نئی نسل

نسل کی تشکیل میں والدین اور معاشرے کا کردار

ایک جامع جائزہ کہ کس طرح والدین اور معاشرہ مل کر آنے والی نسل کے رویوں، اقدار اور مستقبل کو سنوارتے ہیں

جہاں گھر وہ پہلا کلاس روم ہوتا ہے، جو معاشرے کا سایہ پڑھنے سے قبل اپنا کردار ادا کرتا ہے، وہاں نسل کی تشکیل میں معاشرے کا کردار بھی نہایت اہم ہے۔

یہ کردار اس لیے بھی اہم ہے کہ ثقافت ایک "سماجی وراثت” ہے جو نسل در نسل منتقل ہوتی ہے۔ اس وراثت کے بگاڑ کا اندازہ اُس وقت ہوتا ہے جب کوئی نسل جنگ، فساد اور فتنوں کے دور میں پروان چڑھتی ہے۔

ایسے حالات میں والدین کے ساتھ ساتھ معاشرے کا کردار بھی دوگنا اہم ہو جاتا ہے۔ نسلیں اگر ایسے ادوار میں اپنی روایات اور اقدار کا پاس رکھ لیں تو وہ تاریخ میں امر ہو جاتی ہیں۔ لیکن اگر ناکام ہو جائیں، تو اس بگاڑ کی گونج آنے والی نسلوں تک سنائی دیتی رہتی ہے۔

نسل کی تشکیل میں والدین کا کردار

مشہور لکھاری جیمز بالڈون کہتے ہیں:
"بچے اپنے بڑوں کی بات سننے میں کبھی ماہر نہیں رہے، لیکن ان کی نقل کرنے میں کبھی ناکام نہیں رہے۔”

ماں کی گود کو پہلی درسگاہ اسی لیے کہا گیا ہے۔ والدین بچے کا پہلا نصاب ہوتے ہیں، اور بچہ ان کی نقل سے آگے بڑھتا اور نشوونما پاتا ہے۔

کسی کمزور شخص سے مؤدب انداز میں بات کرنے والے والد کو اپنے بچوں کو ہمدردی پر گھنٹوں لیکچر دینے کی ضرورت نہیں پڑتی۔ بچہ یہ سب دیکھ رہا ہوتا ہے اور اپنے ننھے ذہن کی کتاب پر پہلی تحریر لکھ رہا ہوتا ہے، جو آگے چل کر اس کی رہنمائی کرے گی۔

کسی گھر کا لہجہ، آنے والی نسل کے برتاؤ کا ضامن ہوتا ہے۔

ماہرینِ نفسیات سے لے کر گلی محلے کے فلسفی تک سب اس بات پر متفق ہیں کہ نظم و ضبط اور قواعد کی پاسداری دل و نیت سے کسی کام کو کرنے کا نام ہے، نہ کہ دباؤ اور خوف میں۔

اگر والدین کسی کام کو دباؤ کے تحت بچے سے کراتے ہیں، تو ممکن ہے کہ بظاہر وہ کام اچھا ہو، لیکن بچے کے دل میں اس رویے کے بارے میں منفی جذبہ پیدا ہو جائے۔ اور جیسے ہی والدین کی نگرانی ختم ہو، اُس کے اندر کا چھپا ہوا بغاوت کا جذبہ باہر آ جائے، جسے پہلے صرف سختی نے قابو میں رکھا ہوا تھا۔

ایسی نسل اگر کوئی وراثت آگے منتقل بھی کرے گی، تو بوجھ سمجھ کر۔ اور بوجھ کے ساتھ کیا گیا کوئی کام کبھی اچھے نتائج نہیں دیتا۔

نسل کی تشکیل میں معاشرے کا کردار

والدین کے بعد بچے کی نشوونما میں دوسرا اہم کردار معاشرے کا ہے۔ یہ بھی ایک درسگاہ ہے، جس کے اپنے قواعد و ضوابط ہیں۔

اگر معاشرہ زہریلے رویوں، عدم مساوات، گالم گلوچ، قتل و غارت اور ہراسگی کو معمول بنا لے اور اس پر کوئی سوال نہ اٹھائے، تو وہاں پروان چڑھنے والا نوجوان اپنی توانائی ایسے رویوں کے دفاع میں ضائع کر دے گا۔

اس کے برعکس، اگر معاشرہ رضاکارانہ سرگرمیوں کو عام بنا لے، تو وہاں کی نسل نہ صرف اپنے معاشرے بلکہ دنیا بھر میں مثبت کردار ادا کرے گی۔

لہٰذا جتنا جلدی اس حقیقت کو تسلیم کر لیا جائے کہ معاشرہ بھی نسل کی تشکیل کا اہم حصہ ہے، اتنا بہتر ہے۔ ورنہ یہ سوچ کہ "میرا گھر ہی میری کل کائنات ہے” اس وقت ٹوٹ جائے گی، جب معاشرے کی آگ آپ کی دہلیز تک پہنچ جائے گی۔

والدین اور معاشرے کا باہمی تعلق

"والدین بمقابلہ معاشرہ” کے بجائے "والدین اور معاشرہ” ایک ساتھ مل کر صحت مند نسل کی تشکیل کا ضامن بنتے ہیں۔

اکثر اس ضرورت کا احساس اُس وقت شدت سے ہوتا ہے جب بحران آتا ہے — چاہے وہ جنگ ہو، وبا ہو یا کوئی اور منفی دور۔ ایسے ادوار کے نقوش نسل در نسل وراثت کی طرح منتقل ہوتے رہتے ہیں۔

جب والدین اور معاشرہ ہم آہنگ ہو جائیں تو نسل سنور جاتی ہے۔ اور جب یہ ہم آہنگی ٹوٹ جائے، تو نسل زوال کا شکار ہو جاتی ہے۔ ایسی نسل کو پھر اخلاقیات یا روایات کے اصولوں پر نہیں پرکھا جاتا، بلکہ بس یہ دعا کی جاتی ہے کہ آنے والی نسلیں ان کے شر سے محفوظ رہیں۔

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button