
جنوبی پنجاب کے شہر مظفر گڑھ میں گوگل لائیو لوکیشن کے استعمال نے خاتون کو ریپ اور مزید نقصان سے بچا لیا۔تفصیلات کے مطابق 26 اکتوبر 2024 کی رات نو بجے ایک خاتون ڈاکٹر جن کا نام طیبہ بتایا جاتا ہے کو جاننے والے ایک نرس نے کال کی جس نے انہیں بتایا کہ انہیں کچھ لوگ اغواء کرنا چاہتے ہیں۔
مذکورہ خاتون نے ایک نجی نیوز ادارے کو بتایا کہ وہ ڈیوٹی ختم کر کے گھر کیلئے رکشہ پر نکلی تو وہاں پہلے سے رکشے میں ایک مشتبہ شخص موجود تھا۔
جب رکشے والے نے راستہ تبدیل کیا تو مذکورہ نرس نے ان سے پوچھا کہاں جارہے ہو تو اس نے دوسری سواری کو اتارنے کا کہہ کر اسے ٹال دیا۔
لیکن بعد میں خطرہ بھانپتے ہوئے نرس نے پہلے اپنے بھائی کو کال کی لیکن انہوں نےکال پک نہ کی۔ نرس نے بعدازاں ڈاکٹر طیبہ کو کال کی جنہوں نے اسے اپنی گوگل لائیو لوکیشن شیئر کرنے کا کہا اور بعدازاں وہ اپنے شوہر کے ساتھ بھیجی گئی لوکیشن پر نکل پڑی۔
مزید پڑھیں:انتظار حسین پنجوتھہ بازیابی کہانی میں 5 بڑے بلنڈرز
ڈاکٹر طیبہ کے بقول راستے سے انہوں نے ایک پولیس والے کو لیا جو کہ چھٹی کے بعد جارہے تھے۔ لیکن کسی کی عزت بچانے کا سنتے ہی وہ بھی گاڑی میں بیٹھ گئے اور مزید نفری طلب کر لی۔
نرس کے مطابق اس دوران وہ لوگ اسے گنے کے کھیتوں کی طرف لے گئے جہاں انہوں نے اس پر تشدد بھی کیا لیکن نرس نے اپنی مزاحمت جاری رکھی۔
اسی دوران ڈاکٹر طیبہ اپنے شوہر اور پولیس جوان کے ساتھ لائیو لوکیشن پر پہنچ گئیں جہاں انہوں نے دور سے دیکھا اور نرس کو چھوڑنا کا کہا لیکن ملزمان ٹس سے مس نہ ہوئے جس کے بعد پولیس کانسٹیبل نے چار فائر کئے اور یوں ملزمان نرس کو چھوڑ کر وہاں سے بھاگ گئے۔ یوں ایک نرس کی ٹیکنالوجی سے واقفیت اور تین لوگوں کے بروقت جواب نے ایک خاتون کی عزت لٹنے سے بچا لی۔