نئی نسل کی تعلیم و تربیت: چیلنجز اور ممکنات
ڈیجیٹل دنیا کے اثرات، نفسیاتی چیلنجز اور جدید تعلیمی حکمتِ عملیوں کے ساتھ جنریشن زی اور الفا کی رہنمائی

سلمان آصف صدیقی ایک معروف ایجوکیشنل سائیکالوجسٹ ہیں جو اپنے ادارے میں نئی نسل کی تعلیم و تربیت سے متعلق مختلف ٹریننگز کرواتے ہیں۔ ان کی بیشتر سرگرمیاں اسی موضوع کے گرد گھومتی ہیں۔
ایک ٹریننگ کے دوران ان سے پوچھا گیا کہ بچوں کی تعلیم و تربیت پر اتنی بات کرنے کی ضرورت کیوں ہے؟ ماضی میں تو بچے ایک خاص انداز سے پرورش پاتے رہے ہیں اور جوانی میں اپنے فرائض بھی ادا کرتے ہیں، تو پھر ایسی ٹریننگز کا مقصد کیا ہے؟
جواب میں سلمان آصف صدیقی نے کہا کہ کچھ عرصہ پہلے تک بچے کو بگاڑنے کے تمام عوامل گھر کی دہلیز سے باہر ہوتے تھے۔ مگر اب وقت بدل چکا ہے۔ آج یہ عوامل ڈیجیٹل ڈیوائسز کی شکل میں ہمارے بیڈرومز تک پہنچ گئے ہیں۔ اسی لیے تعلیم اور تربیت پر بات کرنا پہلے سے کہیں زیادہ ضروری ہو گیا ہے۔
جنریشن زی (1997–2012) اور جنریشن الفا (2013 سے اب تک) کے سامنے آنے کے بعد یہ ضرورت اور بڑھ گئی ہے۔ جنریشن زی نے آنکھ انٹرنیٹ کے عروج کے دور میں کھولی، جبکہ جنریشن الفا نے جنم ہی مصنوعی ذہانت (AI) کے دور میں لیا۔ ان نسلوں کی تعلیمی اور تربیتی ضروریات کو پورا کرنا کئی وجوہات سے مشکل ہو گیا ہے۔
اہم چیلنجز میں شامل ہیں: ڈیجیٹل اوورلوڈ، ہر وقت ٹیکنالوجی استعمال کرنے کی وجہ سے توجہ کا مختصر دورانیہ، تنقیدی سوچ میں کمی اور کم عمری میں ہی نفسیاتی مسائل کا شکار ہونا۔
تاہم مواقع بھی موجود ہیں، جیسے روایتی تعلیم سے ہٹ کر پراجیکٹ بیسڈ لرننگ، AI کی مدد سے عملی مہارتوں کا حصول، تنقیدی سوچ کے نئے زاویے، اور سماجی و جذباتی ترقی کے جدید طریقے۔
ڈیجیٹل لینڈ اسکیپ میں تعلیم و تربیت کی رکاوٹیں
ڈیجیٹل نیٹو – رسائی کے باوجود اہلیت نہ ہونا:
جنریشن زی اور الفا ٹیکنالوجی کے عروج میں پلی بڑھی ہیں۔ یہ جسمانی طور پر یہاں ہیں مگر ذہنی طور ڈیجیٹل دنیا میں رہتی ہیں۔ اسٹینفورڈ سمیت عالمی ریسرچ ادارے اس نتیجے پر پہنچے ہیں کہ اگرچہ یہ نسل ڈیجیٹل ٹولز کے استعمال میں ماہر ہے، مگر حاصل شدہ معلومات کو تنقیدی نظر سے پرکھنے کی صلاحیت کم یا ختم ہو چکی ہے۔ اس لیے جدید ٹیکنالوجی کو تعلیم و تربیت میں شامل کرنے کے باوجود بھی مشکلات رہتی ہیں۔
توجہ مرکوز کرنے میں دشواری:
ڈیجیٹل آلات کے مسلسل استعمال اور ملٹی ٹاسکنگ نے توجہ کا دورانیہ کم کر دیا ہے۔ آج کہا جاتا ہے کہ نئی نسل کی توجہ صرف 2 سے 3 سیکنڈ رہتی ہے، اور یہ حقیقت کے قریب ہے۔ ریسرچ کے مطابق کسی ایک کام پر مکمل توجہ اور دماغی حاضری کے بغیر کارکردگی بہتر نہیں ہو سکتی، مگر نئی نسل یہ صلاحیت کھو رہی ہے۔
بگڑتی ہوئی نفسیاتی صحت:
سوشل میڈیا نے تعلقات اور نیٹ ورکنگ آسان بنائی، مگر اس کی بھاری قیمت نفسیاتی صحت کی صورت میں ادا کرنی پڑ رہی ہے۔ یہ نسل اپنی آن لائن شخصیت بہتر بنانے کے لیے خود پر تنقید کرتی ہے، دوسروں سے مقابلہ کرتی ہے، اور اپنا اصل پن کھو دیتی ہے۔ نتیجہ: ایک جذباتی و ذہنی طور پر تھکی ہوئی نسل۔
تعلیم و تربیت کا نیا تصور اور مواقع
چیلنجز کے باوجود اگر اس نسل کی سطح پر آ کر اور ٹیکنالوجی کو مثبت انداز میں استعمال کر کے کام کیا جائے تو تعلیم و تربیت کے نئے دروازے کھل سکتے ہیں۔
جدید تدریسی طریقے:
کسی کی توجہ حاصل کرنے کا بہترین طریقہ یہ ہے کہ اس کے دلچسپی کے موضوع پر بات کی جائے۔ اب وہ وقت گزر گیا جب صرف استاد کا طریقہ کار ہی اہم تھا۔ آج بعض اوقات طالبعلم اپنے استاد سے بھی زیادہ معلومات رکھتے ہیں۔
والدین اور اساتذہ اگر اس دلچسپی کو تعلیمی عمل میں شامل کر لیں، جیسے پراجیکٹ بیسڈ لرننگ، تو بچے اپنی مہارت اور سیکھے ہوئے علم کو ملا کر بہتر نتائج دے سکتے ہیں۔
سوشیو-ایموشنل لرننگ:
نصاب میں سماجی اور جذباتی سیکھنے کو شامل کرنے سے طلباء اپنے جذبات کو سمجھنا اور ان پر قابو پانا سیکھتے ہیں۔ اس سے وہ ڈیجیٹل نیٹو رہتے ہوئے بھی حقیقی رشتوں کو اہمیت دینا اور بہتر بنانا سیکھ سکتے ہیں۔
اختتامیہ
اگر ہم جدید دور کے تقاضوں کو سمجھتے ہوئے اور اس نسل کے چیلنجز کو سامنے رکھتے ہوئے ان کی سطح پر آ کر کام کریں تو کئی نئے مواقع سامنے آئیں گے۔ یہی مواقع جنریشن زی اور الفا کی تعلیم و تربیت کو آسان اور مؤثر بنا سکتے ہیں۔