اہم خبریں

بطور جج جسٹس یحییٰ آفریدی کے چند اہم فیصلے

آئینی ترمیم کے تحت قائم پارلیمانی کمیٹی نے جسٹس یحییٰ آفریدی کا نام بطور چیف جسٹس فائنل کیا اور اب صدر پاکستان نے ان کے نام کی منظوری دے دی ہے۔ جسٹس یحییٰ آفریدی 26 اکتوبر کو اپنے عہدے کا حلف اٹھائیں گے۔
ان کے حوالے سے کچھ چہ مگوئیاں بھی جاری تھیں کہ شاید جسٹس یحییٰ آفریدی اس عہدے کو قبول کرنے سے انکار کر دیں کیونکہ اس میں سنیارٹی کو روندا جارہا ہے۔ لیکن کورٹ رپورٹرز کے بقول جسٹس یحییٰ اپنا عہدہ سنبھالتے نظر آرہے ہیں۔
اس حوالے سے سینئر کورٹ رپورٹر ثاقب بشیر نے لکھا کہ جسٹس یحییٰ آفریدی 26 اکتوبر کو بطور چیف جسٹس آف پاکستان اپنے عہدے کا حلف اٹھائیں گے ذرائع کے مطابق آنے والے چیف جسٹس کے طور پر سپریم کورٹ کے اندر انہوں نے ایکٹ شروع کر دیا۔
ثاقب بشیر کی اس خبر میں ایکٹ کرنا شروع کر دیا ہے کہ الفاظ ظاہر کرتے ہیں کہ جسٹس یحییٰ آفریدی بطور چیف اپنی ذمہ داریاں سنبھال لیں گے۔
جب بھی کوئی نئے چیف جسٹس عہدہ سنبھالتے ہیں تو ان کےماضی کے فیصلوں کے تناظر میں انکے نئے کردار پر پیشن گوئیاں کی جاتی ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ اب جسٹس آفریدی کو بھی ان پیمانوں پر تولا جانے لگا ہے۔

مزید پڑھیں:جسٹس یحییٰ آفریدی کو بطور چیف جسٹس کیا مشکلات در پیش ہوں گی

صحافی احمد وڑائچ نے ان کے ماضی کے فیصلوں کو نقل کرتے ہوئے لکھا کہ جسٹس یحییٰ آفریدی کے چند اہم فیصلے یہ ہیں۔
پرویز مشرف کیخلاف آئین شکنی کیس میں خصوصی بینچ کے سربراہ رہے، کچھ عرصے بعد الگ ہو گئے ۔ صدارتی ریفرنس میں قاضی فائز عیسیٰ کی درخواست کو مسترد کیا۔ 25مئی لانگ مارچ کیس میں عمران خان کو شوکاز جاری کرنے کی حمایت کی۔
اسی طرح انہوں نے ملٹری کورٹس کیس میں سویلینز کا ٹرائل درست، لیکن 9مئی ملزمان کا ملٹری کورٹ میں ٹرائل غلط قرار دیا۔ پنجاب/خیبر پختونخوا الیکشن کیس میں درخواستیں ہائیکورٹ میں ہونے کی بنا پر خارج کی ۔ پریکٹس اینڈ پروسیجر ایکٹ کو درست قرار دے کر بحال رکھا جبکہ 6ججز کے خط کیس سے خود کو الگ کر لیا

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button