کھیل

پی ایس ایل ٹیموں میں مزید دو ٹیمز کا اضافہ متوقع

آٹھ ٹیموں تک توسیع کا مقصد لیگ کی تجارتی کشش بڑھانا ہے، جس سے اسے اسپانسرز، براڈکاسٹرز اور سرمایہ کاروں کے لیے مزید پرکشش بنایا جا سکے۔

پاکستان کرکٹ بورڈ (پی سی بی) نے پاکستان سپر لیگ (پی ایس ایل) میں توسیع کا باضابطہ آغاز کر دیا ہے اور 2026 کے سیزن سے دو نئی ٹیمیں شامل کرنے کا منصوبہ بنایا ہے۔ یہ ایک بڑی ساختی تبدیلی ہوگی: 2025 کا سیزن چھ ٹیموں کے ساتھ آخری ایڈیشن ہوگا، اور لیگ کو آٹھ ٹیموں تک بڑھایا جائے گا۔

یہ توسیع ایک اہم وقت پر سامنے آئی ہے۔ موجودہ چھ فرنچائزز کے دس سالہ لیز معاہدے 2025 میں ختم ہو رہے ہیں، اور پی سی بی اپنے تجارتی اثاثوں کی آزادانہ ویلیوایشن مکمل کر چکا ہے، جو فرنچائز کی تجدید اور نئی ٹیموں کے حقوق کے لیے راستہ ہموار کرتا ہے۔

پی ایس ایل کے سی ای او سلمان ناصر نے اس نئے مرحلے پر بھرپور جوش کا اظہار کیا ہے اور بتایا ہے کہ ممکنہ بولی دہندگان میں پہلے ہی ”بہت زیادہ دلچسپی‘‘ موجود ہے۔

انہوں نے یہ بھی انکشاف کیا کہ بورڈ سنجیدگی سے چھ میزبان شہروں تک توسیع پر غور کر رہا ہے، جن میں فیصل آباد اور پشاور شامل ہیں۔

پی ایس ایل ٹیموں میں اضافہ؛ ممکنہ شہروں کی فہرست

 

دو نئی فرنچائزز کے مقام کے تعین کے لیے پی سی بی نے چھ شہروں کی فہرست مختصر کی ہے:

  1. حیدرآباد
  2. راولپنڈی
  3. فیصل آباد
  4. گلگت
  5. مظفرآباد
  6. سیالکوٹ

یہ فہرست نئی ٹیموں کی ویلیوایشن رپورٹس موصول ہونے کے بعد جاری کی گئی۔  ملکیت کے حقوق کے لیے ٹینڈر کا عمل بھی جلد شروع ہو رہا ہے: نومبر 2025 کے وسط میں پی سی بی نے دلچسپی رکھنے والے اداروں کے لیے رہنما اصول جاری کیے، جبکہ تکنیکی تجاویز جمع کرانے کی آخری تاریخ 15 دسمبر 2025 مقرر کی۔

پی سی بی کا موقف اور وجوہات

تجارتی اور مسابقتی ترقی

 

  • پی سی بی اس توسیع کو پی ایس ایل کے آغاز کے بعد سب سے ’’بڑی‘‘ تبدیلی قرار دے رہا ہے، نہ صرف ٹیموں بلکہ جغرافیائی دائرہ کار کے لحاظ سے بھی۔
  • آٹھ ٹیموں تک توسیع کا مقصد لیگ کی تجارتی کشش بڑھانا ہے، جس سے اسے اسپانسرز، براڈکاسٹرز اور سرمایہ کاروں کے لیے مزید پرکشش بنایا جا سکے۔
  • موجودہ فرنچائزز کی ویلیوایشن EY MENA کے ذریعے آزادانہ طور پر کرائی گئی، جس کے بعد فرنچائز مالکان کو نئی ویلیوز کو قبول کرنے یا باہر ہونے کے لیے تجدیدی خطوط بھیجے گئے۔
  • شفافیت کو یقینی بنانے کے لیے پی سی بی فرنچائز مالکان اور ویلیوایٹرز کے درمیان اجتماعی اور انفرادی ملاقاتیں کروا رہا ہے تاکہ تمام اسٹیک ہولڈرز عمل کو واضح طور پر سمجھ سکیں۔

پی ایس ایل میچز کے وینیوز میں بھی اضافہ متوقع

 

  • پی سی بی آئندہ سیزن میں پی ایس ایل کے میچز چھ مقامات پر کروانے کی کوشش کر رہا ہے، جن میں فیصل آباد اور پشاور نمایاں ہیں۔
  • پشاور کا عمران خان اسٹیڈیم (سابقہ ارباب نیاز اسٹیڈیم) ’’تقریباً تیار‘‘ ہے، البتہ آخری اپگریڈز اور طویل المدتی لیز معاہدہ ضروری ہے تاکہ پی سی بی پائیدار سرمایہ کاری کر سکے۔
  • مقامات میں اضافہ لیگ کی رسائی اور مختلف علاقوں میں مداحوں کی شمولیت کو مضبوط بنانے کی حکمت عملی کا حصہ ہے۔

تحفظات اور مزاحمت: فرنچائز مالکان کا ردعمل

 

پی سی بی کی خوش امیدی کے باوجود تمام اسٹیک ہولڈرز متفق نہیں۔ کئی موجودہ فرنچائز مالکان نے منصوبے کی کھل کر مخالفت کی ہے۔

ان کے دلائل میں شامل ہیں:

  1. مالی خطرات اور عدم استحکام
    • مالکان کا خدشہ ہے کہ دو نئی ٹیموں کا اضافہ لیگ کے مالی ماڈل کو غیر مستحکم کر سکتا ہے۔
    • ان کے مطابق پہلے موجودہ چھ فرنچائزز کو مستحکم کرنا ضروری ہے، تاکہ طویل مدتی مالیاتی مسائل حل ہوں۔
  2. شیڈولنگ اور کیلنڈر کے مسائل
    • پی ایس ایل پہلے ہی دیگر لیگوں اور بین الاقوامی کرکٹ سے مقابلہ کرتی ہے۔ زیادہ ٹیمیں شیڈول کو مزید پیچیدہ بنا سکتی ہیں۔
    • کھلاڑیوں کی دستیابی بھی ایک مسئلہ ہے: ٹیموں میں اضافے سے اسکواڈز کا معیار متاثر ہو سکتا ہے۔
  3. ویلیوایشن کی شفافیت
    • کوئٹہ گلیڈی ایٹرز کے مالک ندیم عمر نے اعتراض اٹھایا کہ موجودہ ٹیموں کی ویلیوایشن رپورٹ مکمل طور پر شیئر نہیں کی گئی۔
    • انہوں نے اور دیگر مالکان نے ویلیوایشن کے طریقہ کار میں زیادہ شفافیت کا مطالبہ کیا۔
  4. کرنسی کی ترجیح
    • کچھ مالکان نے تجویز دی کہ مستقبل کی مالیاتی لین دین (خصوصاً فرنچائز فیس) امریکی ڈالر کے بجائے پاکستانی روپے میں کی جائے تاکہ کرنسی رسک سے بچا جا سکے۔

پی سی بی کے جوابی دلائل اور اقدامات

پی سی بی نے کچھ تحفظات کو دور کرنے کی کوشش کی ہے:

  • معروف تھرڈ پارٹی ویلیوایٹر (EY MENA) کی خدمات لے کر غیر جانبداری کا مظاہرہ کیا جا رہا ہے۔
  • انفرادی اور اجتماعی ملاقاتوں کے ذریعے فرنچائز مالکان کو ویلیوایشن کی تفصیلات جانچنے کا موقع دیا جا رہا ہے۔
  • شفاف اور منظم ٹائم لائن (مثلاً 15 دسمبر کی آخری تاریخ) کا اعلان کرکے غیر واضح یا اچانک فیصلوں کے خدشات کم کیے جا رہے ہیں۔
  • پشاور اسٹیڈیم کی اپگریڈیشن میں سرمایہ کاری اس بات کا اشارہ ہے کہ پی سی بی انفراسٹرکچر کو بہتر بنانے پر سنجیدہ ہے۔

آئندہ اہم مراحل

  1. بولیوں کی آخری تاریخ:
    دو نئی فرنچائزز کے لیے تکنیکی تجاویز 15 دسمبر 2025 تک جمع کرانا ہوں گی۔
  2. ویلیوایشن کی شفافیت:
    پی سی بی فرنچائز مالکان اور EY MENA کے درمیان ملاقاتیں جاری رکھے ہوئے ہے۔
  3. نئی فرنچائزز کے انتخاب کا عمل:
    بولیوں کے جائزے کے بعد چھ مختصر فہرست والے شہروں میں سے دو کے لیے حقوق دیے جائیں گے۔
  4. مقامات کی تیاری:
    – پشاور کے عمران خان اسٹیڈیم کی آخری اپگریڈز ضروری ہیں۔
    – فیصل آباد کو بھی میزبان شہر بنانے کی کوشش جاری ہے۔
  5. 2026 سے لیگ کی نئی ساخت:
    – پی ایس ایل میں آٹھ ٹیمیں شامل ہوں گی۔
    – کھلاڑیوں کی بھرتی کے نظام میں ممکنہ تبدیلی (مثلاً ڈرافٹ سے نیلامی کی طرف) پر بھی غور جاری ہے۔
  6. فرنچائزز کی تجدید:
    موجودہ چھ فرنچائزز کو نئے دس سالہ سائیکل کے لیے تجدیدی پیشکشیں موصول ہو چکی ہیں۔

نتیجہ

پی ایس ایل ٹیموں میں دو نئی فرنچائزز کے اضافے پر جاری بحث لیگ کی ترقی کے لیے انتہائی اہم موڑ ہے۔ ایک طرف پی سی بی کا وژن وسیع ہے: زیادہ قومی نمائندگی، زیادہ تجارتی قدر، اور زیادہ مسابقت۔ دوسری طرف موجودہ فرنچائز مالکان کے جائز تحفظات ہیں: مالی خطرات، شیڈولنگ مسائل، ویلیوایشن کی شفافیت اور کرنسی کے اتار چڑھاؤ کے خدشات۔

پی سی بی نے ٹینڈر کے منظم عمل، آزادانہ ویلیوایشن اور اسٹیک ہولڈر انگیجمنٹ کے ذریعے ان خدشات کو کم کرنے کی کوشش کی ہے۔ تاہم توسیع کی کامیابی اس پر منحصر ہوگی کہ نئی فرنچائزز کے لیے مضبوط سرمایہ کار ملتے ہیں یا نہیں، انفراسٹرکچر کتنا ساتھ دیتا ہے، اور لیگ کس طرح توسیع اور معیار میں توازن برقرار رکھتی ہے۔

اگر یہ عمل درست طریقے سے ہوا تو دو نئی ٹیموں کا اضافہ پی ایس ایل کو زیادہ جامع، زیادہ مضبوط اور زیادہ نمائندہ لیگ بنا سکتا ہے۔ لیکن اگر اسے غلط طریقے سے سنبھالا گیا تو یہ لیگ کے وسائل پر بوجھ ڈال سکتا ہے اور اہم اسٹیک ہولڈرز کو ناراض کر سکتا ہے۔

 

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button