اہم خبریںدنیا

سڈنی حملہ ؛ حملہ آوروں کا تعلق پاکستان سے جوڑنے کا انڈین پلان فلاپ

پولیس نے حملہ آوروں کی شناخت ساجد اکرم اور ان کے بیٹے نوید اکرم کے طور پر کی ہے۔ ساجد موقع پر ہی ہلاک ہو گئے، جبکہ ان کے بیٹے نوید کو پولیس نے زخمی حالت میں گرفتار کیا۔ 

 14 دسمبر 2025 کی شام، سڈنی کے معروف بونڈائی بیچ پر   حنوکاہ (یہودی تہوار) کی تقریب کے دوران ایک بھیانک  فائرنگ حملہ ہوا، جسے پولیس نے یہودیوں کے خلاف دہشت گردانہ حملہ قرار دیا ہے۔ 

سڈنی حملہ کیسے ہوا؟

 

یہ واقعہ شام  کو آرچر پارک کے قریب پیش آیا، جہاں لوگ حنوکاہ کی خوشیاں منارہے تھے۔ دو افراد سر پر کالے کپڑے پہن کر ایک پیدل پل سے نیچے جمع لوگوں پر فائرنگ کرنے لگے۔

عینی شاہدین نے بتایا کہ اس دوران تقریباً 50 سے زیادہ گولیاں فائر کی گئیں اور لوگ چیخیں مارتے ہوئے بھاگنے لگے۔

ایک بہادر شہری نے ایک مسلح حملہ آور سے پسٹل چھین کر اسے بے اثر بھی کیا جبکہ پولیس نے دوسرے حملہ آور کو موقع پر گولی مار کر ہلاک کردیا۔ تفتیشی ٹیم نے حملہ آوروں کی گاڑی سے امکاناً ایمپرووائزڈ دھماکہ خیز آلات (IEDs) بھی برآمد کیے۔

متاثرین اور ہلاکتیں

 

تازہ ترین سرکاری اعداد و شمار کے مطابق،سڈنی حملہ میں 16 افراد ہلاک ہو گئے ہیں، جن میں ایک 10 سالہ بچی بھی شامل ہے، جبکہ 43 سے زائد افراد زخمی ہوئے ہیں۔ ہلاک ہونے والوں کی عمر 10 سے 87 سال کے درمیان ہے، اور متعدد زخمیوں کا تعلق مختلف ملکوں سے بھی بتایا گیا ہے۔

مرنے والوں میں چند معروف شخصیات بھی شامل ہیں، جن میں ایک یہودی رابی (Rabbi)، ایک ہولوکاسٹ بچ جانے والا شخص، فرانسیسی شہری ڈان ایلکایم، اور کچھ مقامی کمیونٹی رہنما شامل ہیں۔

ملزمان کون ہیں؟

 

پولیس نے حملہ آوروں کی شناخت ساجد اکرم اور ان کے بیٹے نوید اکرم کے طور پر کی ہے۔ ساجد موقع پر ہی ہلاک ہو گئے، جبکہ ان کے بیٹے نوید کو پولیس نے زخمی حالت میں گرفتار کیا۔

ساجد کے نام سے کئی قانونی طور پر رجسٹرڈ فائیر آرمز بھی برآمد ہوئے ہیں، اور نوید اس سے پہلے 2019 میں سیکیورٹی ایجنسی ASIO کی نظر میں آچکا تھا، مگر اسے فوری خطرہ قرار نہیں دیا گیا تھا۔ پولیس اب بھی ان کے ممکنہ سہولت کاروں اور دیگر ممکنہ تعلقات کی تحقیقات کر رہی ہے۔

پاکستان سے غلط افواہیں — حقیقت کیا ہے؟

 

سڈنی حملہ کے فوری بعد سوشل میڈیا پر غلط اطلاعات گردش کرنے لگیں, جن میں دعویٰ کیا گیا کہ ملزمان پاکستانی ہیں یا پاکستان اس واقعے سے جڑا ہوا ہے۔

پاکستانی میڈیا کے مطابق انڈین، اسرائیلی اور چند افغانی اکاؤنٹس نے حملہ آوروں کے پاکستان سے ہونے کی خبر چلائی تاہم یہ خبر آسٹریلوی حکام نے رد کر دی۔ یوں بھارتی پراپیگنڈا ناکام ہو گیا۔

یہ دعوے غلط ثابت ہوئے ہیں؛ حکام اور معتبر ذرائع نے واضح کیا ہے کہ کسی بھی ثابت شدہ پاکستانی تعلق کی تصدیق نہیں ہوئی۔ یہ افواہیں محض قیاس آرائیاں تھیں اور ان کا حقیقت سے کوئی تعلق نہیں پایا گیا۔

تحقیقاتی صحافی زاہد گشکوری نے اپنے ایک ٹویٹ میں لکھا "تمام پروپیگنڈا آؤٹ لیٹس اور جعلی خبریں پھیلانے والوں کے لیے جو یہ رپورٹ کرتے رہے کہ سڈنی کے شوٹرز پاکستان سے تھے، اب آسٹریلوی حکام نے سرکاری طور پر تصدیق کی ہے کہ مرکزی حملہ آور آسٹریلیا سے تھا (نوید اکرم آسٹریلیا میں پیدا اور پرورش پانے والا، اور ساجد اکرم 1998 میں سٹوڈنٹ ویزا پر آیا تھا)۔ دونوں آسٹریلوی شہری ہیں جن کا پاکستان سے کوئی تعلق نہیں”

سرکاری ردعمل اور تحفظ

آسٹریلوی وزیر اعظم انٹھونی الیبانیز نے اس واقعے کے بعد اسلحہ قوانین کو مؤثر اور سخت بنانے کا فیصلہ کیا ہے۔ حکومت کی جانب سے مختلف تجاویز زیرِ غور ہیں جن پر جلد عملدرآمد کیا جائے گا۔

سڈنی حملہ ؛ ایشز کرکٹ پر اثر

 

یہ حملہ ایک ایسے  وقت ہوا جب آسٹریلیا اور انگلینڈ کے درمیان ایشز کرکٹ سیریز جاری ہے۔ آئندہ میچ جو کہ 17 دسمبر سے شروع ہوگا کیلئے مزید سیکورٹی سخت کرنے کا فیصلہ کر لیا ہے۔

کیا سڈنی حملہ میں بھارت کا ہاتھ ہے؟

 

ایک طرف جہاں حملہ آوروں کے پاکستانی نہ ہونے کی تصدیق  ہوئی ہے وہیں دوسری طرف حملہ آوروں کے بھارت سے ہونے کی خبریں بھی ہیں۔ پاکستانی میڈیا پر ایسی خبریں دیکھنے کو ملی ہیں، تاہم آسٹریلوی حکومت کی جانب سے ابھی اس امر کی تصدیق یا تردید نہیں کی گئی۔

 

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button