اہم خبریں

سیاسی راہداریوں میں 27 ویں آئینی ترمیم کی گونج، کیا کیا شامل؟

سوشل میڈیا پر اپنے ایک پیغام میں بلاول نے  تصدیق کی کہ وزیر اعظم شہباز شریف نے PPP سے تعاون طلب کیا ہے، اور تجاویز میں آئینی عدالت، ججز کی تبادلے کی سہولت، ایگزیکٹو مجسٹریٹ کی بحالی وغیرہ شامل ہیں۔

اکتوبر 2024 میں منظور کی گئی 26ویں آئینی ترمیم نے عدالتی تقرری کے عمل (خاص طور پر چیف جسٹس کی تقرری) کی ساخت کو تبدیل کیا اور عدالتی کمیشن آف پاکستان (JCP) کے قیام کا انداز بدل دیا۔

اس ترمیم پر تنقید یہ تھی کہ اس سے عدلیہ کی خودمختاری کمزور ہو جائے گی، اور عدلیہ پر سیاسی اثر بڑھ جائے گا، نیز اسے تیزی سے منظور کرنے کا عمل بھی متنازع تھا۔

ایسے حالات میں 27 ویں آئینی ترمیم کے امکان پر گفتگو نے زور پکڑا۔

27 ویں آئینی ترمیم اور دستیاب معلومات:

 

چونکہ کوئی عوامی مسودہ (جو سب کے لیے دستیاب ہو) تسلیم شدہ نہیں ہوا، زیادہ تر بحث قیاس آرائی یا اندرونی لیکس پر مبنی ہے۔ ذیل میں وہ باتیں ہیں جو زیرِ غور ہیں:

ممکنہ عناصر اور تبدیلیاں

 

  • آئینی عدالت کا قیام

    ایک بڑی تجویز یہ ہے کہ ایک آئینی عدالت بنائی جائے، جو آئینی تشریحات کا حتمی فیصلہ کرے۔ اس عدالت کا وجود سپریم کورٹ کی حدود کو کم یا بدل سکتا ہے۔
  • ججز کی تبادلہ کاری اور ہائی کورٹس کا کنٹرول
    آئین کے آرٹیکل 200 میں ترمیم کی بات کی جارہی ہے، جس کے تحت “رضامندی” کا لازمی عنصر ختم کیا جائے۔
    اس کا مطلب یہ ہو سکتا ہے کہ جج کو اُن کی رضامندی کے بغیر تبادلے کا اطلاق ممکن بن جائے۔
  • صدارتی اختیارات / صدارت کی نئی تعریف
    بعض مبصرین کا خیال ہے کہ ترمیم صدارت کے عہدے کی تعریف بدل سکتی ہے — مثلاً زیادہ اختیارات یا نگران کا کردار دینا۔
    اس سے پاکستان کا نظام ایک “ہائبرڈ” یا مخلوط نظام کی طرف جا سکتا ہے جس میں صدر کا کردار مضبوط ہو جائے۔
  • فوجی عدالتوں کا دائرہ شامل کرنا (لیکن انکار)
    حکومت نے سرکاری طور پر ان دعووں کی تردید کی ہے کہ فوجی عدالتوں کو 27ویں ترمیم کا حصہ بنایا جائے گا۔
    البتہ پہلے کے مسودات میں اس تجویز پر غور ہوا تھا، لیکن اسے اہم شراکت داروں کی مخالفت کی وجہ سے خارج کرنے کی اطلاعات ہیں۔
  • مقامی حکومتوں کی اصلاحات اور پہلے ترمیمات کے خلا کو پر کرنا
    ایک زاویہ یہ ہے کہ وہ شقیں جو 26ویں ترمیم میں چھوڑ دی گئیں، انہیں 27ویں میں شامل کیا جائے، جیسے مقامی حکومتوں کا انتظام۔
    کچھ رپورٹیں بتاتی ہیں کہ حکومت 27ویں کو عدلیاتی ڈھانچے کی بہتر ترتیب دینے کی کوشش کے طور پر دیکھتی ہے۔

بلاول کا ٹویٹ اور 27 ویں آئینی ترمیم:

سوشل میڈیا پر اپنے ایک پیغام میں بلاول نے  تصدیق کی کہ وزیر اعظم شہباز شریف نے PPP سے تعاون طلب کیا ہے، اور تجاویز میں آئینی عدالت، ججز کی تبادلے کی سہولت، ایگزیکٹو مجسٹریٹ کی بحالی وغیرہ شامل ہیں۔

مگر پہلے انہوں نے 27ویں کی بات کو بے بنیاد افواہ کہا تھا۔
تنقید کرنے والوں نے سوال اٹھایا کہ کیا ایک ٹویٹ کی بنیاد پر آئین کو تبدیل کرنا چاہیے؟

 

  • سیاسی رابطے اور اتفاق کی کوششیں
    چونکہ آئینی ترمیم کے لیے دونوں ایوانوں میں دو تہائی اکثریت ضروری ہے، حکومت نے مبینہ طور پر اتحادی اور غیر اتحادی جماعتوں سے رابطے شروع کر دیے ہیں۔
    PPP نے حال ہی میں اس بات کی تصدیق کی کہ وہ اس معاملے پر بات چیت کی گئی ہے۔

غیر تصدیق شدہ حقائق / بڑے سوالات

  • ابھی تک عوامی سطح پر کوئی مسودہ شائع نہیں ہوا ہے۔
  • اتحادی جماعتوں کو مکمل بریفنگ نہیں دی گئی — خود پارٹیوں کے اندر بھی غیر یقینی صورتحال ہے۔
  • ترمیم پیش کرنے کا وقت ابھی نامعلوم ہے — کچھ لوگ 2025 کا ذکر کرتے ہیں، بعض کہتے ہیں ابھی بہت زیربحث ہے۔
  • صوبائی اور سینیٹ کی منظوری کا معاملہ پیچیدہ ہے، خاص طور پر اگر وفاقی ڈھانچے سے تجاوز کیا جائے۔
  • طاقت کی تقسیم (صدر بمقابلہ وزیراعظم بمقابلہ عدلیہ) میں کون سی تبدیلی آئے گی، وہ ابھی قیاس آرائی ہے۔

ممکنہ 27 ویں آئینی ترمیم پر ردِ عمل اور تنقید

حزبِ اختلاف، قانونی حلقے، صوبائی ناقدین

  • صوبائی حقوق کا قصور
    بہت سے لوگ27 ویں آئینی ترمیم وفاقی ڈھانچے اور صوبائی خود مختاری پر حملہ سمجھتے ہیں۔
    ایک سابق وزیر نے اسے “خطرناک” کہا۔
    اپوزیشن جماعتوں نے سوال اٹھایا کہ عوام کو کیسے اس کی جانکاری ہو گی؟ “ہم صرف بلاول کے ٹویٹ سے جانتے ہیں؟” جیسی شکایات منظر عام پر آئیں۔
  • عدلیہ کی آزادی پر خدشات
    وکلا اور بار ایسوسی ایشنز خبردار کر رہی ہیں کہ مزید آئینی مداخلتوں سے توازن طاقت کمزور ہو جائے گا اور عدلیہ سیاسی تسلط کی زد میں آ سکتی ہے۔
    بعض نے اسے جمہوری ضمانتوں کی پیچھے دھکیلنے کا عمل قرار دیا۔
  • غیر شفاف عمل اور مشاورت کی کمی
    سب سے زیادہ تنقید یہ ہے کہ کوئی مسودہ یا ڈرافٹ عوامی سطح پر نہیں آیا، اتحادی جماعتیں مکمل طور پر شامل نہیں، اور عام لوگ مشاورت کا حصہ نہیں ہیں۔
    بعض تجزیہ کار یہ دیکھتے ہیں کہ 26ویں کی طرح 27 ویں آئینی ترمیم بھی خاموشی سے منظور کرنے کی کوشِش ہو سکتی ہے۔

حکومت / حمایتی موقف

  • اصلاح کا نعرہ
    حکومت اس کو “نرمی سے بہتر کرنا” کہتی ہے، نہ کہ انقلابی تبدیلی۔
    ان کا مؤقف ہے کہ 27ویں کا مقصد عدلیاتی نظام کی کمزوریوں کو دور کرنا ہے، نہ بنیادی ڈھانچے کو بدلنا۔
  • شدید دعووں کی تردید
    مشیران نے قانونی اور فوجی عدالتوں کے شامل ہونے کی افواہوں کی تردید کی ہے۔
    بعض وزرا نے اسے سوشل میڈیا کی افواہوں کا نتیجہ کہا، خاص طور پر حساس اوقات میں جیسے عاشورہ وغیرہ۔
  • کوئی جماعت چھوڑنا نہیں چاہتے
    چونکہ آئینی ترمیم کے لیے وسیع قبولیت درکار ہے، حکومت مبینہ طور پر اتحادی اور باقی جماعتوں کو شامل کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔

بلاول کا کردار، ٹویٹ اور ضمنی اشارے

بلاول بھٹو زرداری اس بحث کا مرکزی نقطہ بن چکے ہیں — وہ بیانات اور ٹویٹس کے ذریعہ:

  • ابتدا میں بلاول نے 27 ویں آئینی ترمیم کی افواہوں کو بے بنیاد قرار دیا۔
  • مگر بعد میں انہوں نے تسلیم کیا کہ انہیں PML-N کی طرف سے تجاویز دی گئی ہیں، جن میں آئینی عدالت، ججز کی خدمات میں ترمیم، ایگزیکٹو مجسٹریٹ کی بحالی شامل تھیں۔
  • ان کا ٹویٹ اشارہ دیتا ہے کہ 27ویں ترمیم وہ شق بھی تبدیل کرے گی جو افواج کو وفاقی ماتحت بناتی ہے۔
  • تنقیدی حلقے اس “پالٹ ناپالٹ” کو اٹھا رہے ہیں: کیا آئین کی تبدیلی ٹویٹ کی بنیاد پر کی جائے؟

آئندہ کیا دیکھنا ہے

  • مسیودہ کی اشاعت: جب کوئی باضابطہ ڈرافٹ جاری ہوگا، قیاس آرائیاں ختم ہوں گی۔
  • پارلیمانی پیشی: ترمیم کب اور کیسے قومی اسمبلی اور سینیٹ میں پیش کی جائے گی۔
  • صوبائی اور سینیٹ کی حمایت: غیر متفق صوبوں کو قائل کرنا مشکل ہوگا، خاص طور پر اگر وفاقی اختیار بڑھ جائے۔
  • عدالتی چیلنجز: پاکستان کے ماضی میں آئینی ترمیمات عدالتوں میں چیلنج ہوئی ہیں، وہ میدانِ جنگ بن سکتی ہیں۔
  • عوامی بحث و شفافیت: اس عمل کی شفافیت اور عوامی شمولیت اس کی قانونی اور اخلاقی قبولیت کا اصل معیار ہوں گی۔
  • طاقت کی بُنت کا حقیقی اثر: سب سے اہم، نتیجہ یہ ہوگا کہ آیا ترمیم صدارت، وزارتِ اعظم، عدلیہ یا صوبوں کے بیچ طاقت کا توازن بدلتی ہے یا نہیں۔

نتیجہ

 

ابھی کے لیے، 27 ویں آئینی ترمیم ایک مکمل منصوبہ نہیں بلکہ ایک زیرِ غور امکان ہے۔ اس کا دائرہ اور اثر بہت وسیع ہو سکتے ہیں— مگر جب تک کوئی مسودہ سامنے نہ آئے اور سیاسی لائحہِ عمل واضح نہ ہو، یہ بحث نظریاتی اور قیاسی بنیاد پر ہے۔ اگر چاہیں، میں آپ کے لیے نئی دستاویزات اور پیش رفت کا مسلسل جائزہ رکھ سکتا ہوں اور اپ ڈیٹس آپ کو بھیجتا رہوں گا۔

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button