ٍجلدی میں ٹیم بنانے کے ساتھ ہم قذافی سٹیڈیم بھی صحیح سے بنانا بھول گئے
جب پاکستان کرکٹ ٹیم چیمپئنز ٹرافی سے باہر ہوئی تو کئی شائقین نے سوشل میڈیا پر لکھا کہ جلدی جلدی میں سٹیڈیم تو بنا لئے لیکن ٹیم نہ بنا سکے۔

جب پاکستان کرکٹ ٹیم چیمپئنز ٹرافی سے باہر ہوئی تو کئی شائقین نے سوشل میڈیا پر لکھا کہ جلدی جلدی میں سٹیڈیم تو بنا لئے لیکن ٹیم نہ بنا سکے۔
لیکن افسوسناک بات اب پہلی بارش میں سامنے آئی جب پتا چلا کہ ہم تو جلدی میں سٹیڈیم ہی نہ بنا پائے۔
قذافی سٹیڈیم کی تعمیر نو کا پول پہلی بارش میں کھل گیا:
گزشتہ روز سوشل میڈیا پر ویڈیوز وائرل ہونے شروع ہوئیں جس میں دکھایا گیا کہ قذافی سٹیڈیم کے نئے تعمیر شدہ حصے میں ایک ہی بارش سے کارکردگی کا پول کھل گیا ہے۔
اس میں دکھایا گیا کہ واش روم کی چھتوں سے پانی ٹپک رہا ہے جبکہ ایسی ویڈیوز بھی وائرل ہوئیں جہاں سٹاف کو وائپرز کے ذریعے سٹیڈیم سے پانی نکالتے دیکھا جاسکتا ہے۔
یہ ویڈیوز عالمی سطح پر پاکستان کی جگ ہنسائی کا باعث بن رہی ہیں۔
مزید پڑھیں:قومی ٹیم کے چیمپئنز ٹرافی 2025 سے آؤٹ ہونے پر دکانداروں کا بھاری نقصان
جمعے کے روز افغانستان اور آسٹریلیا کے درمیان کھیلے گئے میچ میں افغانستان نے پہلے کھیلتے ہوئے 274 رنز کا ہدف دیا۔ جواباً آسٹریلیا کی ٹیم نے تقریباً 13 اوورز میں 109 رنز بنا لئے تھے کہ بارش کے باعث کھیل کو روکنا پڑا۔
بارش کے بعد گراؤنڈ کی انسپکشن ہوئی اور میچ کو منسوخ کرنا پڑا۔
بارش کے بعد سٹیڈیم سے پانے نکالنے کی ایک ویڈیو وائرل ہوئی جس میں عملے کو وائپرز سے پانی نکالتے دیکھا جاسکتا ہے۔ اس میں تیزی سے پانی نکالتے ہوئے عملے کا ایک فرد پھسل کر گر بھی جاتا ہے۔
اس واقعے کی تصاویر شیئر کرتے ہوئے انڈین کرکٹ پیچ کرک ٹریکر نے مذاق اڑایا۔کچھ شائقین نے پاکستان سے بھی اس پر تنقید کی۔
ایک صارف نے لکھا کہ بارش کے بعد گلیوں سے پانی بہہ گیا لیکن قذافی سٹیڈیم کا پانی خشک نہ ہوسکا۔
منسٹری آف انفارمیشن کی ویڈیوز کی تردید، پراپیگنڈا قرار دے دیا:
منسٹری آف انفارمیشن کے فیکٹ چیکر اکاؤنٹ نے تردید جاری کرتے ہوئے سوشل میڈیا پر وائرل ویڈیو کی تردید کر دی ۔
تردید میں کہا گیا قذافی سٹیڈیم میں واش روم کی چھت ٹپک رہی ہے وہ قذافی سٹڈیم کی نہیں ہیں۔ یہ پراپیگنڈا کیمپین ہے۔
صحافی سلمان درانی نے جیونیوز کی ویڈیو شیئر کرتے ہوئے کہا کہ جیو تو آپ کا اپنا سرکاری چینل ہے، وہ بھی پراپیگنڈا کر رہا ہے؟
پاکستان کی تیاریاں دھری کی دھری رہ گئیں:
گزشتہ سال سے چیمپئنز ٹرافی کے سلسلے میں اچھے انتظامات کرنے کیلئے محنت کی جارہی تھی۔
گراونڈز کی تزئین و آرائش بھی کی جارہی تھی اور کچھ حصے گرا کر دوبارہ بھی بنائے جارہے تھے۔
ریکارڈ مدت میں گراؤنڈ مکمل کرنے کا کریڈٹ تو حکومت نے لے لیا لیکن ایونٹ کی مکمل میزبانی حاصل نہ ہو سکی۔
پاکستان کرکٹ ٹیم کو انڈیا کےمدمقابل ہوم گراؤنڈ پر کھیلنے کا خواب شرمندہ تعبیر نہ ہوسکا۔
دوسری جانب قومی ٹیم بدترین کارکردگی کے باہر ابتدائی مرحلے سے ہی باہر ہو گئی جس نے شائقین کرکٹ کو شدید مایوس کیا۔
لیکن اب بارش نے یہ ثابت کیا کہ ٹیم کے ساتھ جلدی میں سٹیڈیم بھی صحیح سے نہیں بن پائے تھے۔