اہم خبریں

قومی کرکٹر نسیم شاہ کے گھر پر حملہ، وجوہات نامعلوم

نسیم شاہ خود اس وقت قومی اسکواڈ کے ساتھ سری لنکا کے خلاف سیریز کی تیاری میں مصروف تھے۔

پیر کی صبح (10 نومبر 2025) کو نامعلوم مسلح افراد نے خیبر پختونخوا کے ضلع لوئر دیر کے علاقےمیاڑمیں واقع قومی ٹیم کے فاسٹ باؤلر  نسیم شاہ کے گھر پر فائرنگ کی۔

پولیس کے مطابق واقعہ تقریباً45۔1 منٹ پر پیش آیا، جس میں رہائش گاہ کے مرکزی دروازے پر متعدد گولیاں برسائی گئیں، جن کی نشانیاں اب اطراف میں نمایاں ہیں۔

رپورٹس کے مطابق گھر کے مرکزی دروازے، کھڑکیوں اور ایک گاڑی کو نقصان پہنچا ہے۔

 

نسیم شاہ کے گھر فائرنگ؛ کتنا نقصان ہوا؟

 

گھر میں اس وقت نسیم شاہ کے گھر کے افراد موجود تھے، تاہم کسی کے زخمی ہونے کی تصدیق ابھی نہیں ہوئی ہے۔

نسیم شاہ خود اس وقت قومی اسکواڈ کے ساتھ سری لنکا کے خلاف سیریز کی تیاری میں مصروف تھے۔

مقامی پولیس نے فوراًمیاڑتھانے میں مقدمہ درج کر کے علاقے کو سیل کیا اور بطور فورنزک تفتیش شروع کردی۔

معلومات کے مطابق اب تک پانچ مشتبہ افراد کو حراست میں لیا جا چکا ہے۔

مقام اور پس منظر

یہ واقعہ خیبر پختونخوا کے ضلع لوئر دیر میں پیش آیا۔ مذکورہ علاقہ ماضی میں سیکیورٹی چیلنجز کا سامنا کر چکا ہے، تاہم مقامی پولیس کا کہنا ہے کہ ابتدائی تفتیش میں یہ حملہ دہشت گردی کا حصہ نظر نہیں آ رہا بلکہ ممکنہ ذاتی یا زمین کے تنازع کا موجب ہو سکتا ہے۔

 واقعہ کا محرک اور اس کی نوعیت

  • تفتیش کاروں نے کہا ہے کہ حملے کا اصل مقصد واضح نہیں ہے، اور وہ ذاتی دشمنی یا زمین کے تنازع کی سمت میں شواہد اکٹھے کر رہے ہیں۔
  • اب تک یہ معاملہ دہشت گردی کے دائرے میں نہیں آیا۔
  • گھر کے ارد گرد سیکیورٹی مزید سخت کر دی گئی ہے۔

اثرات اور رد عمل

  • ملکی سطح پر یہ واقعہ عوامی شخصیات اور ان کے اہلِ خانہ کی ذاتی سیکیورٹی کے حوالے سے تشویش کا باعث بنا۔
  • اس کے باوجود نسیم شاہ نے اعلان کیا ہے کہ وہ قومی اسکواڈ کے ساتھ موجود رہیں گے اور مقررہ سیریز میں شرکت کریں گے۔
  • مقامی لوگوں نے واقعے پر حیرت کا اظہار کیا، اور بتایا کہ خاندان عام ہے اور ان کے خلاف کسی بڑے تنازعے کا علم نہیں۔

نتیجہ:

پولیس اور تحقیقاتی ادارے  سی سی ٹی وی فوٹیج، گولیوں کے نشانات اور مقامی افراد کے بیانات کا جائزہ لے رہے ہیں۔چونکہ معاملہ ایک معروف کرکٹر کے خاندان کا ہے، اس لیے عوامی سطح پر بحث اور میڈیا کوریج متوقع ہے۔

اگر یہ ثابت ہو گیا کہ حملہ ذاتی نوعیت کا نہیں، بلکہ وسیع سیکیورٹی خطرے کی نشاندہی کرتا ہے، تو ملک بھر میں کھیل سے وابستہ شخصیات کی سیکیورٹی حکمتِ عملی میں تبدیلی متوقع ہے۔

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button