مخصوص نشستوں کا فیصلہ ، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کا بڑا ایکشن

چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے مخصوص نشستوں کے کیس میں ابہام دور کرنے کی الیکشن کمیشن کی درخواست پر حکم نامہ جاری کرنے کے معاملے پر رجسٹرار سپریم کورٹ سے جواب طلب کر لیا۔
قاضی فائز عیسیٰ کی جانب سے رجسٹرار کو لکھا گیا خط مںظر عام پر آگیا جس میں 9 سوالات اٹھائے گئے۔
1. مذکورہ درخواستیں کب دائر کی گئیں؟
2.مذکورہ درخواستیں سپریم کورٹ (پریکٹس اینڈ پروسیجر) ایکٹ، 2023 کے تحت بنائی گئی کمیٹی کے سامنے کیوں پیش نہیں کی گئیں؟
مخصوص نشستوں کے فیصلے سے متعلق ابہام دور کرنے کی درخواستیں کب دائر ہوئیں؟ کہاں سنی گئیں؟ آرڈر اپلوڈ کرنے کا حکم کس نے دیا؟ چیف جسٹس قاضی فائز عیسی' نے رجسٹرار سے جواب طلب کر لیا pic.twitter.com/uYAB2ED2kw
— Sohail Rashid (@SohailRashid8) September 21, 2024
3.مذکورہ درخواستوں کو سماعت کے لیے کیسے مقرر کیا گیا اور یہ کس طرح بنا کسی وجہ کی فہرست کے جاری کیے بغیر کیا گیا جس میں ان کا تعین ظاہر ہو؟
4. کیارجسٹرار آفس نے فریقین اور اٹارنی جنرل پاکستان کو نوٹس جاری کیے؟
5. مذکورہ درخواستیں کس عدالت/چیمبر میں سنی گئیں اور کس نے سنیں؟
6.مذکورہ حکم کے اعلان کے لیے کاز لسٹ کیوں جاری نہیں کی گئی؟
7.مذکورہ حکم اعلان کے لیے کیوں مقرر نہیں کیا گیا؟
مزید پڑھیں:مخصوص نشستوں کے فیصلےپر عمل نہ کرنے پر سپریم کورٹ کا ایکشن
8.سپریم کورٹ کے دفتر میں اصل فائل اور مذکورہ حکم جمع کیے بغیر مذکورہ حکم ویب سائٹ پر کیسے اپلوڈ کیا گیا؟
9. سپریم کورٹ کی ویب سائٹ پر مذکورہ حکم اپلوڈ کرنے کی ہدایت کس نے دی؟
یاد رہے کہ سپریم کورٹ سے 14 ستمبر کو ایک حکم نامہ جاری ہوا جس میں الیکشن کمیشن کی جانب سے ابہام دور کرنے کی درخواست پر سپریم کورٹ کی جانب سے اس درخواست کو تاخیری حربہ قرار دیا گیا تھا۔
اس کے علاوہ سپریم کورٹ نے فیصلے پر عملدرآمد نہ ہونے کی صورت میں کارروائی کا عندیہ بھی دیا تھا۔
یہ فیصلہ 12 جولائی کو مخصوص نشستوں کے کیس میں اکثریتی فیصلہ سنانے والے 8 ججز کی جانب سے جاری کیا گیا تھا۔ تاہم اب اس معاملے پر چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے وضاحت طلب کر لی ہے۔