اہم خبریںدنیا

پروفیسر فرانسس بوئل کی موت اور مبینہ سازش: حقائق کیا ہیں؟

سوشل میڈیا پر وائرل ہونے والی خبروں میں یہ دعویٰ کیا جارہا ہے کہ پروفیسر بوئل کووڈ -19 ویکسینز سے متعلق عدالت میں گواہی دینے والی تھی جس کی وجہ سے انکی اچانک موت ہوئی، یعنی انہیں قتل کیا گیا۔

سوشل میڈیا پر وائرل ہونے والی چند پوسٹ میں معروف بین الاقوامی قانون دان پروفیسر فرانسس بوئل کی موت کو ایک سازش کے ساتھ جوڑ کر قتل قرار دیا جارہا ہے۔

گزشتہ سال 30 جنوری کو وفات پانے والے فرانسس بوئل کی موت کو ایک سال بعد قتل سے جوڑنے کی پیچھے کیا وجوہات ہیں اور یہ کس حد تک درست ہیں یہی جاننے کی کوشش کرتے ہیں۔

پروفیسر فرانسس بوئل کون تھے؟

 

پروفیسر فرانسس بوئل امریکہ کی یونیورسٹی آف الینوائے کالج آف لاء میں گزشتہ 47 سال سے تدریس کے فرائض سرا انجام دے رہے تھے ۔

وہ انسانی حقوق کے علمبردار اور ممتاز قانون دان بھی تھے۔ انہوں نے 1989 میں امریکن بائیولوجیکل ویپنز اینٹی ٹیرارزم ایکٹ(Biological Weapons Anti-Terrorism Act of 1989) کی تیاری میں بھی اہم کردار ادا کیا تھا۔

پروفیسر بوئل کی موت سے متعلق کیا پوسٹ وائرل ہے؟

 

سوشل میڈیا پر وائرل ہونے والی خبروں میں یہ دعویٰ کیا جارہا ہے کہ پروفیسر بوئل کووڈ -19 ویکسینز سے متعلق عدالت میں گواہی دینے والی تھی جس کی وجہ سے انکی اچانک موت ہوئی، یعنی انہیں قتل کیا گیا۔

ان پوسٹ میں دعویٰ کیا گیا کہ ایم آر این اے ویکسینز حیاتیاتی ہتھیاروں کے پروگرام کا حصہ تھی جس کا مقصد آبادی میں کمی لانا اور سنگین بیماریوں کا پھیلاؤ ہے۔ اس سازش میں عالمی اداروں اور چند مشہور شخصیات کو بھی ملوث قرار دیا جارہا ہے۔

ان رپورٹس میں ایک ڈچ عدالتی مقدمے کا حوالہ بھی دیا جارہا ہے جسے ان کی موت کی وجہ قرار دیا جارہا ہے۔

دعوؤں میں کتنی صداقت ہے؟

 

تحقیق سے ثابت ہوتا ہے کہ جس مقدمے کو وجہ بنا کر پروفیسر بوئل کی وفات کو قتل قرار دیا جارہا ہے وہ جولائی 2025 کا مقدمہ ہے جبکہ پروفیسر فرانسس تو جنوری 2025 میں ہی وفات پا چکے تھے۔ یعنیٰ جس مقدمے کو ان کی موت کی وجہ قرار دیا جارہا ہے وہ ان کی موت کی وقت موجود ہی نہیں تھا۔ اس لئے ان دعوؤں کو محض ایک سازشی تھیوری قرار دیا جارہا ہے۔

اسی طرح اگر یہ بات کسی اور مقدمے سے جوڑ بھی دی جائے تو تب بھی پروفیسر بوئل کی موت کو قتل  سے نہیں جوڑا جا سکتا کیونکہ وہ ایک قانون دان تھے اور طبی، سائنسی یا حیاتیاتی معاملات پر ان کی گواہی کو عدالت میں معتبر ہی تسلیم نہ کیا جاتا۔ ایسے میں جب ان کی گواہی اہمیت ہی نہیں رکھتی تو انہیں قتل کئے جانے کا جواز بھی ختم ہو جاتا ہے۔

حقیقت کیا ہے؟

 

پروفیسر فرانسس کی موت طبعی طور ہر ہسپتال میں ہوئی جس میں اہل خانہ یا قانون نافذ کرنے والے اداروں کی جانب سے کسی مشکوک عمل کو رپورٹ نہیں کیا گیا۔

اسی طرح کسی تحقیقاتی صحافی کی جانب سے بھی ایسی رپورٹ ثبوتوں کے ساتھ منظر عام پر نہیں لائی گئی۔

اسی طرح جو ٹائم لائن سوشل میڈیا پوسٹ پر دی جارہی ہے وہ قابل قبول نہیں کیونکہ یہ مقدمہ ہی ان کی وفات کے بعد کا بتایا جارہا ہے۔

نتیجہ

 

اس وقت بحث یہ نہیں کہ کووڈ ویکسین میں ایسے عوامل شامل تھے یا نہیں جس کے بنا پر اس نتیجے پر پہنچا جائے کہ یہ کسی سازش کا حصہ تھا یا نہیں۔ اس وقت بحث پروفیسر فرانسس بوئل کی موت کو اس مقدمے سے جوڑنے کی ہے جو حقیقت سے تعلق نہیں رکھتی۔

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button