اہم خبریںپاکستانجرم و سزا

طاقتور قانون کا غلط استعمال کیسے کرتے ہیں؟

کہا جاتا ہے کہ قانون اندھا ہوتا ہے، مگر پاکستانی حقیقت میں وہ اکثر حیثیت، تعلق اور طاقت کو پہچانتا ہے۔

قانون کی روح انصاف ہے، مگر اس کی عملی صورت اکثر طاقت کے ترازو میں تولی جاتی ہے۔ کاغذ پر سب شہری برابر ہیں، لیکن جب معاملہ تھانے، کچہری یا عدالت تک پہنچتا ہے تو یہ برابری دھندلا جاتی ہے۔

پاکستان میں قانون کا مسئلہ اس کی موجودگی نہیں بلکہ اس کا غیر مساوی استعمال ہے، جس نے قانون کا غلط استعمال کو ایک ساختی مسئلہ بنا دیا ہے۔

قانون اور طاقت کا باہمی تعلق

 

پاکستانی سماج میں قانون کبھی تنہا کام نہیں کرتا، وہ ہمیشہ طاقت کے ساتھ جڑا ہوتا ہے۔ سیاسی اثر و رسوخ، مالی وسائل اور ادارہ جاتی رسائی قانون کو موڑنے کی صلاحیت پیدا کرتے ہیں۔

یہی وجہ ہے کہ ایک ہی قانون مختلف افراد کے لیے مختلف معنی رکھتا ہے۔ طاقتور کے لیے قانون حفاظتی حصار بن جاتا ہے، جبکہ کمزور کے لیے وہی قانون سزا کی پہلی شکل بن جاتا ہے۔

طاقتور کے لیے قانون کی لچک

 

طاقتور طبقہ قانون کو توڑتا نہیں، بلکہ اسے اس طرح استعمال کرتا ہے کہ وہ بظاہر قانونی دائرے میں رہے۔ مقدمات کا اندراج مؤخر کر دیا جاتا ہے، تحقیقات کی رفتار سست پڑ جاتی ہے، اور سماعتیں طویل ہوتی چلی جاتی ہیں۔

یہ سب کچھ قانونی طریقۂ کار کے اندر ہوتا ہے، مگر انصاف اس عمل میں کہیں کھو جاتا ہے۔ یہی وہ مقام ہے جہاں قانون کا غلط استعمال سب سے زیادہ خاموش اور مؤثر شکل اختیار کرتا ہے۔

کمزور کے خلاف قانون بطور سزا

 

پاکستان میں قانون کا سب سے تلخ پہلو اس وقت سامنے آتا ہے جب اسے کمزور کے خلاف استعمال کیا جاتا ہے۔ جھوٹے مقدمات، بے جا گرفتاریاں اور ضمانت میں غیر ضروری تاخیر ایسے ہتھکنڈے ہیں جن کے ذریعے قانون خود سزا بن جاتا ہے۔

اکثر فیصلے آنے سے پہلے ہی متاثرہ فرد سماجی، مالی اور نفسیاتی طور پر ٹوٹ چکا ہوتا ہے۔ اس مرحلے پر انصاف کی فتح محض کاغذی رہ جاتی ہے۔

عدالتی تاخیر: طاقت کا سب سے مؤثر ہتھیار

 

انصاف میں تاخیر پاکستان کے نظام کا ایک مستقل مسئلہ ہے، مگر طاقتور طبقے کے لیے یہ تاخیر ایک حکمتِ عملی بن چکی ہے۔

مقدمہ جتنا لمبا چلتا ہے، کمزور فریق اتنا ہی مایوس ہوتا جاتا ہے۔ وسائل ختم ہو جاتے ہیں، گواہ پیچھے ہٹ جاتے ہیں، اور سچ تھکن ہار جاتا ہے۔ یوں قانون کا غلط استعمال کسی غیر قانونی عمل کے بغیر بھی کامیاب ہو جاتا ہے۔

قانون، خوف اور خاموشی

 

طاقتور طبقہ قانون کو صرف اپنے دفاع کے لیے نہیں بلکہ معاشرتی خوف پیدا کرنے کے لیے بھی استعمال کرتا ہے۔

کسی صحافی، سماجی کارکن یا عام شہری کے خلاف مقدمہ صرف ایک قانونی کارروائی نہیں ہوتا بلکہ ایک واضح پیغام ہوتا ہے کہ مزاحمت کی قیمت ادا کرنی پڑتی ہے۔ اس طرح قانون انصاف کا نہیں بلکہ خاموشی کا محافظ بن جاتا ہے۔

قانون کی غیر جانبداری کا سوال

 

یہ کہا جاتا ہے کہ قانون اندھا ہوتا ہے، مگر پاکستانی حقیقت میں وہ اکثر حیثیت، تعلق اور طاقت کو پہچانتا ہے۔ ایک ہی جرم پر مختلف افراد کے ساتھ مختلف سلوک ہونا اس بات کا ثبوت ہے کہ مسئلہ قانون میں نہیں بلکہ اس کے نفاذ میں ہے۔

جب قانون سب کے لیے یکساں نہ رہے تو وہ انصاف کے بجائے امتیاز کو جنم دیتا ہے۔

اصلاح کا راستہ: قانون سے پہلے احتساب

 

قوانین کی تعداد بڑھانے سے مسئلہ حل نہیں ہوگا جب تک ان پر عمل درآمد کرنے والے خود جواب دہ نہ ہوں۔

شفافیت، تیز انصاف اور ادارہ جاتی نگرانی کے بغیر قانون ایک طاقتور ہتھیار ہی رہے گا۔ اصل اصلاح وہاں سے شروع ہوتی ہے جہاں قانون کے استعمال پر سوال اٹھایا جائے، نہ کہ صرف اس کی خلاف ورزی پر۔

نتیجہ: انصاف طاقت سے بڑا ہونا چاہیے

 

قانون کا مقصد طاقت کو محدود کرنا ہے، نہ کہ اسے تحفظ فراہم کرنا۔ جب قانون طاقتور کے ہاتھ میں آ جائے تو معاشرہ اندر سے کھوکھلا ہونے لگتا ہے۔

اعتماد ٹوٹتا ہے اور انصاف ایک خواب بن جاتا ہے۔ جب تک قانون سب کے لیے برابر استعمال نہیں ہوگا، قانون کا غلط استعمال پاکستان کی ایک تلخ مگر مستقل حقیقت بنا رہے گا۔

 

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button