعت رات ساڑھے 11 بجے تک چلی،کمرہ عدالت میں موجود عمران خان کی فیملی، وکلاء، پراسیکیوشن، صحافی ، جیل عملہ سب تھک کر بیٹھ گئے تھے۔ ”
"سردی کی وجہ سے کمرہ عدالت میں موجود سبھی لوگ ٹھٹھر رہے تھے،سب کو بھوک بھی لگی تھی۔”
صحافی شبیر ڈار لکھتے ہیں کہ "جیل والوں نے صحافیوں کو کچھ بچی کھچی روٹیاں دیں لیکن کوئی افاقہ نہیں ہوا، سب ایک دوسرے کو تھکے تھکے جمائیاں لیتے دیکھ رہے تھے کہ کب سماعت ختم ہوگی۔”
کورٹ رپورٹر شبیر ڈار کہتےہیں کہ کچھ لوگ غصے میں دل ہی دل میں شاید گالیاں بھی دے رہے تھے، پراسیکیوشن کے بعد سلمان اکرم راجہ 3 گھنٹوں سے مسلسل دلائل دے رہے تھے۔
رپورٹر جیونیوز کہتے ہیں کہ ایسے میں واحد عمران خان تھے جن کے چہرے پر کوئی تھکاوٹ کوئی غصہ کوئی شکایت نہیں تھی۔ کمرہ عدالت میں ایسے تازہ دم مسکرا مسکرا کر گھوم رہے تھے جیسے کسی ولیمے کی دعوت پر آئے ہوں۔ حالانکہ تب عمران خان 7 ماہ قید گزار چکے تھے (یہ واقعہ جنوری 2024 کا ہے)، انکو دیکھ کر سب حیران تھے۔
شبیر ڈار لکھتے ہیں کہ عمران خان نے سب کی حالت دیکھی تو ہاتھ جوڑ کر جج صاحب سے بولے جج صاحب بس ختم کریں لوگوں نے گھر بھی جانا ہے آپ کو ترس نہیں آتا؟ کل صبح پھر سماعت رکھ لیں میں یہیں ہوں، اس میں کوئی شک نہیں عمران خان بہت مضبوط اعصاب کے مالک ہیں۔”
یاد رہے کہ یہ الیکشن سے ایک ماہ قبل کا دور تھاجب عمران خان کو رات گئے تک سماعتیں کر کے سزائیں دی گئیں لیکن اب عمران خان کے وکیل شکوہ کرتے ہیں کہ کیسز کے خلاف اپیلیں مقرر کرنے میں دیر کی جاتی ہے اور اب ایسی جلدی نظر نہیں آتی۔