
پاک فوج کی فضائی طاقت میں بڑی اضافہ ، Z-10 ME اٹیک طیارے فضائی بیڑے میں شامل ہو گئے۔
یہ طیارے چینی ساختہ Z-10 ہیلی کاپٹرز کا اپ گریڈ شدہ ماڈل ہے جو خاص طور پرپاکستان کیلئے ترتیب دیئے گئے ہیں۔
جدید ریڈار سسٹم، نیکسٹ جنریشن الیکٹرانک وار فیئر سوئٹس اور پائیدار انجن کی خصوصیات کے ساتھ یہ طیارے پاکستان کی فضائی طاقت میں اضافے کے ساتھ خطے میں بڑھتے ہوئے جدید طیاروں کے حصول کی جنگ میں بھی پاکستان کو ایک بہتر پوزیشن مہیا کریں گے۔
یہ طیارے ایک ایسے وقت میں پاک فوج کے فضائی بیڑے میں شامل ہورے ہیں جس وقت انڈیا امریکی ساختہ AH-64 Apache طیارے اور مقامی سطح پر تیار کردہ LCH Prachand طیارے اپنی فضائی طاقت میں شامل کر چکا ہے۔
اس کے ساتھ ہی انڈیا ستمبر کے مہینےمیں بدنامِ زمانہ مگ -21 طیارے بھی ریٹائر کرنے کا اعلان کر چکا ہے۔
چیف آف آرمی سٹاف کی زیر صدارت تقریب، Z-10 ME اٹیک فضائی بیڑے میں شامل
آئی ایس پی آر کی جانب سے جاری کردہ پریس ریلیز میں بتایا گیا کہ چیف آف آرمی سٹاف/ فیلڈ مارشل جنرل سید عاصم منیر کی زیر صدارت Z-10 ME اٹیک طیاروں کی فضائی بیڑے میں شمولیت سے متعلق تقریب منعقد ہوئی۔
بعدازاں فیلڈ مارشل نے مظفر گڑھ فیلڈ فائرنگ رینجز میں نئے شامل کردہ طیاروں کی جانب سے فائر پاور کا مظاہرہ بھی دیکھا ۔
آئی ایس پی آر کے مطابق یہ جدید ترین طیارے ہر موسم میں چاہے دن ہو یا رات صحیح طور پر نشانے کو ہدف بنانے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ یہ جدید ترین ریڈار سسٹم اور الیکٹرانک وار فیئر ٹیکنالوجی سے لیس ہیں جو زمینی اور فضائی خطرات سے نمٹنے کیلئے پاک آرمی کی صلاحیتوں میں مزید اضافہ کریں گے۔
چیف آف آرمی سٹاف نے سپاہیوں سے گفتگو کرتے ہوئے ان کے بلند حوصلے اور پیشہ ورانہ جنگی صلاحیتوں کو سراہا۔
بعدازاں آرمی چیف نے تعلمی شعبے اور سول سوسائٹی سے منسلک افراد سے ایک سیشن میں گفتگو کرتے ہوئے قومی یکجہتی اور سول ملٹری ہم آہنگی کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے اسے ہابئرڈ خطرات سے نمٹنے کیلئے موثر قرار دیا۔
مزید پڑھیں : بھارتی فضائیہ بدنام زمانہ مگ 21 طیارے گراؤنڈ کرنے کو تیار
اگرچہ پاک فوج کے شعبے اطلاعات کی جانب Z-10 ME اٹیک طیاروں کی پاک فوج کی کمان میں شمولیت اور ان کی ورکنگ بارے آگاہ کیا گیا، لیکن اس میں یہ نہیں بتایا گیا کہ کتنے طیارے فضائی بیڑے کا حصہ بنے۔
اس سے قبل چائنہ کی ایو ایشن انڈسٹری کارپوریشن نے سنگا پور ایئر شو میں Z-10 طیاروں کی رونمائی کی تھی جس میں صرف پاکستان نے اس کی خرید میں دلچسپی دکھائی تھی۔
چینی ساختہ زیڈ 10 طیاروں کی شمولیت، جیو پولیٹکل اثرات کیا ہوں گے؟
پاکستان کی جانب سے Z-10 ME اٹیک طیاروں کی انڈکشن کو انڈیا کے AH-64 Apache اور LCH Prachand طیاروں کے حصول کا براہ راست جواب سمجھا جارہا ہے۔
یہ انڈکشن اس لئے بھی اہم سمجھی جارہی ہے کہ روایتی حریف بھارت کی جانب سے جنگی طاقت میں اضافے کا جواب دینا لازمی تھا تا کہ خطے میں جاری جدید اسلحے کی دور کو متوازن کیا جا سکے۔
یہاں یہ بات بھی قابل ذکر ہے کہ بھارت نئے طیاروں کے حصول کیلئے اب امریکہ کی طرف رجوع کر رہا ہے جبکہ پاکستان کا جھکاؤ چائنہ کی طرف ہے۔ یہ خطے میں سپر پاورز کو متوازن کرنے کا ایک اور مظاہرہ ہے۔
اگرچہ امریکی ساختہ AH-64 Apache جنہیں حال ہی میں انڈیا نے حاصل کیا ہے دنیا کے بہترین اٹیک ہیلی کاپٹر سمجھے جاتے ہیں۔
لیکن عسکری اور ایوی ایشن ذرائع کے مطابق Z-10 ME طیارے پاکستان کیلئے سپیشل طور پر تجدید کے ساتھ پیش کئے گئے ہیں اور یہ امریکی ساختہ اپاچی طیاروں کے مدمقابل کے طور پر بہترین کام کریں گے۔