خاموش خبریں؛ وہ خبریں جو میڈیا نہیں دکھاتا
یہ خبریں شور نہیں کرتیں، مگر ان کے اثرات نسلوں تک محسوس کیے جاتے ہیں۔

ہم جس دور میں زندہ ہیں اسے معلومات کا دور یعنیٰ کہ Information Age کہا جاتا ہے، مگر سوال یہ ہے کہ کیا ہمیں واقعی ساری معلومات مل رہی ہیں؟
ٹی وی اسکرین پر چلنے والی بریکنگ نیوز، اخبارات کی شہ سرخیاں، اور سوشل میڈیا کے ٹرینڈز ہمیں یہ تاثر دیتے ہیں کہ سب کچھ ہمارے سامنے ہے۔
مگر حقیقت اس کے بالکل برعکس ہے۔ بہت سی خبریں ایسی ہیں جو کبھی اسکرین تک پہنچتی ہی نہیں۔ یہی ہیں خاموش خبریں — وہ حقائق، وہ آوازیں، اور وہ مسائل جو میڈیا کی خاموشی میں دفن ہو جاتے ہیں۔
خاموش خبریں کیا ہوتی ہیں؟
خاموش خبریں وہ معلومات ہوتی ہیں جو:
- عوامی مفاد میں ہونے کے باوجود نشر نہیں کی جاتیں
- طاقتور اداروں، سرمایہ دار گروہوں یا ریاستی بیانیے سے ٹکراتی ہوں
- ریٹنگ، اشتہارات یا سیاسی مفادات کے لیے "غیر موزوں” سمجھی جائیں
یہ خبریں شور نہیں کرتیں، مگر ان کے اثرات نسلوں تک محسوس کیے جاتے ہیں۔
میڈیا خاموش کیوں رہتا ہے؟
1. کارپوریٹ کنٹرول اور اشتہاری دباؤ
آج میڈیا ایک صنعت ہے، اور صنعت منافع سے چلتی ہے۔
جو خبر:
- بڑے اشتہاری اداروں کے خلاف ہو
- ملٹی نیشنل کمپنیوں کے ماحولیاتی یا لیبر جرائم کو بے نقاب کرے
وہ اکثر "ایڈیٹوریل پالیسی” کے نام پر روک دی جاتی ہے۔
مثال:
فیکٹریوں میں مزدوروں کی صحت، کم از کم اجرت کی خلاف ورزی، یا زہریلے فضلے کی خبریں شاذ و نادر ہی پرائم ٹائم میں آتی ہیں۔
2. سیاسی مفادات اور ریاستی بیانیہ
کچھ موضوعات ایسے ہوتے ہیں جن پر بات کرنا "قومی مفاد” کے خلاف قرار دیا جاتا ہے:
- لاپتہ افراد
- اقلیتوں کے مسائل
- انتخابی بے ضابطگیاں
- پالیسی فیصلوں کے اصل معاشی اثرات
ایسے میں میڈیا خاموشی کو صحافت سمجھ لیتا ہے۔
3. ریٹنگ کلچر اور سنسنی خیزی
سنجیدہ خبریں وقت مانگتی ہیں، تحقیق مانگتی ہیں —
جبکہ:
- لڑائی
- اسکینڈل
- متنازع بیانات
فوراً ریٹنگ دیتے ہیں۔
نتیجہ؟ غریب کی خاموش موت خبر نہیں بنتی، مگر ایک مشہور شخصیت کا ٹویٹ بریکنگ نیوز بن جاتا ہے۔
کون سی خبریں سب سے زیادہ دبائی جاتی ہیں؟
مزدور اور کسان
- خودکشیاں
- قرضوں کا جال
- زرعی پالیسیوں کے نقصانات
ماحولیات
- زیرِ زمین پانی کی تباہی
- صنعتی آلودگی
- جنگلات کی کٹائی
خواتین
- دیہی علاقوں میں صحت کی سہولیات کی کمی
- گھریلو تشدد کے غیر رپورٹڈ کیسز
اقلیتیں اور حاشیے پر موجود طبقات
- مذہبی و نسلی امتیاز
- قانونی انصاف تک عدم رسائی
یہ سب خبریں موجود ہوتی ہیں، مگر نظر نہیں آتیں۔
خاموش خبریں اور ڈیجیٹل میڈیا
سوشل میڈیا نے خاموش خبروں کو آواز تو دی، مگر:
- الگورتھم
- فیک نیوز
- ٹرولنگ
- Shadow Banning نے سچ اور جھوٹ کو ایک ہی سطح پر لا کھڑا کیا ہے۔
اب مسئلہ یہ نہیں کہ آواز موجود ہے یا نہیں، بلکہ یہ ہے کہ سچ الگورتھم کے فلٹر سے گزر پاتا ہے یا نہیں۔
صحافت کا اصل مقصد کیا تھا؟
صحافت کا مقصد کبھی یہ نہیں تھا کہ:
- طاقتور کو محفوظ رکھا جائے
- کمزور کو نظرانداز کیا جائے
بلکہ:
"طاقت کے سامنے سچ کہنا”
یہی اصل صحافت تھی — اور ہے۔
خاموش خبریں دراصل صحافت کی اجتماعی ناکامی کی علامت ہیں۔
عام شہری کیا کر سکتا ہے؟
✔ سوال کرے
جو خبر نہیں دکھائی جا رہی، اس کے بارے میں پوچھے۔
✔ متبادل ذرائع استعمال کرے
- انڈیپینڈنٹ جرنلسٹس
- تحقیقاتی بلاگز
- ڈاکومنٹریز
✔ خود آواز بنے
موبائل فون، تحریر، اور سوشل پلیٹ فارمز —
یہ سب عام شہری کے پاس طاقت ہیں۔
نتیجہ: خاموشی سب سے بڑا جھوٹ ہے
جھوٹ ہمیشہ بول کر نہیں بولا جاتا، اکثر چپ رہ کر بھی بولا جاتا ہے۔
خاموش خبریں ہمیں یہ یاد دلاتی ہیں کہ: جو ہمیں دکھایا جا رہا ہے، وہی پوری حقیقت نہیں۔
اصل سوال یہ نہیں کہ میڈیا کیا دکھا رہا ہے، اصل سوال یہ ہے کہ وہ کیا نہیں دکھا رہا؟



