
گزشتہ ایک ہفتے میں حکومت اور پاکستان مسلم لیگ نواز (ن لیگ) کے رہنماؤں نے سابق وزیرِاعظم عمران خان کی بہن نورین نیازی پر شدید تنقید کی ہے کیونکہ انہوں نے بھارتی میڈیا اداروں، بشمول ANI اور NDTV، کو انٹرویوز دیئے۔
یہ تنقید اس بنا پر کی گئی کہ انہوں نے بھارتی چینلز پر پاکستان کے اداروں اور حکومت پر تنقید کی۔ ان کے اس عمل کو ریاست سے غداری تک کے الزامات سے جوڑا جا رہا ہے۔
تاہم یہ ردِعمل ایک واضح اور تکلیف دہ حقیقت کو بے نقاب کرتا ہے: وہی پارٹی جو آج عمران خان کے خاندان کو نشانہ بنا رہی ہے، اس کے اپنے قائد دہائیوں سے بھارتی میڈیا اور بھارتی قیادت کے ساتھ سرکاری اور غیرسرکاری سطح پر روابط رکھے ہوئے ہیں—وہ بھی کہیں زیادہ سیاسی وزن کے ساتھ۔
موجودہ تنازعہ: نورین نیازی کا انڈین میڈیا کو انٹرویو:
جیل میں قید اپنے بھائی سے ملاقات نہ ملنے کے ہفتوں بعد، حالیہ دنوں میں ننورین نیازی کا انڈین میڈیا کو انٹرویو دینا کا سلسلہ شروع ہوا۔
ان انٹرویوز میں انہوں نے پاکستان کے آرمی چیف جنرل عاصم منیر کو "آمریت پسند” قرار دیا۔ شہباز شریف حکومت کو "پاکستان کی تاریخ کی سب سے غیر مقبول حکومت” کہا، اور موجودہ حالات کو "ہٹلر دور جیسی جبر کی فضا” سے تشبیہ دی۔
انہوں نے میڈیا سنسرشپ اور پی ٹی آئی کارکنوں پر پولیس تشدد کی بھی نشاندہی کی۔
حکومت اور چند میڈیا تجزیہ کاروں نے ان کے بھارتی میڈیا سے بات کرنے کے محرکات کو مشکوک قرار دیا۔ کچھ نے بھارتی میڈیا کی "اچانک دلچسپی” پر سوال اٹھایا کہ آیا یہ پاکستان کو عالمی سطح پر نقصان پہنچانے کے لیے استعمال ہو سکتی ہے۔
ن لیگ کی ادارہ جاتی بھول — بھارت سے تعلقات کی دیرینہ پالیسی
تنقید کرنے والوں نے جس حقیقت کو مکمل طور پر نظر انداز کیا وہ یہ تھی کہ ن لیگ خصوصاً نواز شریف خود دہائیوں سے بھارتی میڈیا اور بھارتی حکام کے ساتھ ایسے تعلقات رکھتے آئے ہیں جو نہ صرف رسمی بلکہ کبھی کبھی غیر رسمی اور حد سے زیادہ دوستانہ رہے۔
حالیہ مثال: برکھا دت کا پاکستان آنا اور نواز شریف کا انٹرویو
اکتوبر 2024 میں بھارتی صحافی برکھا دت پاکستان آئیں اور نواز شریف اور پنجاب کی وزیرِاعلیٰ مریم نواز کا تفصیلی انٹرویو کیا۔ اس دوران نواز شریف نے بھارت کے بارے میں کئی اہم بیانات دیے:
- انہوں نے کہا کہ وہ "بھارت سے اچھے تعلقات کے حامی” ہیں
- انہوں نے 1999 کے لاہور اعلامیے کی خلاف ورزی پر افسوس کا اظہار کیا اور اس کی ذمہ داری پاکستان کے عسکری اداروں پر ڈالی
- انہوں نے کہا کہ بھارت "چاند تک پہنچ گیا ہے” جبکہ پاکستان "اس کے برعکس سمت میں کھڑا ہے”
- انہوں نے کہا کہ انہیں امید ہے کہ "نزدیک مستقبل میں” وزیراعظم نریندر مودی سے ملاقات ہو گی
- انہوں نے کہا کہ وزیرِخارجہ ایس جے شنکر کی آمد پاک-بھارت تعلقات میں "نارملائزیشن کا آغاز” ہو سکتی ہے
حیرت انگیز طور پر نہ حکومت نے اس پر تنقید کی اور نہ ہی میڈیا نے اسے "پاکستان مخالف بیانیہ” کہا۔
دہائیوں پر محیط ریکارڈ: نواز شریف اور بھارتی میڈیا
یہ کوئی نئی بات نہیں۔ نواز شریف کا بھارتی میڈیا سے تعلق تقریباً چالیس سال پر محیط ہے۔
پہلی وزارتِ عظمیٰ (1990–1993): بھارتی میڈیا نے انہیں ایک ایسے پاکستانی رہنما کے طور پر پیش کیا جو جارحانہ رویے کے بجائے بات چیت کا خواہشمند ہے۔
2014–2015:
نواز شریف کے دوبارہ وزیراعظم بننے کے بعد بھارتی میڈیا ان کے ساتھ مسلسل انٹرویوز کرتا رہا۔ انہوں نے بھارت اور پاکستان کے درمیان عدم اعتماد اور غلط فہمیوں کو دور کرنے پر زور دیا۔ NDTV کی برکھا دت نے ان سے خصوصی انٹرویوز کیے۔
بھارت کے حق میں بیانات:
Had opportunity to have an hour long meet with Pakistan PM Nawaz Sharif & talk about India Pakistan relations. pic.twitter.com/feYM0evKNc
— barkha dutt (@BDUTT) February 9, 2016
- 2017 میں انہوں نے کہا کہ پاکستان کے منتخب وزرائے اعظم آزادانہ فیصلے نہیں کر سکتے، جس کا مطلب فوجی اثر و رسوخ تھا
- 2024 میں انہوں نے نریندر مودی کو تیسری بار جیتنے پر مبارکباد دیتے ہوئے کہا کہ "نفرت کو امید سے بدلیں”
- انہوں نے بارہا کہا کہ واجپائی (1999) اور مودی (2015) ان سے ملاقات کے لیے پاکستان آئے—جسے وہ کامیابی بتاتے رہے
مودی کا 2015 کا دورہ — غیر رسمی خاندانی تقریب میں شرکت
دسمبر 2015 میں مودی نے لاہور میں نواز شریف کے گھر—رائیونڈ—کا غیر سرکاری دورہ کیا۔ وہ ہیلی کاپٹر کے ذریعے براہِ راست نواز کے گھر پہنچے۔ اس موقع پر:
- مودی نے نواز شریف کی والدہ کے پاؤں چھوے
- نواز کے نواسے کی شادی میں شرکت کی
- گھر والوں کے ساتھ کھانا کھایا
- 90 منٹ تک غیر رسمی ملاقات ہوئی
یہ ایک غیر معمولی سفارتی واقعہ تھا—بھارتی وزیراعظم کا ایک خاندانی تقریب میں شرکت کرنا۔ یہ عمل نورین خان کے انٹرویوز سے کہیں زیادہ حساس تھا۔
مزید مثال: 2024 میں بھارتی صحافیوں کی پاکستان آمد
اکتوبر 2024 میں جب بھارتی صحافی SCO کی کوریج کے لیے پاکستان آئے تو نواز شریف نے ان سے خصوصی ملاقاتیں کیں—اور پھر بھی حکومت نے کوئی اعتراض نہیں اٹھایا۔
حالانکہ بھارتی صحافی شنگھائی تعاون تنظیم اجلاس کی کوریج کیلئے سامنے آئی تھیں، تاہم انہیں وزیر اعلیٰ پنجاب ہاؤس میں پروٹوکول میں رکھا گیا۔ اور سینئر پاکستانی صحافی حامدمیر اس امر کی تصدیق کرتے ہیں کہ برکھا دت کے ساتھ آئے انڈین صحافیوں نے بھی بتایا کہ وہ شنگھائی تعاون تنظیم کے اجلاس کی کوریج کو نہ آئیں۔
حامد میر کے مطابق اس موقع پر نواز شریف نے انڈین صحافیوں کے اعزاز میں عشائیہ بھی دیا۔
برکھا دت کو سارک کانفرنس میں خصوصی ویزا جاری کیا گیا تھا لیکن انہوں سارک کانفرنس کور نہیں کی یہ سیدھا لاہور گئی نواز شریف سے ملاقات کی ان کا انٹرویو کیا اور چلتی بنی ! حامد میر ۔۔۔ pic.twitter.com/NQcut6BugG
— AMJAD KHAN (@iAmjadKhann) November 29, 2025
نتیجہ
نورین نیازی کا انڈین میڈیا کو انٹرویو پرنہر تنقید اس وقت بے معنی لگتی ہے جب ن لیگ کی دہائیوں پر محیط اپنی pro-India پالیسی اور میڈیا انگیجمنٹ کا جائزہ لیا جائے۔
نواز شریف کے بھارتی صحافیوں کے ساتھ انٹرویوز، بھارت کے ساتھ تعلقات پر ان کے مثبت بیانات، اور 2015 میں مودی کے غیر رسمی خاندانی دورے جیسے اقدامات نورین خان کے انٹرویوز سے کہیں زیادہ اہمیت رکھتے تھے۔
اگر حکومت واقعی بھارت مخالف بیانیے یا قومی سلامتی کے بارے میں فکر مند ہے تو اسے چاہیے کہ ایک ہی اصول سب پر لاگو کرے۔ موجودہ صورتحال سے صاف ظاہر ہوتا ہے کہ اصل مسئلہ بھارتی میڈیا سے بات کرنا نہیں—بلکہ حکومت پر تنقید کرنا ہے۔
جمہوریت اسی وقت مضبوط ہوتی ہے جب انصاف اور اصول سب کے لیے برابر ہوں۔ بصورت دیگر، مخالفین پر الزامات کھوکھلے محسوس ہوتے ہیں۔



