اہم خبریںپاکستان

ہینلے پاسپورٹ انڈیکس، پاکستانی پاسپورٹ 100 ویں نمبر پر آگیا

پاسپورٹ انڈیکس کے مطابق پاکستانی پاسپورٹ کو 32 ممالک میں ویزا فری یا ویزہ آن آرائیول کی سہولت حاصل ہے۔

ہینلے پاسپورٹ انڈیکس دنیا بھر میں سفری آزادی کا ایک معتبر پیمانہ سمجھا جاتا ہے جو کہ مختلف عوامل کی بنیاد پر مختلف ممالک کے پاسپورٹ کی رینکنگ جاری کرتا ہے۔

ہینلے پاسپورٹ انڈیکس 2025 میں پاکستان پاسپورٹ کی پوزیشن میں قدرے بہتری دیکھی گئی ہے جو سفری دستاویزات میں بہتری کی کوششوں کی وجہ سے حاصل ہوئی ہے۔

 

ورلڈپاسپورٹ انڈیکس میں پاکستانی پاسپورٹ کی رینکنگ:

 

ہینلے پاسپورٹ انڈیکس رپورٹ 2025 نے پاکستانی پاسپورٹ کو 100 ویں نمبر پر رینک کیا ہے۔

پاسپورٹ انڈیکس کے مطابق پاکستانی پاسپورٹ کو 32 ممالک میں ویزا فری یا ویزہ آن آرائیول کی سہولت حاصل ہے۔

2024 میں قومی پاسپورٹ کی رینکنگ 101 درجہ تھی جس میں اب بہتری دیکھی گئی ہے۔

سفارتی کوششوں اور تکنیکی بہتری کے باعث پاکستان کے پاسپورٹ کی عالمی رینکنگ میں اضافہ ضرور ہوا ہے لیکن ابھی بھی یہ نمبر100 دنیا کے کمزور ترین پاسپورٹس میں پاکستانی پاسپورٹ کا شمار کرتی ہے۔

اس رپورٹ کے مطابق انڈین پاسپورٹ دنیا بھر میں 82 ویں نمبر پر رینک کر رہا ہے جبکہ بنگلہ دیشی پاسپورٹ بھی پاکستانی پاسپورٹ کی نسبت دو درجے بہتری کے ساتھ 98 ویں نمبر پر موجود ہے۔

ہینلے پاسپورٹ انڈیکس میں 193 ممالک میں ویزہ فری سکور رکھنے والا سنگا پور پہلے نمبر پر موجود ہے۔

جبکہ 190 ممالک میں ویزہ فری سکور ہونے پر جاپان اور ساؤتھ کوریا دوسرے نمبر پر موجود ہیں۔

تیسرے نمبر کیلئے یہ جدو جہد زیادہ دیکھنے کو ملی ہے جس کے تحٹ 189 کا ویزہ فری سکور رکھنے والے ڈنمارک، فن لینڈ، فرانس، جرمنی، آئرلینڈ ، اٹلی اور سپین تیسرے نمبر پر براجمان ہیں۔

 

ہینلے پاسپورٹ انڈیکس کیسے کام کرتا ہے:

 

ہینلے پاسپورٹ انڈیکس دنیا بھر میں پاسپورٹ کی رینکنگ کیلئے سب سے مستند ادارہ مانا جاتا ہے۔

یہ ادارہ یہ جانچتا ہے کہ کونسے ملک کا پاسپورٹ کتنا طاقتور ہے، یعنی کہ پیشگی اجازت کے بغیر اس ملک کے باشندے کتنے ممالک میں داخل ہو سکتے ہیں۔

یہ بین الاقوامی فضائی ٹرانسپورٹ ایسوسی ایشن (IATA) سے حاصل کردہ ڈیٹا پر اپنی رینکنگ تیار کرتا ہے جو کہ دنیا میں سفری معلومات کا سب سے مستند ڈیٹا بیس تصور کیاجاتا ہے۔

 

مزید پڑھیں: نادر کی شناختی کارڈ، فیملی رجسٹریشن سرٹیفکیٹ میں بڑی تبدیلیاں

 

اس انڈیکس کی سکورنگ کا بہت آسان سا طریقہ ہےکہ اگر کوئی شہری ویزہ فری، ویزہ آن آرائیول یا کسی اور الیکٹرانک کے ذریعے داخل ہوسکتا ہے اور اس کیلئے کسی حکومتی پیشگی اجازت کی ضرورت نہ ہو تو اسے ایک پوائنٹ دیا جائے گا۔

لیکن اگر ویزہ ضروری ہو اور اگر ویزہ آن آرائیول بھی ہو اور اس کیلئے پیشگی اجازت درکار ہو تو ایسے میں 0 نمبر ملیں گے۔

اس انڈیکس کی وقعت کو برقرار رکھنے کیلئے چند شرائط مدنظر رکھی جاتی ہیں جس میں یہ دیکھا جاتا ہے کہ پاسپورٹ کا حامل کوئی بالغ، عام شہری ہو جو تنہا سفر کر رہا ہو اور اس کے پاس کوئی    سفارتی یا ہنگامی ویزہ نہ ہو۔

مذکورہ شہری تمام تقاضے پورا کرتا ہو اور مختصر قیام جیسا کہ سیاحت یا کاروباری وجوہات کی بنا پر سفر کر رہا ہو۔

پاکستان میں اب پاسپورٹ کی طلب بہت زیادہ ہو گئی ہے کیونکہ شہریوں کی بڑی تعداد اعلیٰ تعلیم اور بہتر زندگی کے حصول کیلئے بیرون ملک سفر کر رہے ہیں۔

ایسے میں حکومت کو ممکن بنانا چاہیے کہ سفارتی اور دیگر ذرائع سے ایسا ممکن بنایا جائے کہ پاکستانی پاسپورٹ کو دنیا بھر میں قدر کی نگاہ سے دیکھا جائے اور شہریوں کو اس بنیاد پر کہ وہ پاکستان کے شہری ہیں، امتیازی کارروائی نہ برداشت کرنی پڑے۔

 

 

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button