ریزیومے بنانے کا طریقہ ؛ پروفیشنل ریزیومے کیسے تیار کریں؟
یونیورسٹی آف مشی گن کے کیریئر سینٹر کے مطابق آجکل بھرتی کرنے والے عموماً ریزیومے کو صرف 30 سے 60 سیکنڈ تک دیکھتے ہیں؛ اس لیے ریزیومے کو جامع اور مختصر بنانا ضروری ہے۔

پیشہ ورانہ زندگی میں پہلا تاثر عموماً ریزیومے سے قائم ہوتا ہے۔ ایک اچھا ریزیومے آپ کے تعلیمی پس منظر، ہنر اور تجربات کو مختصر لیکن مؤثر انداز میں پیش کرتا ہے، تاکہ بھرتی کرنے والے اسے چند سیکنڈ میں دیکھ کر یہ اندازہ لگا سکیں کہ آپ اس عہدے کیلئے موزوں ہیں۔
یونیورسٹی آف مشی گن کے کیریئر سینٹر کے مطابق آجکل بھرتی کرنے والے عموماً ریزیومے کو صرف 30 سے 60 سیکنڈ تک دیکھتے ہیں؛ اس لیے ریزیومے کو جامع اور مختصر بنانا ضروری ہے۔
اس تحریر میں ہم ریزیومے بنانے کا طریقہ، اس کی اقسام، بنیادی حصے، تحریری اور فارمیٹنگ سے متعلق تجاویز اور عام غلطیوں کے بارے میں تفصیلاً بات کریں گے۔
ریزیومے کی اقسام
یونیورسٹی آف وسکانسن – میڈیسن کے رائٹنگ سینٹر کے مطابق ریزیومے کی تین اقسام ہوتی ہیں:
| قسم | خصوصیات |
|---|---|
| کرونولوجیکل (Chronological) | یہ سب سے زیادہ استعمال ہونے والی قسم ہے۔ تجربات کو الٹی ترتیب میں لکھا جاتا ہے یعنی موجودہ یا آخری نوکری پہلے، پھر اس سے پچھلی، اور یوں سلسلہ چلتا ہے۔ |
| سکل بیسڈ (Skills‑based) | اس میں سیکشنز خاص مہارتوں پر مبنی ہوتے ہیں۔ مثلاً آپ تدریسی عہدے کیلئے درخواست دے رہے ہیں اور آپ کے پاس مختلف قسم کا تجربہ ہے تو آپ “Teaching Experience” اور “Other Work Experience” جیسے سیکشن بنا سکتے ہیں۔ یہ طریقہ اُن امیدواروں کیلئے مفید ہے جن کا سابقہ تجربہ نئی ملازمت سے براہِ راست مطابقت نہیں رکھتا۔ |
| کمبی نیشن | یہ دونوں اقسام کا امتزاج ہے؛ سیکشنز بعض مہارتوں کے نام پر مبنی ہوتے ہیں لیکن ہر سیکشن کے اندر تجربات کرونولوجیکل ترتیب میں درج کیے جاتے ہیں۔ |
بنیادی حصے: کن چیزوں کا شامل کرنا ضروری ہے؟
لازمی سیکشنز
رابطے کی معلومات – ریزیومے کے بالائی حصے میں آپ کا نام، فون نمبر، ای میل اور پتہ شامل ہونا چاہیے۔ پاکستان کے بعض لوگ قومی شناختی کارڈ نمبر، والد کا نام یا مذہب بھی شامل کر دیتے ہیں؛ یہ نہ صرف غیر ضروری ہے بلکہ پیشہ ورانہ معیارات کے خلاف بھی ہے۔ پاکستانی رہنمائی ویب سائٹ کے مطابق ذاتی معلومات صرف نام، فون نمبر، ای میل اور شہر تک محدود رکھیں اور شناختی کارڈ، والد کا نام، مذہب یا ازدواجی حیثیت شامل نہ کریں۔
تعلیم – یونیورسٹی، ڈگری، تخصص (major) اور متوقع یا مکمل ہونے کا سال لکھیں۔ جی پی اے صرف تب شامل کریں جب وہ متاثر کن (عام طور پر 3.4 یا اس سے اوپر) ہو۔
تجربۂ کار – یہ ریزیومے کا مرکزی حصہ ہے۔ ہر تجربے میں عہدہ، ادارہ، کام کی مدت اور جگہ لکھیں، پھر فعال افعال (action verbs) استعمال کرتے ہوئے دو سے تین مختصر جملوں میں اپنے فرائض اور کارنامے بیان کریں۔ اگر آپ حالیہ عہدے کا ذکر کر رہے ہیں تو جملے حالیہ زمانے میں، جبکہ سابقہ عہدوں کے لئے ماضی کے زمانے میں لکھیں۔
اعزازات اور انعامات – اگر آپ کو کسی متعلقہ شعبے میں ایوارڈ ملا ہے تو اس سیکشن میں اس کا نام اور سال درج کریں۔
اختیاری سیکشنز
دیگر تجربات – کمیونٹی سروس، رضاکارانہ سرگرمیوں یا ایسی غیر ملازمت سرگرمیوں کا ذکر کریں جو اس عہدے سے متعلق ہوں۔
مقصد/پروفائل – چند لائنوں پر مشتمل خلاصہ جو آپ کے اہداف اور مناسبیت کو ظاہر کرے۔ کچھ ماہرین اسے ضروری نہیں سمجھتے، اس لئے اپنے شعبے کے ماہرین سے مشورہ ضرور لیں۔
زبانیں – آپ کی زبان دانی کی فہرست اور مہارت کی سطح (مثلاً ’ابتدائی‘، ’اوسط‘، ’فصیح‘) ۔
ٹیکنیکل ہنر – متعلقہ سافٹ ویئر یا تکنیکی مہارتیں بلٹ پوائنٹس یا کوموں کے ذریعے بیان کریں۔
سرٹیفیکیشنز – کوئی پیشہ ور سرٹیفیکیٹ ہو تو اسے تعلیم کے بعد درج کریں۔
ریزیومے لکھنے کا طریقہ
1. اسٹوری ٹیلنگ اور ہر ملازمت کے مطابق تبدیلی
ریزیومے آپ کی کہانی سناتا ہے، اس لئے اسے ہر نئے اشتہار کے مطابق ڈھالیں۔ یونیورسٹی آف مشی گن کے مطابق ریزیومے میں نام، رابطہ معلومات، تعلیم، تجربہ اور مہارتوں کے سیکشنز ہونا چاہیے اور ہر تجربے کو الٹی ترتیب میں لکھنا چاہیے۔
ملازمت کا اشتہار پڑھیں اور کلیدی الفاظ شامل کریں – اگر کسی اشتہار میں خاص مہارتیں یا الفاظ بار بار آ رہے ہوں تو انہیں اپنے ریزیومے میں، اپنے الفاظ میں، شامل کریں۔ جارج ٹاؤن یونیورسٹی کا کہنا ہے کہ آپ کو ریزیومے اور ملازمت کی تفصیل کا موازنہ کر کے وہ کلیدی الفاظ شامل کرنے چاہئیں جو بھرتی کرنے والے یا ایپلیکنٹ ٹریکنگ سسٹم (ATS) تلاش کرتے ہیں۔
2. فعال افعال اور بُلٹ پوائنٹس
فعال افعال استعمال کریں – اپنے فرائض اس انداز میں لکھیں کہ آپ ایک سرگرم کردار نظر آئیں، مثلاً “ریسرچ کیا” یا “تعاون سے پروجیکٹ مکمل کیا”۔ کمزور افعال (جیسے ’ہیلپ کیا‘) گریز کریں۔
بلٹ پوائنٹس کا فارمولا – میشی گن یونیورسٹی کا Bullet Plus ماڈل تین اجزاء پر مشتمل ہے: عملی فعل + کیا کیا + کیسے/کیوں/نتیجہ۔ مثال کے طور پر:
معمولی جملہ: “Interpersonal skills develop کیے”
Bullet Plus: “Interpersonal skills develop کیے، Malawian نوجوانوں اور کمیونٹی ممبران کے ساتھ بین الثقافتی مکالمات کی میزبانی کے ذریعے”۔
مقدار بیان کریں – جہاں مناسب ہو وہاں عددی اعداد و شمار شامل کریں تاکہ اثر واضح ہو، جیسے کتنے افراد کو سپروائز کیا یا کتنے طلبہ کو پڑھایا۔ پرنسٹن یونیورسٹی بھی مشورہ دیتی ہے کہ بُلٹ پوائنٹس میں ایکشن‑اورینٹڈ اسٹیٹمنٹس اور مقدار کا استعمال کریں، تاکہ آپ کی شراکت کی قدر واضح ہو۔
3. فارمیٹنگ کے سنہری اصول
اچھا فارمٹ ریزیومے کی پڑھائی کو آسان بناتا ہے۔
لمبائی اور صفحہ بندی – زیادہ تر نوکریوں کے لئے ایک صفحہ کافی ہے، لیکن اگر تجربہ زیادہ ہو تو دو صفحے بھی استعمال کیے جا سکتے ہیں۔
فونٹ اور سائز – جارج ٹاؤن یونیورسٹی کا مشورہ ہے کہ فونٹ سائز 10 سے 12 پوائنٹ، margins کم از کم 0.5 انچ اور Bold/Italics کے ذریعے اہم چیزوں کو نمایاں کریں۔ پریسٹن یونیورسٹی بھی یہی مشورہ دیتی ہے کہ margins کو 0.75–1 انچ رکھیں، فونٹ سٹائل اور سائز مسلسل رہیں اور بولٹ پوائنٹس کا استعمال کریں۔
سیدھی اور سادہ ساخت – رنگین گرافکس، پیچیدہ ڈیزائن یا تصویریں استعمال نہ کریں؛ پاکستانی ریزیومے گائیڈ بھی یہی کہتا ہے کہ سادہ ڈیزائن، بغیر ٹیبلز اور کالمز کے، بہتر نتائج دیتا ہے۔
ایک شخصی ضمیر استعمال نہ کریں – جارج ٹاؤن یونیورسٹی واضح طور پر کہتی ہے کہ ریزیومے میں “I” یا دیگر شخصی ضمیروں کا استعمال نہ کریں۔
پیشہ ورانہ رابطہ معلومات – ای میل اور فون نمبر پروفیشنل ہونے چاہئیں؛ غیر سنجیدہ ای میل پتے (مثلاً party123@) ریزیومے کی تاثیر کم کر سکتے ہیں۔
4. ATS اور کلیدی الفاظ
آجکل بہت سی کمپنیوں میں ابتدائی چھان بین Applicant Tracking Systems کے ذریعے ہوتی ہے، جو ریزیومے میں موجود کلیدی الفاظ اور تجربات کے مطابق امیدوار شارٹ لسٹ کرتی ہیں۔ جارج ٹاؤن یونیورسٹی کے مطابق:
ملازمت کی تفصیل اور کمپنی کی ویب سائٹ دیکھ کر وہ الفاظ اور صلاحیتیں پہچانیں جو بار بار دہرائی جا رہی ہوں، اور انہیں اپنے تجربات میں شامل کریں۔
کلیدی الفاظ کی بھرمار نہ کریں؛ غیر متعلقہ جگہوں پر انہیں بار بار لکھنے سے نظام آپ کو مسترد بھی کر سکتا ہے۔
تنظیموں، سرٹیفیکیشنز اور عہدوں کے مکمل نام اور مخففات دونوں لکھیں، مثلاً “RN” کے ساتھ “Registered Nurse” بھی شامل کریں۔
اضافی تجاویز
فیڈ بیک لیں اور ورژن محفوظ رکھیں – پرنسٹن یونیورسٹی مشورہ دیتی ہے کہ ریزیومے لکھنا ایک مسلسل سیکھنے کا عمل ہے؛ مختلف ورژنز محفوظ رکھیں، اور ہم جماعت یا کیریئر ایڈوائزر سے فیڈ بیک حاصل کریں۔
پرانا یا غیر متعلقہ مواد حذف کریں – اگر کوئی تجربہ ملازمت سے مطابقت نہیں رکھتا تو اسے مختصر یا حذف کریں، اور ایسے تجربات پر زور دیں جو اہم ہیں۔
ذاتی معلومات نہ دیں – عمر، قومی شناختی کارڈ نمبر، ازدواجی حیثیت، مذہب یا والد کا نام جیسی معلومات نہ لکھیں؛ پرنسٹن کا گائیڈ واضح کرتا ہے کہ ایسی ذاتی معلومات شامل نہ کریں اور پاکستانی گائیڈ بھی یہی مشورہ دیتی ہے۔
ہر تجربے کی شروعات فعال فعل سے کریں اور ماضی کے تجربات کے لئے ماضی کا زمانہ استعمال کریں۔
بیرون ملک ملازمتوں کیلئے مقامی معیار معلوم کریں – اگر آپ غیر ملکی نوکری کیلئے اپلائی کر رہے ہیں تو وہاں کے ریزیومے معیار چیک کریں، کیونکہ بعض ممالک تصویر یا تاریخ پیدائش طلب کرتے ہیں۔
عام غلطیاں جن سے بچنا چاہیے
| غلطی | تفصیل |
|---|---|
| طویل پیراگراف | ریزیومے میں لمبی عبارتیں پڑھنے والے کی توجہ کو کم کر دیتی ہیں۔ بلٹ پوائنٹس استعمال کریں۔ |
| ایک ہی ریزیومے ہر ملازمت کیلئے | ہر نوکری کے لئے اشتہار پڑھ کر ریزیومے کو اس کے مطابق ڈھالیں۔ |
| غیر متعلقہ یا ذاتی معلومات | CNIC، والد کا نام، مذہب، یا عمر شامل کرنا پیشہ ورانہ ماحول میں مناسب نہیں。 |
| غلط اسپیلنگ اور گرامر | ہجوں اور زبان کی غلطیوں سے آپ کا تاثر خراب ہوتا ہے؛ کسی دوسرے سے پروف ریڈ کروائیں۔ |
| جھوٹ یا مبالغہ | اپنی صلاحیتوں یا تجربات کو بڑھا چڑھا کر نہ بیان کریں کیونکہ انٹرویو میں سوالات کے ذریعے ان کی تصدیق ہو سکتی ہے۔ |
| مشکل فونٹ یا گرافکس | رنگین یا پیچیدہ ڈیزائن بھرتی کرنے والے کو پریشان کر سکتے ہیں۔ سادہ اور صاف فونٹ استعمال کریں۔ |
نتیجہ
ایک پروفیشنل ریزیومے آپ کی مہارتوں اور تجربات کا خلاصہ ہے جو صرف چند سیکنڈ میں پڑھنے والے پر مثبت تاثر چھوڑنا چاہیے۔ اس کیلئے درج ذیل باتوں کا خیال رکھیں:
ریزیومے کی صحیح قسم منتخب کریں (کرونولوجیکل، سکل بیسڈ یا کمبی نیشن) اور ہر اشتہار کے مطابق اسے ڈھالیں۔
بنیادی سیکشنز (رابطے کی معلومات، تعلیم، تجربۂ کار) صاف اور واضح درج کریں۔
فعال افعال اور Bullet Plus ماڈل استعمال کریں اور جہاں ممکن ہو مقدار ظاہر کریں۔
فارمیٹنگ میں ایک صفحہ، مناسب فونٹ سائز، سادہ ڈیزائن اور پیشہ ورانہ ای میل کا استعمال کریں۔
ATS کے مطابق کلیدی الفاظ اور سرخیوں کا استعمال کریں، لیکن ضرورت سے زیادہ نہ کریں۔
ذاتی تفصیلات نہ لکھیں اور ہر ریزیومے کو چیک کروا کر جمع کروائیں。
آخر میں، یاد رکھیں کہ ریزیومے جامد دستاویز نہیں؛ بلکہ آپ کے تجربات کے ساتھ ساتھ اسے بھی بہتر کرتے رہیں، فیڈ بیک لیں اور نئے مواقع کے مطابق ڈھالتے رہیں۔ اس طرح آپ کا ریزیومے آپ کی صلاحیتوں کا بہترین عکاس بنے گا اور آپ کو انٹرویو کے مرحلے تک پہنچانے میں مدد کرے گا۔



