دنیا

ڈونلڈ ٹرمپ پر حملے کا ملزم پاکستانی

امریکی حکام یا سیاستدانوں کو قتل کرنے کی سازش کا الزام ، امریکی محکمہ انصاف نے پاکستانی شہری آصف رضا کو گرفتار کر لیا۔ ان پر ممکنہ طور پر ایران کی مدد سے اجرتی قاتلوں کے ذریعے امریکی اہم شخصیات کے قتل کی منصوبہ بندی کے سلسلےمیں فرد جرم عائد کی گئی ہے۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق 46 سالہ آصف پر اجرتی قاتلوں کے ذریعے اہم شخصیات کو نشانہ بنانے کا الزام ہے جبکہ سابق وزیراعظم ڈونلڈ ٹرمپ بھی ان کے اہداف میں شامل تھے۔
عدالتی دستاویزات میں انکشاف کیا گیا ہے کہ جس شخص کو آصف رضا کی جانب سے اجرتی قاتل کے طور پر ہائر کرنے کی کوشش کی گئی وہ ایف بی آئی کا خفیہ ایجنٹ نکلا جس کی وجہ سے یہ منصوبہ پکڑا گیا۔
تاہم ڈونلڈ ٹرمپ پر حملے کی منصوبہ بندی کے الزام عائد ہونے کے بعد وائٹ ہاؤس کی ترجمان نے پاکستانی شہری آصف رضاکے سابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ کر انتخابی ریلی کے دوران ہونے والے قاتلانہ حملے میں ملوث ہونے کی تردید کی ہے۔

مزید پڑھیں: ڈونلڈ ٹرمپ پر حملے کا پرچہ صنم جاوید پر

ابتدائی طور پر ٹرمپ پر حملے کو ایک امریکی اخبار نے پاکستان سے جوڑنے کی کوشش کی۔ اگرچہ اس اخبار نے صرف پاکستان سے تعلق ہونے کی بنیاد پر آصف رضا کو ٹرمپ پر حملے کی پلاننگ میں ملوث قرار دیا۔ لیکن تفصیلی خبر میں اس کی تردید کر دی۔
اب محکمہ انصاف اور وائٹ ہاؤس کی تردید کے بعد یہ ثابت ہوا ہے کہ آصف کا ٹرمپ پر حملے کی سازش میں کوئی کردار نہیں تھا۔ تاہم وہ اہم شخصیات کو قتل کرنے کیلئے اجرتی قاتل ہائر کرتے تھے۔
انہیں 12 جولائی کو امریکا چھوڑنے کی تیاری کرتے ہوئے گرفتار کیا گیا تھا ۔ انہوں نے سیاستدانوں کو قتل کرنے کیلئے اجرتی قاتل سے رابطہ کیا جو خفیہ ایجنسی کا ایجنٹ تھا اور یوں آصف کی گرفتاری عمل میں لائی گی۔

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button