پاکستاندنیا

پاکستان میں سی پیک کا مستقبل کیا ہے؟

چائنہ اور پاکستان کے درمیان 2013 میں طے پانے والا معاہدے جسے سی پیک کہا جاتا ہے آج 11 سال گزرنے کے باوجود بھی اپنی اصلی اہمیت اور شکل کو واضح نہیں کر پایا ہے۔ جہاں سیاستدان اسے الیکشن میں کارکردگی کے طور پر بیچتے ہیں اور مخالفین کو اس میں روڑے اٹکانے کا ذمہ دار ٹھہرا کر وطن دشمنی کے طعنے دیتے ہیں وہیں وہ اصل حقیقت عوام کے سامنے نہیں رکھتے، جسے اگر رکھ دیا جائے تو وہ شاید الیکشن میں اس بیانیے کو بیچ نہ سکیں۔
ہمیں اس منصوبے کو صحیح طریقے سے سمجھنے کے لیئے اس کے آغاز میں جانا ہوگا، جب 2013 میں اسکی بنیاد رکھی گئی۔ تب ہم کسی حد تک سمجھ پائیں‌گے کہ پاکستان میں سی پیک کا مستقبل کیا ہوگا ۔اس کی بنیاد رکھنے کی پیچھے جو عوامل طے پائے تھے اس کے تحت چین نے 17 سالوں میں یعنی کہ 2030 تک پاکستان میں 62 ارب ڈالرز کی سرمایہ کاری کرنا تھی۔تاہم اس انویسٹمنٹ کے تحت ترتیب دیئے جانے والے منصوبوں میں کچھ پر کام ہوا اور کچھ پر سرے سے کام شروع ہی نہیں ہو سکا۔
چین اس منصوبے کے ذریعے اپنے کاروبار کو فروغ دینے کیلئے راستہ بنا رہا تھا جبکہ پاکستان میں اس منصوبے سے توانائی اور انفراسٹرکچر کو بہتر بنانا تھا۔ بدقسمتی سے یہ دونوں کام ہی نہیں ہو سکے ہیں۔
سی پیک کے تحت بلوچستان میں اب تک کوئی خاص کام نہیں ہو سکا ہے جبکہ گوادر بندرگاہ جسے اس منصوبے کی ریڑھ کی ہڈی کہا جاتا ہے اس میں پاکستان کا ریونیو شیئر صرف 9 فیصد ہے جبکہ بقیہ 91 فیصد ریونیو شیئر پر چین کا قبضہ ہے۔

مزید پڑھیں: پی ٹی آئی کیلئے آج کے دن 5 بڑی خوشخبریاں کیا ہیں؟

اس حساب سے دیکھا جائے تو پاکستان کو اپنی ہی بندرگاہ سے کچھ خاطر خواہ اضافہ نہیں ہونا والا ہے۔ پاکستان کیلئے اس وقت سب سے بڑا مسئلہ چینی قرضے بھی ہیں جنہوں نے اس سارے منصوبے کو اپنی لپیٹ میں لےرکھا ہے۔
ان چینی قرضوں سے فرار کا کوئی راستہ نہیں ہے۔ اگر سی پیک اسی طریقہ کار سے چلتا رہا تو پاکستان کبھی اس کے ثمرات حاصل نہیں کر پائے گا۔ اور ہم کبھی یہ تعین نہیں‌کر پائیں‌گے کہ آخر پاکستان میں سی پیک کا مستقبل کیا ہوگا؟
معاشی ماہرین کا کہنا ہے کہ پاکستان کو چین کو پندرہ بیس سال کیلئے ان منصوبوں پر کام کرنے دینا چاہیےاور جب چین کا مطلوبہ قرضہ اتر جائے توا سکے بعد پاکستان کو کنٹرول دے دیا جائے۔
اگر ایسا نہیں کیا جاتا ہے تو سی پیک کی تکمیل کا کوئی دورانیہ دینا بھی محال ہوگا اور اس مکڑے کے جالے سے باہر آنا بھی مشکل ہوگا ۔

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button