
25 اگست 2025 کی رات مشہور مذہبی سکلالر انجینیئر محمد علی مرزا کی گرفتاری کے بعد منظر نامہ بہت تیزی سے بدلا ہے۔
ابتدائی طور پر انہیں 3 ایم پی او کے تحت گرفتار کیا گیا اور ان کی اکیڈمی کو کسی ناخوشگوار واقعہ سے روکنےکیلئے سیل کر دیا گیا۔
بعدازاں ان پر درج مقدمہ سامنے آیا جس میں ایک شہری کی جانب سے ان پر تعزیراتِ پاکستان کی دفعہ 295 سی کے تحت مقدمہ درج کیا گیا ہے۔
تعزیراتِ پاکستان کی دفعہ 295 سی پیغمبر اسلام ﷺ کی توہین اور توہین مذہب سے متعلق ہے اور جرم ثابت ہونے پر سزائے موت ہے۔
انجینیئر محمد علی مرزا کا ایک متنازع بیان سامنے آیا تھا جس کے بعد مذہبی جماعتوں نے ان کے خلاف کارروائی کا مطالبہ کر رہی تھیں۔
جہلم کے ایک شہری کی درخواست پر انہیں مینٹیننس آف پبلک آرڈر (ایم پی او) کے سیکشن 3 کے تحت حراست میں لیا گیا۔
ایف آئی آر کے مطابق انجینیئر مرزا پر توہین رسالت ﷺ کے الزام میں مقدمہ درج کرایا گیا۔
انجینیئر سے مذہبی سکالر تک، محمد علی مرزا:
محمد علی مرزا یونیورسٹی آف انجینیئرنگ اینڈ ٹیکنالوجی ٹیکسلا سے مکینیکل انجینیئرنگ کی ڈگری حاصل کر رکھی ہے اور وہ سرکاری ملازمت بھی کر چکے ہیں۔ لیکن انہوں نے سوشل میڈیا پر اپنے ویڈیو لیکچرز سے شہرت پائی۔
بطور عالم انہوں نے اپنے کیرئیر کا آغاز فرقہ وارنہ حدود سےنکل کر کیا۔ وہ اپنی تحقیق کی وجہ سے مشہورہوئے اور اسی صفت کی وجہ سے انہوں نے نوجوان طبقے میں شہرت بھی پائی ۔
انہوں نے پاکستان میں موجود دینی فرقوں اور ان کے روایتی علماء کو نشانہ بنانا شروع کیا تو انہیں ان طبقات کی طرف سے سخت تنقید کا سامنا کرنا پڑا۔
کئی علماء نےان کو مناظرےکی دعوت بھی دی لیکن ایساموقع نہ مل سکا کہ دونوں علماء آمنے سامنے آئیں۔
گرفتاریاں، قتل کرنے کی کوششیں اور تنقید:
خود کو کسی فرقے کا پیروکار نہ ماننے والے انجینیئر مرزا نے ہر فرقے کے علماء اور ان کے نظریات کو چیلنج کیا۔
انہیں ہر فرقے کے علماء کی جانب سے ویڈیو پیغامات اور جمعہ کے خطبات میں سخت تنقید کا نشانہ بنایا گیا۔
صرف تنقید نہیں ، انجینیئر محمد علی مرزا کو 2019، 2021 اور 2023 میں تین بار قتل کرنے کی کوشش بھی کی گئی۔ تاہم وہ قاتلانہ حملوں میں محفوظ رہے۔
اس کے علاوہ سال 2020 میں انہیں ایک نفرت انگیز ویڈیول وائرل ہونے کے الزام میں گرفتار کیا گیا تھا لیکن عدالت نے ان ضمانت فوری منظور کرتے ہوئے رہا کر دیا تھا۔
مزید پڑھیں: ڈکی بھائی کی گرفتاری اور جسمانی ریمانڈ، مشہور یوٹیوبر پر کیا الزامات ہیں؟
انجینیئر محمد علی مرزا کے حمایتی میدان میں:
جہاں مذہبی حلقوں میں انجینیئر مرزاکی گرفتاری کو خوش آئند قرار دیا جارہاہے، وہیں عوامی سطح پر پذیرائی رکھنے والے انجینیئر محمد علی مرزا کی گرفتاری پر اپنا احتجاج ریکارڈ کرایا جارہا ہے۔
صحافی اعزاز سید نے انکے حق میں آتے ہوئے لکھا کہ” انجینیئر محمد علی مرزا روایتی مذہبی و فرقہ وارانہ عقائد کو قرآن و حدیث کی روشنی میں دلیل کے ساتھ چیلنج کرنے کی شہرت رکھتے ہیں۔ وہ ان سوچوں پر بھی سوال اٹھاتے رہے ہیں جن کے بارے میں بات کرنا مشکل تصور کیا جاتا ہے۔ ان کی فکر سے اختلاف کی گنجائش موجود ہے مگر ان کو بلاوجہ بظاہر چند مذہبی عناصر کے دباؤ پر گرفتار کرنا انتہائی قابل مذمت ہے۔”
صحافی عبد الوحید مراد نے سوال اٹھایا کہ اگر انجینئر محمد علی مرزا کا کوئی فرقہ/مسلک ہوتا اور اُنہوں نے اپنا گروہ/جتھہ بنایا ہوتا تو کیا گرفتار کیا جا سکتا تھا؟
Engineer Muhammad Ali Mirza booked under 295-C.
A man who has dedicated his entire life to the service of Islam is now facing blasphemy charges in Pakistan. pic.twitter.com/DgMw9Qy2qz
— Dr. Taimur Rahman (@Taimur_Laal) August 26, 2025
ڈاکٹر تیمور رحمان کا کہنا تھا کہ انجینئر محمد علی مرزا پر 295-سی کے تحت مقدمہ درج۔ ایک شخص جس نے اپنی پوری زندگی اسلام کی خدمت کے لیے وقف کر دی، اب پاکستان میں توہینِ رسالت کے الزامات کا سامنا کر رہا ہے۔
اختتامیہ:
انجینیئر مرزا جو کبھی دیگر فرقوں سے علماء کے خلاف بولنے کی وجہ سے تنقید کی زد میں رہتے تھے، گزشتہ کچھ عرصہ سے سیاسی میدان میں بھی اپنا علم دکھا رہے تھے۔
انہوں نے سیاسی پارٹیوں بالخصوص پی ٹی آئی اور عمران خان کو گزشتہ کچھ عرصے میں ہدفِ تنقید بنایا جس کی وجہ سے وہ شدید تنقید کی زد میں رہے۔
اب کی بار محمد علی مرزا پر الزامات سنگین نوعیت کےہیں، جس میں وہ جلد باہر آتے دکھائی نہیں دیتے۔