
قومی ایئر لائن پی آئی اے کو 135 ارب روپے میں نجی کنسورشیم (عارف حبیب ) کو فروخت کر دیا گیاہے۔ حکومت اسے معیشت کی بحالی کیلئے اہم اقدام قرار دے رہی ہے۔
تاریخی پس منظر اور نجکاری کی کوششیں
پی آئی اے کئی دہائیوں سے مالی خسارے، ناقص انتظام، سیاسی مداخلت اور زیادہ عملے کی وجہ سے بُری طرح دباؤ میں رہی۔
گذشتہ سال حکومت نے پہلی بار نجکاری کی کوشش کی، لیکن ایک بھی مناسب بولی موصول نہ ہوئی جس کی وجہ سے وہ منصوبہ ناکام ہو گیا۔
مزید تیاریاں اور قرض کا ڈھانچہ
حکومت نے پی آئی اے کے بڑے حصے کے قرض اور ذمہ داریاں ایک علیحدہ ہولڈنگ کمپنی میں منتقل کر دیں تاکہ ائیر لائن کو زیادہ قابلِ فروخت بنایا جائے۔
بولی اور فروخت کا عمل
شفاف نیلامی
23 دسمبر 2025 کو اسلام آباد میں براہِ راست ٹیلی وژن پر بولی کی گئی جس میں تین بولی دہندگان شریک تھے:
- عارف حبیب کنسورشیم
- لکی سیمنٹ کنسورشیم
- ایئر بلیو گروپ
بولیوں کے دوران عارف حبیب کنسورشیم نے سب سے زیادہ 135 ارب روپے کی بولی دی، جو حکومت کے ابتدائی قیمت 100 ارب سے بہت زیادہ تھی۔
لکی سیمنٹ نے 134 ارب کی بولی دی، جبکہ ایئر بلیو کی بولی صرف 26.5 ارب رہی۔
فروخت کا ڈھانچہ
- 75 فیصد حصص فروخت کیے گئے۔
- 92.5 فیصد رقم (تقریباً 124.8 ارب) ائیر لائن میں ری انویسٹمنٹ کے طور پر مختص ہے۔
- 7.5 فیصد رقم (تقریباً 10.1 ارب) حکومت کو براہِ راست نقد رقم کے طور پر ملے گی۔
- حکومت 25 فیصد حصہ اب بھی برقرار رکھے گی۔
قومی ایئر لائن کا فروخت اور حکومت کا مؤقف
حکومت کا کہنا ہے کہ یہ طریقہ کار شفاف اور مقابلہ آمیز تھا، اور نجکاری کے ذریعے قومی خسارے کو کم کر کے پی آئی اے کی نئی شروعات ممکن بنائی جائے گی۔
ان کا دعویٰ ہے کہ نجکاری سے نہ صرف خسارے کم ہوں گے بلکہ ائیر لائن کو مالی طور پر مضبوط بنانے میں مدد ملے گی۔
تنقید اور خدشات
1. اصل رقم بہت کم ہے
اگرچہ 135 ارب کی رقم متاثر کن لگتی ہے، لیکن اس میں سے محض تقریباً 10 ارب ملک کو فوری نقد کے طور پر مل رہے ہیں، جبکہ باقی رقم ائیر لائن میں خرچ ہو گی۔ اس لیے تنقید ہے کہ اصل بیچنے کی رقم بہت کم ہے۔
2. قرض اور مالیاتی ذمہ داریاں برقرار
پی آئی اے کے بڑے قرض اور مالیاتی ذمہ داریاں حکومت نے علیحدہ کمپنی میں منتقل کی ہیں، جس کا بوجھ وہی اٹھائے گی۔ تنقید ہے کہ اس طرح حقیقت میں حکومت نے بڑے نقصانات کو ختم نہیں کیا بلکہ صرف بیلنس شیٹ کو ہموار کیا۔
3. منافع بخش اور دیرینہ مسائل
پی آئی اے کے دیرینہ مسائل جیسے سیاسی مداخلت، انتظامی کمزوریاں اور بھاری عملہ صرف نجکاری سے حل نہیں ہو سکتے، ان مسائل پر مکمل اصلاحات کی ضرورت ہے۔
4. حقیقی فوائد پر سوالات
ماہرین کا کہنا ہے قومی ایئر لائن کی فروخت سے حکومت کو جو فوری فائدہ ہونا چاہیے تھا، وہ بہت محدود رہا ہے، اور بڑے نتائج کے لیے شاید مزید وقت درکار ہوگا۔
مستقبل کا منظر
نئی ملکیت اپریل 2026 سے ائیر لائن کا انتظام شروع کرے گی، بشرطِیکہ حتمی منظوری اور قانونی تقاضے پورے ہوجائیں۔
کنسورشیم کو پی آئی اے میں اگلے پانچ سال میں اضافی سرمایہ کاری کرنی ہوگی تاکہ وہ آپریشن کو بہتر بنا سکے۔
اختتامی جائزہ
یہ فروخت پی آئی اے کی تاریخ میں ایک اہم قدم ہے، لیکن اس کے ڈھانچے اور نتائج پر تنقید بھی موجود ہے۔کئی مبصرین کا کہنا ہے کہ یہ محض ایک “نمائیندہ فروخت” ہے، حقیقی مالی اور انتظامی اصلاحات اب بھی درکار ہیں تاکہ پی آئی اے کو حقیقی معنوں میں مستحکم اور منافع بخش قومی ائیر لائن بنایا جا سکے۔



