کھیل

عمر گل بنگلہ دیش کرکٹ ٹیم کے باؤلنگ کوچ منتخب

ایک طرف پاکستان کرکٹ ٹیم کو ملکی اور غیر ملکی کوئی کوچ راس نہیں آرہا اور قومی ٹیم پے در پے شکست کا سامنا کر رہی ہے تو وہیں دوسری طرف سابق پاکستانی کرکٹرز مواقع نہ ملنے کی وجہ سے دیگر ممالک کی ٹیموں کو اپنا ہنر منتقل کر رہے ہیں۔

ایک طرف پاکستان کرکٹ ٹیم کو ملکی اور غیر ملکی کوئی کوچ راس نہیں آرہا اور قومی ٹیم پے در پے شکست کا سامنا کر رہی ہے ۔

دوسری طرف سابق پاکستانی کرکٹرز مواقع نہ ملنے کی وجہ سے دیگر ممالک کی ٹیموں کو اپنا ہنر منتقل کر رہے ہیں۔

پاکستان کی فاسٹ باؤلنگ کا ایک بڑا نام عمرگل ہیں جنہوں نے اپنے کیرئیر میں پاکستان کو کئی میچز میں فتح دلائی۔

ریٹائرمںٹ کے بعد عمر گل نے پاکستان ، افغانستان اور کوئٹہ گلینڈی ایٹرز کو پاکستان سپر لیگ میں اپنی کوچنگ خدمات فراہم کیں۔

عمر گل پاکستان کے خلاف سیریز میں بنگلہ دیش کے کوچ:

 

بنگلہ دیش کرکٹ بورڈ کی جانب سے کنفرم کیا گیا ہے کہ سابق پاکستان فاسٹ باؤلر عمر گل پاکستان کے خلاف ٹی ٹونٹی ٹور کیلئے بنگلہ دیش کرکٹ ٹیم کے باؤلنگ کوچ کے فرائض سر انجام دیں گے۔

ابتدائی طور پر بنگلہ دیش کے باؤلنگ کو مضبوط کرنے کیلئے پاکستان کے خلاف پانچ ٹی ٹونٹی سیریز کیلئے اپنے خدمات دیں گے۔

 

مزید پڑھیں: پی سی بی ہال آف فیم میں‌چار بڑے نام شامل

 

انہیں بنگلہ دیش کرکٹ بورڈ کی جانب سے تین ماہ کا کنٹریکٹ آفر کیا گیا ہے جبکہ ذرائع کا کہنا ہے کہ سیریز کے بعد اس کنٹریکٹ کو 2027 کے آئی سی سی ورلڈکپ تک بڑھایا جا سکتا ہے۔

عمر گل نے بھی اس حوالے سے کہا ہے کہ حتمی شرائط ابھی زیر بحث ہیں اور وہ اس چیلنج کا انتظار کر رہے ہیں۔

عمر نے اپنے کیرئیر کے دوران ٹیسٹ میچز میں 163، ون ڈے میں 179 اور ٹی ٹونٹی میں 85 وکٹیں حاصل کیں۔ وہ پاکستان کے 2009 ٹی ٹونٹی ورلڈکپ جیتنے میں اہم کردار کے طور پر سامنے آئے تھے۔

اس سے قبل سابق پاکستانی کپتان یونس خان نے بھی اپنی خدمات بطور میںٹور افغان کرکٹ ٹیم کے سپرد کر دی تھیں، جس کا مظاہر آئی سی سی چیمپئنز ٹرافی میں دیکھنے کو ملا۔

قومی کرکٹ ٹیم جہاں کوئی قابل قدر کارکردگی نہ دکھا سکی، وہیں افغان ٹیم نے انگلینڈ جیسی بڑی ٹیم کو شکست دے کر اس ایونٹ کو شاندار بنایا۔

 

پاکستان ٹیم کیلئے سب ہر حربے ناکام:

 

دوسری جانب پاکستان کرکٹ ٹیم کے غیر ملکی کوچز، ملکی لیجنڈز کی سپورٹ اور ہر طرز کی ٹریننگ بھی فتح نہ دلا سکی۔

قومی کرکٹ ٹیم کی جانب سے چیمپئنز ٹرافی میں جس بدترین کارکردگی کا مظاہرہ کیا گیا اس کی مثال نہیں ملتی۔

قومی کرکٹ ٹیم کی کارکردگی میں تسلسل نہ ہونے کے معاملے پرمختلف آراء دیکھنےکو مل رہی ہیں۔

تاہم کرکٹ ایکسپرٹس اور شائقین اسے کرکٹ میں موجود سیاست کے بڑھتے ہوئے اثر کو شکستوں کی وجہ قرار دے رہی ہے۔

شائقین اور سینئر کرکٹرز اعتراض اٹھا رہے ہیں کہ ایک ہی وقت میں وزارتِ داخلہ اور چیئرمین پی سی بی جیسی بھاری ذمہ داریاں اکھٹی کیسی نبھائی جا سکتی ہیں؟

ایسے میں محسن نقوی کو مشورہ دیا جا رہا ہے کہ وہ ان دو میں سے ایک عہدہ قبول کریں ۔ سینئر کرکٹرز کا مشورہ ہے کہ محسن نقوی چیئرمین پی سی بی کی بجائے وزیر داخلہ کا عہدہ رکھیں کیونکہ وہ کرکٹ کی سمجھ بوجھ نہیں رکھتے۔

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button