
قومی ہاکی ٹیم کے آسٹریلیا (FIH پرو لیگ) ٹور کے دوران رہائش/خوراک اور لاجسٹکس سے متعلق ذلت آمیز سلوک کے الزامات سامنے آئے، جن میں کپتان عماد شکیل بٹ کے مطابق کھلاڑیوں سے برتن دھلوانا، کچن/واش روم صاف کرانا اور محدود وسائل میں تین وقت کے کھانے کا کہا جانا شامل تھا۔
دورے سے واپسی پر لاہور ایئر پورٹ پر روداد سناتے ہوئے پاکستان ہاکی ٹیم کے کپتان عماد شکیل بٹ نے منیجمنٹ پر سنگین الزامات عائد کئے۔
اس بحران میں PHF (پاکستان ہاکی فیڈریشن) اور PSB (پاکستان اسپورٹس بورڈ) نے ایک دوسرے پر ذمہ داری ڈالی، جس پر وزیراعظم شہباز شریف نے باضابطہ انکوائری کا حکم دیا۔
اسی کشیدہ ماحول میں پی ایچ ایف کے صدر میر طارق حسین بگٹی نے 19 فروری کو کپتان عماد شکیل بٹ پر دوسالہ پابندی عائد کرتے ہوئے اپنے عہدے سے استعفیٰ دے دیا ۔ انہوں نے الزام عائد کیا کہ کپتان نے ساتھی کھلاڑیوں کو دھمکیاں دیں/فیڈریشن کے خلاف “مہم” چلائیں جس کے بعد ان کے خلاف تادیبی کارروائی کا فیصلہ ہوا۔
وزیراعظم نے میر طارق حسین بگٹی کا استعفیٰ قبول کر کے محی الدین احمد وانی (وفاقی سیکرٹری، وزارتِ بین الصوبائی رابطہ/IPCD) کو ایڈہاک PHF صدر مقرر کیا۔
وانی نے عہدہ سنبھالتے ہی کپتان پر عائد دو سالہ پابندی فوری طور پر ختم کر دی، اور کہا کہ فیصلے شفافیت اور انصاف کی بنیاد پر ہوں گے۔جبکہ اصلاحات، انتخابات اور مصر میں ورلڈ کپ کوالیفائرز کے لیے انتظامی تعاون کا بھی اعلان کیا۔
محسن نقوی پی ایچ ایف کے صدر؟
محسن نقوی (وفاقی وزیر داخلہ، چیئرمین PCB) نے کھلاڑیوں سے ملاقات کر کے بدسلوکی پر افسوس کا اظہار کیا، انتظامی سہولتیں دلانے کی یقین دہانی کرائی۔
اس پر بات چل نکلی کے محسن نقوی اب ہاکی کی صدارت بھی سنبھال لیں گے۔ تاہم انہوں نے ایکس پر واضح کیا کہ “میں ہاکی فیڈریشن کا صدر نہیں بن رہا، مگر کھلاڑیوں کی مدد کریں گے” ۔
I am not becoming Hockey Federation President but we will Assist players till this turmoil ends
— Mohsin Naqvi (@MohsinnaqviC42) February 19, 2026
قومی ہاکی ٹیم کے ساتھ ناروا سلوک کا پس منظر
پاکستان ہاکی پہلے ہی گورننس کے دباؤ میں تھی۔ پی ایچ ایف کے انتخابات میں تاخیر اور فیڈریشن کے مالی/آڈٹ معاملات پر مسلسل سوالات اٹھتے رہے۔ ایسے میں بگٹی کو ابتدا میں (عبوری انتظام کے تحت) انتخابات کرانے کی ذمہ داری کے لیے لایا گیا تھا مگر یہ عمل مکمل نہ ہو سکا، جبکہ آڈیٹر جنرل کے 100 سے زائد آڈٹ پیراز اور FIA کی انکوائری/تحقیقات نے بھی مسائل کی طرف نشاندہی کی۔
یہ ساختی کمزوریاں اس آسٹریلیا ٹور میں کھل کر سامنے آئیں۔ ایک طرف پی ایچ ایف صدر بگٹی نے کہا کہ مالی و لاجسٹک کنٹرول PSB کے پاس تھا اور سینیٹ کمیٹی کی ہدایات کے مطابق PSB مالی معاملات دیکھ رہا تھا۔
دوسری طرف PSB نے دعویٰ کیا کہ اس نے فنڈنگ ذمہ داریاں پوری کیں، جبکہ ویزہ/دستاویزات اور آپریشنل ناکامیاں فیڈریشن سطح پر ہوئیں۔
یہی ادارہ جاتی کشمکش دراصل اس سوال کو جنم دیتی ہے کہ “ٹور مینجمنٹ” میں فیصلہ ساز کون تھا اور جوابدہی کس پر عائد ہوتی ہے—اور اسی تناظر میں کپتان پر پابندی اور اس کی فوری بحالی کو محض “ڈسپلن” نہیں بلکہ گورننس اور اقتدار کی کشمکش کے طور پر بھی دیکھا جا رہا ہے۔
قومی کھلاڑیوں کی تضحیک پر شائقین کا کارروائی کا مطالبہ
اس سارے مسئلے کی شفاف تحقیقات ہونی چاہیں کیونکہ یہاں کپتان کے الزامات اور پی ایج ایف اور پی ایس بی کی جانب سے ایک دوسرے پر الزامات کے درمیان جو خلاء پیدا ہوا وہ یہ ظاہر کرتا ہے کہ کہیں نہ کہیں مسائل ضرور ہیں۔
پاکستان ہاکی ٹیم کے کپتان کی جانب سے ناروا سلوک کی روداد سنائے جانے پر سوشل میڈیا صارفین آگ بگولہ ہو گئے ۔ صارفین نے تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ اگر کپتان کے الزامات درست ہیں تو قومی ٹیم کی تضحیک کا ذمہ دار کون ہے؟
قومی کھیل کیلئے نمائندگی کرنے والی قومی ٹیم کے ساتھ اس سلوک کے بعد یہ سوال بھی سامنے آیا کہ کرکٹ کی طرح ہاکی کو کب پروٹوکول دیا جائے گا؟



