اہم خبریںپاکستان

پنجاب میں اساتذہ کیلئے سیاہ گاؤن لازمی قرار

اس فیصلے کو بعض حلقوں کی جانب سے تدریسی پیشے کے وقار کی بحالی کی کوشش قرار دیا جا رہا ہے، جبکہ کئی اساتذہ اور تعلیمی ماہرین نے اس پر تحفظات کا اظہار بھی کیا ہے۔

پنجاب حکومت کی جانب سے سرکاری اسکولوں میں خدمات انجام دینے والے تمام اساتذہ کو 23 فروری 2026 بروز سوموار  ڈیوٹی اوقات کے دوران سیاہ گاؤن پہننے کی ہدایات جاری کردی گئی ہیں۔

تاہم ان احکامات نے تعلیمی حلقوں میں ایک نئی بحث چھیڑ دی ہے۔

اس فیصلے کو بعض حلقوں کی جانب سے تدریسی پیشے کے وقار کی بحالی کی کوشش قرار دیا جا رہا ہے، جبکہ کئی اساتذہ اور تعلیمی ماہرین نے اس پر تحفظات کا اظہار بھی کیا ہے۔

سرکاری ہدایات کیا ہیں؟

 

محکمۂ اسکول ایجوکیشن پنجاب کی جانب سے جاری کردہ نوٹیفکیشن کے مطابق:

صوبے بھر کے تمام سرکاری اسکولوں میں ڈیوٹی ٹائم کے دوران مرد اور خواتین اساتذہ کیلئے سیاہ گاؤن لازمی قرار دے دیا گیا ہے۔ گاؤن کا ڈیزائن سادہ اور باوقار ہوگا، جو تدریسی پیشے کی نمائندگی کرے گا۔

اس ہدایت پر عملدرآمد فوری طور پر یقینی بنانے کے لیے متعلقہ ضلعی تعلیمی افسران کو احکامات جاری کر دیے گئے ہیں۔ اسکول سربراہان کو پابند کیا گیا ہے کہ وہ اس فیصلے پر مکمل عملدرآمد کی نگرانی کریں۔

اساتذہ کے عمومی ڈریس کوڈ، وقت کی پابندی، حاضری اور پیشہ ورانہ طرزِ عمل کے حوالے سے پہلے سے جاری ضوابط بدستور نافذ العمل رہیں گے۔

محکمہ تعلیم کے بعض افسران کا کہنا ہے کہ اس اقدام کا مقصد اساتذہ کے پیشے کو زیادہ نمایاں اور باوقار بنانا ہے، اور طلبہ میں نظم و ضبط اور احترام کے کلچر کو فروغ دینا ہے۔

حکومت کا مؤقف

 

حکومتی ذرائع کے مطابق سیاہ گاؤن کو تدریسی پیشے کی علامت سمجھا جاتا ہے، جیسا کہ جامعات میں اساتذہ اور طلبہ کانووکیشن کے موقع پر پہنتے ہیں۔ حکام کا کہنا ہے کہ اس فیصلے سے اسکولوں میں پیشہ ورانہ ماحول کو فروغ ملے گا اور اساتذہ کی ایک الگ اور واضح شناخت قائم ہوگی۔

بعض حکام نے یہ بھی مؤقف اختیار کیا کہ دیگر پیشوں کی طرح تدریس کے شعبے میں بھی مخصوص شناخت ہونی چاہیے، اور یہ قدم اسی سلسلے کی ایک کڑی ہے۔

اساتذہ کا ردِعمل

 

اساتذہ کیلئے سیاہ گاؤن لازمی قرار دیئے جانے کے حکم نامے پر اساتذہ نے ملا جلا رد عمل دیا۔

 

کچھ اساتذہ نے حکومت کے اقدام کو سراہا تاہم 23 فروری کی ڈیڈ لائن پر اعتراض کیا۔ اساتذہ کا کہنا تھا کہ اتنے قلیل وقت میں اساتذہ کیلئے اتنے بڑے پیمانے پر گاؤن کا انتظام مشکل ہو جائے گا۔ اساتذہ نے وزیر تعلیم سے گزارش کی کہ وہ دورانیہ بڑھائیں۔

چند اساتذہ نے مانگ کی کہ گاؤن حکومتی سطح پر فراہم کئے جائیں یا اساتذہ کی تنخواہوں میں گاؤن الاؤنس بھی شامل کیا جائے۔

دوسری جانب کئی اساتذہ نے خدشات ظاہر کیے ہیں جن میں ان کا کہنا تھا کہ شدید گرمی کے موسم میں سیاہ گاؤن پہننا عملی طور پر مشکل ہوگا۔

کچھ اساتذہ تنظیموں نے مطالبہ کیا ہے کہ اس طرح کے فیصلوں سے قبل اساتذہ سے مشاورت کی جانی چاہیے تھی، تاکہ زمینی حقائق کو مدنظر رکھا جا سکے۔

تعلیمی ماہرین کی رائے

 

تعلیمی ماہرین کا کہنا ہے کہ کسی بھی اصلاحی اقدام کی کامیابی کا انحصار اس بات پر ہوتا ہے کہ وہ کتنی جامع منصوبہ بندی اور مشاورت کے ساتھ کیا گیا ہے۔ ان کے مطابق ڈریس کوڈ متعارف کروانا بذاتِ خود منفی اقدام نہیں، تاہم اس کے عملی پہلوؤں، موسمی حالات اور اساتذہ کی سہولت کو مدنظر رکھنا ضروری ہے۔

بعض ماہرین کا خیال ہے کہ اگر حکومت اس کے ساتھ ساتھ اسکولوں کے انفراسٹرکچر، تربیت اور تعلیمی معیار کی بہتری پر بھی توجہ دے تو اس اقدام کو زیادہ مثبت انداز میں دیکھا جا سکتا ہے۔

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button