اہم خبریں

سید سلمان گیلانی : احترام، تجزیہ اور یاد

سید سلمان گیلانیؔ کی خدمات کو سمجھنے کے لیے اُنہیں صرف حاضر جواب مزاحیہ شاعر  کے خانے میں بند کر دینا علمی ناانصافی ہوگی۔

سید سلمان گیلانی (پیدائش: 7 ستمبر 1951، لاہور) پاکستان کے اُن  چند اہلِ قلم و اہلِ منبر میں شمار ہوتے تھے جنہوں نے نعتیہ ذوق، ادبی شائستگی، سماجی شعور اور مزاح—چاروں کو ایک ہی شخصیت میں جمع کر کے محفلوں کو معنی، وقار اور شگفتگی عطا کی۔

گزشتہ رات لاہور میں طویل علالت کے بعد اُن کا انتقال ہوا۔ وہ کچھ عرصہ شیخ زید ہسپتال میں زیرِ علاج رہے۔

اپنے آخری دنوں میں انکی جانب سے ایک ویڈیو بیان میں اپنے چاہنے والوں سے دعا کی اپیل کی گئی تھی۔

سلمان گیلانی  کی شناخت محض مزاحیہ شاعر کی نہیں رہی؛ نعتیہ کلام اور ختمِ نبوت کے موضوعات کے سبب اُنہیں “شاعرِ ختمِ نبوت” کے لقب سے بھی یاد کیا گیا۔ جبکہ اُن کی “سوز و گداز سے بھرپور آواز” اور دلنشین طرزِ بیان کا ذکر تعزیتی بیانات میں نمایاں رہا۔

سوانحی خاکہ

 

لاہور سے تعلق رکھنے والے سید سلمان گیلانی معروف شاعر، نعت گو اور مزاحیہ شاعری کے ممتاز نام تھے۔ نیز وہ تحریک ختمِ نبوت کے معروف رہنما سید امین گیلانی کے صاحبزادے تھے اور اپنے والد کی طرح دینِ اسلام، نعتِ رسول ﷺ اور سماجی موضوعات میں منفرد اسلوب کے ساتھ شعر کہتے رہے۔

پیشہ ورانہ و ادبی سفر میں وہ  پاکستان اور بیرونِ ملک مشاعروں میں شریک رہے اور نعت و ختمِ نبوت کے موضوع پر اظہارِ خیال کرتے رہے۔ اُن کی شخصیت میں “شائستگی اور شگفتگی” کا امتزاج بطورِ خاص نمایاں سمجھا گیا۔

ادبی و دینی خدمات کا تجزیاتی جائزہ

 

سید سلمان گیلانی کی خدمات کو سمجھنے کے لیے اُنہیں صرف حاضر جواب مزاحیہ شاعر  کے خانے میں بند کر دینا علمی ناانصافی ہوگی۔  اُن کی شخصیت کے کم از کم چار بڑے دائرے واضح کرتا ہے: نعت و دینی شاعری، مزاح و طنز، عوامی خطابت/پبلک اپیئرنس، اور نثر/تصنیف و فکری مباحث۔

نعتیہ روایت میں شرکت اور تقدس پر اصرار

 

دنی اُن کی نعتیہ شناخت اتنی نمایاں تھی کہ “شاعرِ ختمِ نبوت” کے لقب سے یاد کیے گئے۔   اس شناخت کو ایک فکری جہت الشریعہ میں اُن کے مضمون “مروّجہ نعت خوانی اور ہمارے نعت خواں” میں ملتی ہے۔

وہاں وہ نعت خوانی کے تقدس، کلام کے انتخاب، اور مذہبی متن کے احترام پر گفتگو کرتے ہیں۔ خصوصاً وہ اس رجحان پر تنقید کرتے ہیں کہ نعت و حمد کو معروف گانوں کی طرز یا موسیقانہ لے میں پڑھ کر معنی اور ادب کو نقصان پہنچایا جاتا ہے، حتیٰ کہ قرآنی آیات کے ٹکڑوں کو بھی “گانوں کی طرز” پر پڑھا جانے لگا۔

 

شاعری میں طنز و مزاح: روزمرہ کو غزل کی لغت بنانا

 

اُن کی مزاحیہ و طنزیہ شاعری کو “مشاعروں کی جان” قرار دیا اور کہا کہ اُن کا اندازِ بیان شائستگی اور شگفتگی کا حسین امتزاج تھا۔

اگر اُن کے مزاحیہ اسلوب کو متن کی سطح پر دیکھا جائے تو  موجود غزلوں میں روزمرہ کی اشیا/الفاظ (مثلاً موبائل، مس کال، بل، وغیرہ) کو غزل کی روایت میں برتنے کی وہ صلاحیت دکھائی دیتی ہے جو سامع کو ایک ساتھ ہنساتی بھی ہے اور زمانے کے مزاج پر آئینہ بھی رکھتی ہے۔

اسی ذیل میں اُن کی صوتیاتی تکنیک (onomatopoeia) بھی نمایاں ہے؛ جیسے “کھڑ کھڑ، پھڑ پھڑ، بڑ بڑ” کی تکرار سے ایک مکمل منظرنامہ بنتا ہے—یہ محض جگت نہیں بلکہ آوازوں کے ذریعے مزاح کی تشکیل ہے۔

عوامی گفتگو، میڈیا اور محفل: مشاعرہ، پروگرام، صدرات

 

وہ پاکستان کے ساتھ ساتھ بیرونِ ملک بھی مشاعروں میں شریک رہے۔ میڈیا سطح پر  وہ نجی نیوز چینل کے پروگرام “ہنسنا منع ہے” میں بطور مزاحیہ شاعر شریک ہوئے اور اپنے اشعار سے شو میں رنگ بکھیرتے رہے۔

اسی طرح لاہور پریس کلب میں 21 مارچ 2025 کے نعتیہ مشاعرے کی صدارت اُن کے حصہ میں آئی، جو اس امر کی علامت ہے کہ اُنہیں محض سامع نواز شاعر نہیں بلکہ نعتیہ محفل کے معتبر رئیس کے طور پر بھی تسلیم کیا گیا۔

مزید یہ کہ 9 ستمبر 2024 کو لاہور پریس کلب میں “جشن سید سلمان گیلانی” کی تقریب میں مختلف علمی و ادبی شخصیات نے خطاب کیا، اور لیاقت بلوچ نے انہیں “حریت پسند شاعر اور انقلابی شخصیت” کہا۔

تصنیف، یادداشت اور فکری ورثہ

 

اُن کی تصنیف “میری باتیں ہیں یاد رکھنے کی” کو قارئین میں پذیرائی ملی اور اس میں یادداشتیں و مشاہدات شامل ہیں۔

یہ کتاب یادداشتوں پر مبنی ہے اور اس میں متعدد واقعات درج ہیں؛ اسی پس منظر میں اُن کے ایک ادبی اعزاز (نیشنل سیرت ایوارڈ) کا ذکر بھی ملتا ہے۔

منتخب کلام: نمائندہ اشعار و نعتیہ اقتباسات

 

ذیل میں 8 نمائندہ اشعار/نعتیہ مصرعے بطورِ مختصر اقتباس پیش کیے جا رہے ہیں۔ (یہ انتخاب مختصر رکھا گیا جہاں صرف جھلک دکھانا مقصود ہے۔ ان کا کلام باآسانی سرچ کیا جاسکتا ہے۔)

مزاحیہ غزل: جدید زندگی کی لغت

کیوں لیا تھا مرا دل دل مجھے واپس کر دے
چھوڑ یہ روز کی کل کل مجھے واپس کر دے

 

غزل: نام، دعا اور تعلق کی لطافت

اس نے مجھے سلام کیا لام کے بغیر
یہ بد دعا تھی مجھ کو مرے نام کے بغیر

غزل: رشتوں کا اخلاقی قرینہ

تعلقات میں اتنا سا اہتمام تو رکھ
نہ کر تو مجھ سے محبت دعا سلام تو رکھ

غزل: استعارہ—سفینہ، طوفان اور عشق

سفینہ زیست کا طوفان سے نکل آیا
کہ دل ہے عشق کے ہیجان سے نکل آیا

سماجی/مزاحیہ نظم: آوازوں سے بنتا ہوا مزاح

کمرے میں تھی خراٹوں کی کھڑ کھڑ متواتر
سانسیں تری بجتی رہیں پھڑ پھڑ متواتر

منقبت/دینی نظم: حضرت علیؓ کی مدح

بیاں کرے گا کوئی کیا بھلا مقامِ علیؓ
علیؓ نبیؐ کا برادر علیؓ خدا کا ولی

نعتیہ/درودیہ رنگ: درود کو تسکین کا سبب بنانا

دل بے سکوں ہو جب تو نبی پر درود پڑھ
تسکیں کا ہے سبب تو نبی پر درود پڑھ

عوامی و شخصی تعزیتیں

 

سید سلمان گیلانی کی وفات پر حکومتی سطح سے لیکر عام عوام تک سوشل میڈیا تعزیتوں کے بیانات سے بھرا ہے جو یہ ظاہر کرتا ہے کہ سلمان گیلانی نے ہر طبقے کے دل میں اپنی جگہ بنائی۔

مزاح سے لوگوں کے دل لبھانے اور نعتیہ کلام سے دلوں میں گھر کرنے والا سلمان گیلانی منوں مٹی تلے جا سویا۔ تاہم اس کا کلام آج بھی بچے بچے کی زبان پر ہے۔

 

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button