اہم خبریںپاکستان

پاکستان میں فائر وال کی ناکامی سے اربوں کا نقصان

ماہرین کے مطابق یہ فائر وال سسٹم پاکستان کی موجودہ ٹیلی کمیونیکشن ڈھانچے کے ساتھ ہم آہنگ نہیں ہو سکا۔

حکومتِ پاکستان نے 2024 میں سوشل میڈیا کی نگرانی کے لیے جو  فائر وال سسٹم لگایا تھا، وہ بدترین تکنیکی ناکامی کا شکار ہوا۔ 

ملکی انٹرنیٹ کو سست کر دینے والے اس نظام کو حکومت کی جانب سے  مستقل طور پر بند کرنے کی اطلاعات ہیں۔

تقریباً 40 ارب روپوں کی لاگت سے تیار یہ نظام کوئی بھی مثبت نتائج دے نہ سکا، بلکہ اس نے پاکستان کی ڈیجیٹل اقتصادیات کو شدید نقصان پہنچایا۔

فائر وال کی تنصیب: مقصد اور منصوبہ

 

جولائی 2024 میں حکومتِ پاکستان نے دعویٰ کیا کہ  سائبر سیکیورٹی کو بہتر بنانے کے لیے ایک جدید نظام لگا رہی ہے۔

سرکاری حکام کا کہنا تھا کہ یہ فائر وال سسٹم سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر نگرانی اور ڈیجیٹل مواد کی نظر رکھنے کے لیے ہے۔

تاہم، ڈیجیٹل حقوق کی تنظیموں اور تجزیہ کاروں کے مطابق، یہ نظام چین کے ماڈل پر بنایا گیا تھا جس کا بنیادی مقصد سوشل میڈیا کو کنٹرول کرنا اور حکومتی نقطہ نظر کے خلاف رائے کو سنسر کرنا تھا۔

ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی(PTA) کے سابقہ بیانات میں کہا گیا کہ یہ سسٹم ملک کے بڑے انٹرنیٹ گیٹ ویز پر، موبائل سروس پروائیڈرز کے ڈیٹا سنٹرز میں، اور کمرشل انٹرنیٹ سروس فراہم کنندگان کے پاس لگایا جائے گا۔ تخمینے کے مطابق، اس منصوبے میں 20 سے 30 ارب روپے کی سرمایہ کاری کی تھی۔

فائر وال کی ناکامی: کہانی کہاں سے  شروع ہوتی ہے؟

 

جب یہ نظام 2024 کے وسط میں کام کرنا شروع کیا، تو فوری طور پر پاکستان کے لاکھوں صارفین کو انٹرنیٹ کی رفتار میں نمایاں کمی کا سامنا کرنا پڑا۔

ماہرین کے مطابق، انٹرنیٹ کی رفتار میں 30 سے 40 فیصد تک کمی ہوئی۔ فائر وال کی ناکامی کا سب سے بڑا مسئلہ یہ تھا کہ یہ ائر وال سسٹم پاکستان کی موجودہ ٹیلی کمیونیکشن ڈھانچے کے ساتھ ہم آہنگ نہیں ہو سکا۔

ملکی ٹیلی کمیونیکیشن سیکٹر کے ماہرین کے مطابق، اس نظام کو درست طریقے سے ٹیسٹ نہیں کیا گیا تھا۔ یہ نظام بیک وقت بہت سے ڈیٹا کو سنبھالنے میں ناکام رہا اور انٹرنیٹ کے معیاری بہاؤ میں خلل پیدا کیا۔

سرکاری حکام نے بعد میں تسلیم کیا کہ  تکنیکی نقص ہیں اور سسٹم ملکی انٹرنیٹ نیٹ ورک کے ساتھ مکمل انضمام نہیں کر سکے۔

معاشی نقصان: فریلانسرز اور کمپنیوں پر شدید اثرات

 

پاکستان کے ڈیجیٹل اقتصادیات پر  فائر وال کا سب سے زیادہ منفی اثر پڑا۔ ملک میں لگ بھگ دو لاکھ سے زیادہ فریلانسرز ہیں جو بین الاقوامی کلائنٹس کے لیے کام کرتے ہیں اور پاکستان کو سالانہ $530 ملین سے زیادہ کی بیرونی زرمبادلہ فراہم کرتے ہیں۔ انٹرنیٹ کی سست رفتار سے یہ فریلانسرز سخت مشکل میں پڑ گئے۔

فری لانسرز کے چیلنجز

 

  • بڑی فائلوں کو اپ لوڈ کرنے میں بے دریغ تاخیریں
  • ویڈیو کانفرنسنگ اور آن لائن میٹنگز میں رکاوٹیں
  • کلاؤڈ سروسز تک رسائی میں مسائل
  • مقررہ وقت سے کام مکمل نہ کر سکنا
  • بین الاقوامی کلائنٹس سے منصوبوں کا خسارہ

ایک موقع پر چند فری لانسنگ پلیٹ فارمز نے باقاعدہ طور پر کلائنٹس کو متنبہ کر دیا کہ پاکستان میں انٹرنیٹ کی معیاری سپیڈ نہ ہونے کی وجہ سے صارفین کو مشکلات کا سامنا ہے۔ اس سے کئی فری لانسرز کو بڑے پراجیکٹس سے ہاتھ دونا پڑا۔

آئی ٹی سیکٹر کا نقصان:

 

  • سافٹ وئیر ہاؤسز کو بار بار رکاوٹوں کا سامنا
  • ای کامرس کمپنیوں میں خدمت میں خرابیاں
  • کال سنٹرز میں رابطے میں خرابیاں
  • اسٹارٹ اپ کمپنیوں کی بندش
  • غیر ملکی کمپنیوں کا پاکستان سے سفر بند

پاکستان سافٹ وئیر ہاؤسز ایسوسی ایشن (P@SHA) نے 2024 میں یہ خطرناک وارننگ جاری کی کہ انٹرنیٹ کی سست رفتار سے ملک کی معیشت کو 300 ملین ڈالر تک کا نقصان ہو سکتا ہے۔ ایسوسی ایشن  نے واضح کیا کہ یہ رکاوٹیں صرف تکلیف دہ نہیں ہیں بلکہ انڈسٹری کی بقا کے لیے ایک براہِ راست حملہ ہیں۔

حکومت کے بہانے اور انکار

 

شروع میں حکومت نے انٹرنیٹ کی سست رفتار کے لیے کئی بہانے دیے۔ IT اور ٹیلیکمیونیکیشن کی وزیر شزا فاطمہ خواجہ نے کہا کہ لوگ زیادہ VPNs استعمال کر رہے ہیں۔ بعد میں انہوں نے کہا کہ ویب منیجمنٹ سسٹم اپ گریڈ کیا جا رہا ہے۔

PTA نے بھی بارہا اسے  سمندری کیبل میں خرابی کی وجہ سے قرار دیا۔ لیکن ڈیجیٹل حقوق کے کارکنوں اور محققین کا مؤقف یہ ہے کہ حکومت براہِ راست فائر وال کے نفاذ کے بارے میں سچ بول نہیں رہی تھی۔

5G نیلامی سے پہلے فائر وال بند کرنا

 

فروری 2026 میں عالمی ٹیلی کمیونیکیشن کمپنیوں نے اطلاع دی کہ اگر یہ خراب نظام چلتا رہے تو وہ پاکستان میں 5G نیلامی میں شرکت نہیں کریں گے۔

5G ٹیکنالوجی کو تیز رفتار اور قابل اعتماد انٹرنیٹ کی ضرورت ہے۔ اگر ملک میں انٹرنیٹ ہی غیر مستحکم ہو تو 5G کا کوئی فائدہ نہیں۔ ڈیجیٹل سرمایہ کاروں نے خطرہ محسوس کیا کہ اگر یہ صورتِ حال برقرار رہے تو وہ پاکستان میں بجائے سرمایہ کاری کے دوسری جگہوں پر نظریں لگائیں گے۔

بالآخر حکومت نے و اعلان کیا کہ یہ فائر وال مستقل طور پر بند کیا جا رہا ہے۔

نتیجہ: مستقبل کی طرف

 

فائر وال کی ناکامی پاکستان کی حکومتوں کے لیے ایک سخت سبق ہے۔ 40 ارب روپوں کا ضیاع، ہزاروں فری لانسرز کی معاشی خرابی، اور ملک کی ڈیجیٹل ساکھ کو نقصان – یہ سب اسے ایک تاریخی ناکامی بناتے ہیں۔

آنے والے ہفتوں میں انٹرنیٹ کی رفتار بہتر ہونے سے فریلانسرز اور IT کمپنیوں میں بھی امید جاگی ہے۔ لیکن یہ فائیر وال کا قصہ ہمیشہ اس بات کی یادگار رہے گا کہ بڑے سرکاری منصوبے میں شفافیت، مشاورت اور تکنیکی مہارت کتنی اہم ہیں۔

تاہم چند تجزیہ نگاروں کا خیال ہے کہ حکومت کی جانب سے 5G کی نیلامی کے دوران کسی سبکی سے بچنے کیلئے یہ انتظام کیا گیا ہے اور اسے بعدازاں دوبارہ فعال کر دیا جائے گا۔

اگر حکومت ایسا کوئی قدم اٹھاتی ہے تو یہ پاکستان میں آئی ٹی کے زوال کا دور شروع کرنے کے مترادف ہوگا۔ حکومت بین الاقوامی سطح پر ملکی ساخت کو خراب کرے گی۔

اس لئے حکومت کو چاہیے کہ وہ اس معاملے پر مکمل طور پر پیچھے ہٹے اور عوام اور بین الاقوامی کمپنیوں کو اعتماد میں لے تا کہ آئی ٹی سیکٹر میں سرمایہ کاری بڑھائی جاسکے اور آئی ٹی ایکسپورٹ میں اضافہ ہو۔

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button