پاکستان میں مصنوعی ذہانت کا مستقبل
کیٹ کے اندازوں کے مطابق، 2030 تک پاکستان کا مصنوعی ذہانت کا شعبہ 3.2 بلین ڈالر تک پہنچ جائے گا، جو سالانہ 27.76 فیصد کی متاثر کن شرح سے ترقی کرے گا

نیشنل اے آئی پالیسی 2025 کی منظوری کے ساتھ، پاکستان میں مصنوعی ذہانت کا مستقبل اب روشن دکھائی دینے لگا ہے۔۔
یہ معیشت کی ترقی، روزگار کے مواقع اور مختلف شعبوں میں ڈیجیٹل تبدیلی کے لیے بے مثال امکانات پیدا کرے گا۔
پاکستان میں مصنوعی ذہانت کس طرح کام کر رہی ہے؟
گزشتہ چند برسوں میں پاکستان میں مصنوعی ذہانت کا منظرنامہ ڈرامائی طور پر تبدیل ہوا ہے۔ جولائی 2025 میں، وفاقی کابینہ نے متفقہ طور پر نیشنل اے آئی پالیسی 2025 کی منظوری دی، جو ملک کے ڈیجیٹل سفر میں ایک سنگ میل کی حیثیت رکھتی ہے۔ یہ جامع پالیسی فریم ورک مصنوعی ذہانت تک رسائی کو عام کرنے، عوامی خدمات کو جدید بنانے اور اختراع پر مبنی علم پر مبنی معیشت تشکیل دینے کا ہدف رکھتا ہے۔
پاکستان میں اے آئی کی منڈی تیزی سے ترقی کر رہی ہے۔ مارکیٹ کے اندازوں کے مطابق، 2030 تک پاکستان کا مصنوعی ذہانت کا شعبہ 3.2 بلین ڈالر تک پہنچ جائے گا، جو سالانہ 27.76 فیصد کی متاثر کن شرح سے ترقی کرے گا۔ یہ اضافہ مختلف صنعتوں میں اے آئی ٹیکنالوجی کے بڑھتے ہوئے استعمال کو ظاہر کرتا ہے، جن میں صحت، زراعت، مالیات، تعلیم اور گورننس شامل ہیں۔
پاکستان میں اے ائی سٹ اپ
اس وقت پاکستان میں 467 سے زیادہ کمپنیاں مصنوعی ذہانت کی ترقی اور خدمات میں سرگرم ہیں۔ کراچی، لاہور اور اسلام آباد جیسے بڑے شہر ٹیکنالوجی کے مراکز کے طور پر ابھرے ہیں، جہاں اے آئی ریسرچ سینٹرز اور اختراعی لیبز قائم ہیں۔ اسلام آباد میں نیشنل سینٹر فار آرٹیفیشل انٹیلیجنس اور نیشنل یونیورسٹی آف سائنسز اینڈ ٹیکنالوجی (NUST) اور یونیورسٹی آف انجینئرنگ اینڈ ٹیکنالوجی (UET) جیسی یونیورسٹیوں میں خصوصی لیبارٹریز جدید تحقیق و ترقی کو فروغ دے رہی ہیں۔
حکومت کا وژن 2030 تک دس لاکھ اے آئی ماہرین کو تربیت دینا، اے آئی انویشن وینچر فنڈز قائم کرنا، پچاس ہزار اے آئی پر مبنی شہری منصوبے شروع کرنا، اور اگلے پانچ سالوں میں ایک ہزار مقامی اے آئی مصنوعات تیار کرنا شامل ہے۔ یہ جامع حکمت عملی اس بات کو یقینی بناتی ہے کہ پاکستان نہ صرف اے آئی کو اپنائے بلکہ مقامی چیلنجز کے لیے خود اپنی ٹیکنالوجیکل حل بھی پیدا کرے۔
مشین لرننگ کے عملی استعمالات
مشین لرننگ، جو مصنوعی ذہانت کی ایک شاخ ہے، پاکستان میں کاروباروں اور اداروں کے کام کرنے کے انداز کو یکسر بدل رہی ہے۔ اس کے عملی استعمال مختلف شعبوں میں پھیل رہے ہیں، جو لاکھوں افراد کے لیے حقیقی فوائد فراہم کر رہے ہیں۔
زراعت اور غذائی تحفظ
پاکستان کا زرعی شعبہ، جو قومی جی ڈی پی میں نمایاں کردار ادا کرتا ہے، مشین لرننگ کے ذریعے بدل رہا ہے۔ کسان اب اے آئی سے چلنے والے ٹولز استعمال کر رہے ہیں جو فصلوں کی پیداوار کی پیش گوئی کرتے ہیں، آبپاشی کے نظام کو بہتر بناتے ہیں اور پودوں کی بیماریوں کی بروقت نشاندہی کرتے ہیں۔
Farmdar جیسے پلیٹ فارم مصنوعی ذہانت اور خلائی ٹیکنالوجی استعمال کر کے پائیدار زراعت کو فروغ دے رہے ہیں۔ مشین لرننگ الگورتھمز سیٹلائٹ امیجز، موسمی پیٹرن، مٹی کی حالت اور تاریخی ڈیٹا کا تجزیہ کر کے کسانوں کو قابلِ عمل معلومات فراہم کرتے ہیں، جس سے وہ کم وسائل میں زیادہ پیداوار حاصل کر سکتے ہیں۔
شمالی پاکستان میں گندم کی پیداوار کے لیے پیش گوئی ماڈلز نے حیرت انگیز درستگی ظاہر کی ہے، جس سے غذائی تحفظ اور تجارتی منصوبہ بندی میں بہتری آئی ہے۔ یہ نظام کسانوں کو بوائی کے اوقات، کھاد کے استعمال اور کٹائی کے شیڈول کے بارے میں بہتر فیصلے کرنے میں مدد دیتے ہیں، جس سے پیداوار بڑھتی اور نقصان کم ہوتا ہے۔
صحت کا انقلاب
پاکستان کا صحت عامہ کا شعبہ مشین لرننگ کے انقلاب سے گزر رہا ہے۔ اے آئی سے چلنے والے نظام معالجین کو تشخیص، علاج کی منصوبہ بندی اور مریضوں کی نگرانی میں مدد دیتے ہیں۔ مشین لرننگ الگورتھمز میڈیکل امیجز کا تجزیہ کر کے کینسر جیسی بیماریوں کی تشخیص کرتے ہیں، ایکسرے اور ایم آر آئی میں خامیوں کی نشاندہی کرتے ہیں، اور علاج کے نتائج کی پیش گوئی کرتے ہیں۔
پاکستانی اسٹارٹ اپس اور تحقیقی ادارے ٹیلی میڈیسن کے لیے اے آئی سے چلنے والے حل تیار کر رہے ہیں، تاکہ دور دراز علاقوں میں جہاں ڈاکٹرز کی کمی ہے، صحت کی سہولت فراہم کی جا سکے۔ یہ نظام ابتدائی تشخیص، علاج کی سفارشات اور موبائل ایپس کے ذریعے مریضوں کی نگرانی ممکن بناتے ہیں۔
کاروبار اور مالیات
پاکستان میں مالیاتی ادارے اور کاروبار دھوکہ دہی کی روک تھام، رسک اسسمنٹ، کریڈٹ اسکورنگ اور کسٹمر سروس آٹومیشن کے لیے مشین لرننگ استعمال کر رہے ہیں۔ اے آئی چیٹ بوٹس صارفین کے سوالات کے جوابات دیتے ہیں، پریڈکٹیو اینالیٹکس انوینٹری مینجمنٹ کو بہتر بناتا ہے، اور الگورتھمز مارکیٹ کے رجحانات کی پیش گوئی کرتے ہیں۔
فِن ٹیک سیکٹر، جو 32.92 فیصد سالانہ شرح سے ترقی کر رہا ہے، مشین لرننگ کے ذریعے ذاتی نوعیت کی مالیاتی خدمات، خودکار قرض منظوری، اور مشکوک لین دین کی فوری نشاندہی ممکن بنا رہا ہے۔ اس سے مالیاتی خدمات پاکستان کی غیر بینکاری آبادی تک بھی پہنچ رہی ہیں۔
روبوٹکس اور ڈیٹا سائنس کا تعلق
پاکستان کے اے آئی ایکو سسٹم میں روبوٹکس اور ڈیٹا سائنس کا ملاپ ایک دلچسپ اور ابھرتا ہوا شعبہ ہے۔ ڈیٹا سائنس روبوٹک نظاموں کو ذہانت فراہم کرتی ہے جو انہیں خود فیصلے کرنے اور پیچیدہ کام انجام دینے کے قابل بناتی ہے۔
ڈیٹا سائنس میں بڑے ڈیٹا سیٹ جمع، پراسیس اور تجزیہ کر کے معنی خیز پیٹرن نکالے جاتے ہیں۔ جب یہ بصیرت روبوٹکس پر لاگو کی جاتی ہے تو مشینیں ماحول کو سمجھنے، فیصلے کرنے اور خودمختار طور پر کام انجام دینے کے قابل ہوتی ہیں۔ پاکستان کی جامعات روبوٹکس اور انٹیلیجنٹ سسٹمز کے خصوصی پروگرامز پیش کر رہی ہیں تاکہ جدید روبوٹک ایپلی کیشنز کے لیے ضروری ڈیٹا اینالیٹکس، مشین لرننگ، اور مصنوعی ذہانت کی بنیاد مضبوط کی جا سکے۔
پاکستان کے صنعتی شعبے میں آٹومیشن تیزی سے فروغ پا رہی ہے۔ روبوٹس پیداوار کے عمل کو بہتر بناتے ہیں، معیار کی جانچ کرتے ہیں اور لاگت کم کرتے ہیں۔ لاجسٹکس اور گوداموں میں خودکار نظام ڈیٹا پر مبنی الگورتھمز سے انوینٹری اور سپلائی چین کو بہتر بناتے ہیں۔
یہ تعلق خودکار گاڑیوں، زرعی ڈرونز اور کاروباری عمل کے روبوٹک آٹومیشن تک پھیل چکا ہے۔ جیسے جیسے پاکستان ہائی پرفارمنس کمپیوٹنگ اور اے آئی ریسرچ میں سرمایہ کاری کر رہا ہے، روبوٹکس اور ڈیٹا سائنس کا امتزاج مقامی مسائل کے جدید حل پیدا کرے گا۔
مصنوعی ذہانت سے نئی ملازمتیں
مصنوعی ذہانت کا انقلاب پاکستان میں روزگار کے بے مثال مواقع پیدا کر رہا ہے۔ نیشنل اے آئی پالیسی 2025 کا مقصد 35 لاکھ سے زائد نئی ملازمتیں پیدا کرنا ہے، جبکہ اے آئی کے فروغ سے 2030 تک پاکستان کی جی ڈی پی میں 12 فیصد تک اضافہ ممکن ہے۔
طلب میں سب سے زیادہ اے آئی کیریئرز
اس وقت پاکستان میں 500 سے زائد فعال اے آئی سے متعلق ملازمتیں دستیاب ہیں۔ نمایاں عہدوں میں شامل ہیں:
اے آئی/ایم ایل انجینئرز — مشین لرننگ ماڈلز تیار کرتے ہیں۔ ابتدائی تنخواہ تقریباً 6 لاکھ روپے سالانہ جبکہ تجربہ کار افراد 20 سے 35 لاکھ روپے تک کماتے ہیں۔
ڈیٹا سائنٹسٹس — پیچیدہ ڈیٹا کا تجزیہ کر کے کاروباری فیصلے کرنے میں مدد دیتے ہیں۔ یہ کیریئر 19 فیصد سالانہ شرح سے ترقی کر رہا ہے۔
اے آئی آرکیٹیکٹس — اداروں کے لیے جامع اے آئی سسٹم ڈیزائن کرتے ہیں اور 35 لاکھ روپے سالانہ سے زائد تنخواہ حاصل کرتے ہیں۔
کمپیوٹر ویژن انجینئرز — امیج ریکگنیشن، ویڈیو اینالیسس اور خودکار نیویگیشن کے نظام بناتے ہیں۔
قدرتی زبان کے ماہرین (NLP Experts) — چیٹ بوٹس، زبان ترجمہ، اور آواز کی شناخت کے نظام تیار کرتے ہیں — خاص طور پر پاکستان جیسے کثیر لسانی ملک میں۔
تعلیمی راستے
پاکستان کی جامعات مصنوعی ذہانت، ڈیٹا سائنس، روبوٹکس اور متعلقہ مضامین میں ڈگریاں پیش کر رہی ہیں۔ حکومت ہر سال 3,000 اے آئی اسکالرشپس فراہم کر رہی ہے تاکہ ہر طبقے کے طلبہ کو مواقع مل سکیں۔
مزید برآں، مختصر کورسز، بوٹ کیمپس، اور آن لائن تربیتی پروگرامز ان افراد کے لیے دستیاب ہیں جو اے آئی کیریئرز میں آنا چاہتے ہیں۔ ان پروگرامز میں عملی مہارتوں، پراجیکٹس اور صنعت کے ساتھ تعاون پر زور دیا جاتا ہے۔
پاکستان میں مصنوعی ذہانت کا مستقبل کیا ہوگا؟
پاکستان میں مصنوعی ذہانت کا مستقبل روشن ہے لیکن اس کے لیے مستقل کوشش درکار ہے۔ نیشنل اے آئی پالیسی 2025 اختراع، انفراسٹرکچر، تعلیم، سیکیورٹی، اور بین الاقوامی تعاون کے لیے ایک جامع خاکہ فراہم کرتی ہے۔
انفراسٹرکچر کی ترقی کلیدی حیثیت رکھتی ہے۔ پاکستان ہائی پرفارمنس کمپیوٹنگ کلسٹرز، ڈیٹا سینٹرز، اور کلاؤڈ سسٹمز میں سرمایہ کاری کر رہا ہے۔ اے آئی ڈیٹا سینٹرز اور بٹ کوائن مائننگ کے لیے 2000 میگاواٹ بجلی مختص کی گئی ہے۔
اخلاقی اے آئی اور ڈیٹا پرائیویسی اس پالیسی کے بنیادی اصول ہیں۔ پاکستان عالمی معیارات کے مطابق ریگولیشنز مرتب کر رہا ہے تاکہ انسانی حقوق کا تحفظ اور شمولیت یقینی بنائی جا سکے۔
5G، انٹرنیٹ آف تھنگز، اور بلاک چین جیسی نئی ٹیکنالوجیز کے ساتھ اے آئی کا امتزاج لامحدود امکانات پیدا کر رہا ہے۔ جیسے جیسے ڈیجیٹل پبلک انفراسٹرکچر وسیع ہو رہا ہے، اے آئی ایپلی کیشنز شہری اور دیہی دونوں علاقوں میں لاکھوں افراد تک پہنچیں گی۔
نتیجہ
پاکستان میں مصنوعی ذہانت کا مستقبل صرف ٹیکنالوجی اپنانے کے بارے میں نہیں، بلکہ ایک ایسے ماحول کے قیام سے متعلق ہے جہاں اختراع پروان چڑھے، مقامی حل مقامی مسائل کو حل کریں، اور ہر شہری ٹیکنالوجی کی ترقی سے فائدہ اٹھائے۔
نظم و نسق کی درست پالیسی، سرمایہ کاری، تعلیمی مواقع، اور نوجوان ٹیلنٹ کی بدولت پاکستان خطے میں اے آئی کی طاقت بننے کی صلاحیت رکھتا ہے۔
سفر شروع ہو چکا ہے — امکانات لامحدود ہیں۔ زراعت، صحت، تعلیم، حکومت یا کاروبار — مصنوعی ذہانت پاکستان کا نقشہ بدل رہی ہے، مواقع پیدا کر رہی ہے، اور ایک خوشحال، ڈیجیٹل مستقبل کی راہ ہموار کر رہی ہے۔



