نئی نسل اور سوشل میڈیا: فائدے، نقصانات اور حل
نئی نسل اور سوشل میڈیا سے متعلق بحث فائدے، نقصانات اور ممکنہ حل کے درمیان گھومتی رہتی ہے۔

سال 2004 میں جب فیس بک منظر عام پر آئی تو خیال کیا جا رہا تھا کہ یہ ای میل کی کوئی جدید ترین شکل ہو گی۔
لیکن کسے معلوم تھا کہ ٹھیک دو دہائیاں بعد یہ ہماری نئی نسل کی زندگی کا ضروری حصہ بن چکی ہو گی۔
وہ اس پر اپنا پورا دن صرف کریں گے، یہیں پہ سوشل ہونا چاہیں گے اور یہیں سے ہی روزگار بھی کمانا چاہیں گے۔
آج جنریش زی (1997 سے 2012 ) اور جنریشن الفا (2013 سے اب تک) نت نئے سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر کانٹینٹ کو بطور کرنسی استعمال کر رہے ہیں۔
سونے پر سہاگہ یہ کہ اے آئی یا مصنوعی ذہانت نے کام مزید آسان کر دیا ہے ۔ لیکن ہر دور کی ایجاد کی طرح جہاں ایک طرف یہ سہولت ہے تو وہیں دوسری جانب وبال بھی بنتی جارہی ہے۔
نئی نسل کے اس ساتھی یعنی کہ سوشل میڈیا کے مثبت پہلو بھی ہیں اور منفی بھی۔ جبکہ ان کے درمیان ایک اعتدال کا راستہ بھی ہے۔
نئی نسل اور سوشل میڈیا کے مثبت پہلو
نئی نسل سوشل میڈیا کو نہ صرف تخلیقی صلاحیتوں کے اظہار بلکہ علم و معلومات کے حصول اور تعلق و وابستگی کے مضبوط رشتے قائم کرنے کے لیے ایک مؤثر ذریعہ کے طور پر استعمال کر رہی ہے۔
تعلق اور وابستگی، مقامی سے بین الاقوامی سطح تک:
مختلف تحقیقاتی اداروں نے مختلف اعداد وشمار ( 60 فیصد سے لیکر 84 فیصد تک ) یہ انکشاف کیا ہے کہ جنریشن زی کے نوجوانوں کے ایسے دوست ہیں جنہیں وہ کبھی ذاتی طور پر نہیں ملے۔
یہ مختلف ممالک ، ثقافتوں سے تعلق رکھنے والے نوجوان ایک دوسرے سے مختلف سوشل میڈیا پلیٹ فارمز کے ذریعے سے جڑ رہے ہیں۔
اس جڑنے کا فائدہ یہ ہورہا ہے کہ مشترکہ مشاغل رکھنے والے نوجوان کمیونٹی کی شکل بنتے جارہے ہیں اور اس سے مسائل کا حل اور نئے مواقع تلاش کر رہے ہیں۔
مزیدپڑھیں: نئی نسل کی تعلیم و تربیت: چیلنجز اور ممکنات
تخلیقی صلاحیتوں میں اضافہ:
آج سے چند سال قبل کسی نوجوان کو اپنے کام کا پورٹ فولیو دکھانے کی مانگ کی جاتی تو وہ ہاتھ کھڑے کر دیتا تھا۔
وجہ یہ تھی کہ چند ہی سٹوڈیو تھے اور ان پر جانے پہچانے ناموں کی اجارہ داری تھی۔ نئے نوجوان کو موقع ہی کب ملتا تھا کہ وہ اپنی صلاحیتوں کو استعمال میں لائے۔
آج اس کے پاس یہ موقع ہے کہ وہی نوجوان بنا کسی سٹوڈیو کے اپنی صلاحیتوں کو بروئے کار لاتے ہوئے اپنے ملک کے سب سے بڑے سٹودیو کو مات دے دے۔
اب اسے اپنا پورٹ فولیو دکھانے کیلئے صرف ایک لنک مہیا کرنا ہے اور دنیا اس کی تخلیقی صلاحیتوں کا مشاہدہ کر لے گی۔
یہی نہیں، اس نسل نے یہ بھی سیکھ لیا ہے کہ کیسے اپنے روز مرہ کے کاموں کو کانٹینٹ بنا کر بیچا جا سکتا ہے۔
معلومات اور سیکھنے کے مواقع:
معلومات تک رسائی کبھی ایک محنت طلب کام ہوا کرتی تھی لیکن سوشل میڈیاکی بدولت اب یہ ممکن ہوا ہے کہ کسی ملک کے بڑے چینل تک معلومات بعد میں پہنچتی ہے، عوام اپنے سوشل میڈیا سے اسے پہلے شیئر کر دیتی ہے۔
اس کے علاوہ ٹیوٹوریلزاور آن لائن ٹریننگ سے اب وہ سب سیکھا جاسکتا ہے جو کبھی کسی نوجوان کا خواب ہوا کرتا تھا۔
سوشل میڈیا کے استعمال کے منفی پہلو:
حکمت کی باتیں کسی دور میں پرانی نہیں ہوتیں۔ کسی دور میں سنا تھا کہ ہر چیز کا حد سے زائد استعمال نقصان دہ ہوتاہے چاہے وہ کتنی ہی فائدے مند چیز نہ ہو۔
سوشل میڈیا کے بے ہنگم استعمال سے نئی نسل ذہنی صحت، توجہ اور پرائیویسی میں مستقل کمی دیکھ رہی ہے جو کہ اس کے منفی پہلو شمار ہوتے ہیں۔
ذہنی صحت کا تباہ ہونا:
سوشل میڈیا کے منفی استعمال کے باعث نئی نسل شدید بے چینی اور اضطراب کا شکار ہے۔
جدید تحقیق سے یہ بات ثابت ہوتی ہے کہ ہر تین میں سے ایک نوجوان انسٹاگرام کے استعمال کے باعث اپنی شکل و صورت سے ہی نالاں ہے۔
نوجوان اچھا دکھنے کیلئے اپنے چہروں کی سرجری اور دیگر کام کر رہے ہیں جو ان کی کمزور ہوتی نفسیاتی صحت کی طرف اشارہ ہے۔
توجہ مرکوز نہ کر پانا:
آپ نے اکثر مشاہدہ کیا ہوگا کہ سوشل میڈیا پلیٹ فارمز جیسا کہ ٹک ٹاک پر ریلیز وغیرہ دیکھنے والے نوجوان ایک، ایک دو دو سیکنڈ کی ویڈیوز دیکھتے جاتے اور آگے سکرولنگ کرتے جاتے ہیں۔
یہ توجہ مرکوز نہ کر پانے کی پریکٹس ہو رہی ہوتی اور اب یہ وباء کی شکل اختیار کر چکی ہے۔
نئی نسل کا دو تین سیکنڈ سے زیادہ ایک جگہ توجہ مرکوز نہیں کر پارہی۔ اس سے پیدواری صلاحیت میں کمی پیدا ہورہی ہے۔
پرائیویسی کا فقدان:
فیئر آف مسنگ آؤٹ( کہیں میں پیچھے نہ رہ جاؤں) کہ چکر میں نوجوان اکثر اپنی انتہائی خفیہ چیزیں سامنے لا رہے ہوتےہیں۔
مختلف ویڈیوز کو جوڑ کر دیکھا جائے تو عموماً ان کی کسی ذاتی نوعیت کی سرگرمی کا باخوبی اندازہ لگایا جاسکتا ہے۔ یوں ان کی پرائیویسی شدید خطرے میں رہتی ہے۔
اسی طرح پڑھے بغیر سوشل میڈیا پلیٹ فارمز کو ذاتی ڈیٹا تک رسائی دینا بھی آپکی پرائیویسی کو متاثر کرتا ہے۔
اس کا چھوٹا سا تجربہ ایسے ہوسکتا ہے کہ آپ ابھی اپنے موبائل کے سامنے بولیں کہ آپ نے کچھ خریدنا ہے(کپڑے جوتے وغیرہ)۔
تھوڑی سی دیر میں اسی چیز کے اشتہارات آپکی ٹائم لائن کی زینت بن جائیں گے۔ آپ کو ادراک ہو جائے گا کہ آپکی پرائیویسی کس قدر محفوظ ہے۔
فوائد اور مسائل کے دورن سوشل میڈیا سے استفادہ کرنے کا درمیانی راستہ:
کسی نوجوان کے سامنے آپ اپنی یہ رائے رکھیں کہ سوشل میڈیا کم استعمال کیا کرو تو وہ آپ کی بات کو ایسے ہی اگنور کرے گا جیسے وہ اپنی گھر والوں کی بات کو بھاؤ نہیں دیتا۔
آپ نے مسئلے کا حل بتانا ہے، صرف نقصانات پر توجہ مرکوز کرتے ہوئے فائدے سے آنکھ نہیں پھیرنا ہے۔
ڈیجیٹل لٹریسی کا فروغ:
دنیا بھر کے کئی ممالک میں ڈیجیٹل لٹریسی کو فروغ دیا جارہا ہے جس میں نئی نسل کو یہ بتایا جاتا ہے کہ وہ کیسے سوشل میڈیا کو استعمال کریں نہ کہ خود استعمال ہوں۔
یہ تعلیم نئی نسل کو باشعور بناتی ہے اور وہ سوشل میڈیا سے استفادہ کرتے ہیں ناں کہ اسے کی لت میں مبتلا ہوتے ہیں۔
آف لائن کمیونٹیز کا فروغ:
بہت سے والدین یہ شکوہ کرتے نظر آتے ہیں کہ ان کا بچہ ہروقت موبائل میں گھسا رہتا ہے۔ اگر انہی والدین سے یہ سوال کر لیا جائے کہ وہ اس کا متبادل کیا دے سکتے ہیں توان پر سکتہ طاری ہو جاتا ہے۔
وجہ متبادل سرگرمیوں کا نہ ہونا ہے۔ آپ نوجوان کو آف لائن میں ایسی سرگرمیاں اور کمیونٹی مہیا کریں جو انہیں ڈیجیٹل نوٹیفکیشن سے زیادہ اپنی طرف کھینچے ۔
اختتامیہ:
نئی نسل ایک چوراہے پر کھڑی ہے جس میں سوشل میڈیا کو استعمال کرنے یا اس سے استعمال ہونے کی ساری بحث ہے۔
سوشل میڈیا کے نت نئے ٹولز آتے رہیں گے اور وہ اپنا شور ڈالتے رہیں گے ۔ اس دوران فیصلہ آپ نے کرنا ہے کہ یہ ٹولز آپکو کنٹرول کریں گے یا آپ ان کو ۔
یہ ٹولز جتنے بھی طاقتور ہو جائیں یہ چلنے کیلئے آپ کے محتاج رہیں گے۔ یعنی یہ آپ پر تب تک غلبہ نہیں پا سکتے ، جب تک آپ انہیں اجازت نہ دیں۔