اہم خبریں

کیا میٹا بنا اجازت آپکی ذاتی معلومات استعمال کرنے لگا ہے؟

فیس بک پر ایک وائرل پوسٹ کو نہ صرف صارفین خود شیئر کر رہے بلکہ اسے آگے پھیلانے کی تلقین بھی کر رہے ہیں۔

پاکستان کے فیس بک اکاؤںٹس پر حالیہ دنوں میں ایک نیا رحجان دیکھنے کو ملا ہے جس میں صارفین ایک پوسٹ بڑے پیمانے پر کاپی کر کے صرف اپنا نام تبدیل کر کے اسے پوسٹ کر رہے ہیں۔

اس پوسٹ کے متن میں درج ہے  کہ میٹا کو یکطرفہ طور پر پرائیویسی تبدیل کرنے اور صارف کی ذاتی معلومات ، تصاویر وغیرہ کو استعمال کرنے کی ہرگز اجازت نہیں دی جائے گی۔

کیا ایسا کوئی پیغام میٹا (فیس بک کی پیرنٹ کمپنی) کیلئے کوئی اہمیت رکھتا ہے یا نہیں اورکیا ہر صارف کو ایسا کرنا چاہیے یا نہیں یہ بحث اب زور پکڑتی جارہی ہے۔

 

فیس بک پر وائرل پیغام :

 

فیس بک پر وائرل پیغام کچھ اس طرح ہے: "میں شاہد خان (فرضی نام)  یہ واضح کرتا ہوں کہ میں اپنی ذاتی معلومات اور تصاویر کے استعمال کے لیے فیس بک یا میٹا کو کوئی اجازت نہیں دیتا۔”

پوسٹ میں مزید درج ہے کہ : ” کل ایک اہم دن ہے جس پر رات 9:20 بجے باضابطہ مہر لگائی گئی ہے اور یہ خبر ٹی وی پر نشر کی گئی ہے۔

فیس بک کے نئے قوانین کل سے نافذ ہوں گے جو آپ کی تصاویر کے استعمال کی اجازت دیتے ہیں۔”

اس کے بعد صارف کو پوسٹ شیئر کرنے کیلئے کچھ اس طرح اکسایا جاتا ہے ، ” مدت آج ختم ہو رہی ہے۔ براہِ کرم اس پیغام کو کاپی کریں اور اپنے پروفائل پر ایک نئی پوسٹ بنا کر پیسٹ کریں۔ جو لوگ ایسا نہیں کریں گے، انہیں اجازت دینے والا سمجھا جائے گا۔

پرائیویسی کی خلاف ورزی پر قانونی نتائج ہو سکتے ہیں۔ میں اپنی ذاتی معلومات اور تصاویر کے استعمال کے لیے فیس بک یا میٹا کو کوئی اجازت نہیں دیتا۔”

میٹا سے منسوب اس پیغام میں کتنی صداقت ہے:

 

فیس بک کی پیرنٹ کمپنی میٹا سے منسوب یہ پوسٹ ایک فیک پوسٹ ہے جسے فیئر آف مسنگ آؤٹ (Fear of Missing out) یعنی کہ میں پیچھے نہ رہ جاؤں کی دوڑ کی وجہ سے شیئر کیا جارہا ہے۔

یہ پیغام کئی سالوں سے مختلف شکلیں بدل کر سامنے آتا رہا ہے اور فیس بک سمیت کئی آزاد فیکٹ چیکرز اس کی باقاعدہ نفی بھی کرتے رہے ہیں۔

ڈیجیٹل پرائیویسی کیلئے صارفین کا تنقیدی سوچ اپنانا اچھا عمل ہے لیکن صارفین کا یہ عمل درست نہیں ہے۔

اول تو فیس بک کی جانب سے ایسی کوئی اپڈیٹ جاری نہیں کی گئی۔ بالفرض اگر میٹا ایسی کوئی تشہیر کرتا تو بھی اس کی نفی کرنے کیلئے ہمارا فیس بک میسج لگانا اور اسے شیئر کرنا کافی نہیں ہوگا۔

ایسے میں ایک صارف اپنی پرائیویسی کیلئے کیا کر سکتا ہے،یہ سوال اہم ہے جس کو سمجھنا چاہیے اور اس کا جواب ڈھونڈنا چاہیے۔

 

فیس بک کے پاس کیا اختیارات ہیں اور یہ کنٹرول کیسے کام کرتا ہے؟

 

ملکیت:

آپ فیس بک پر جو بھی پوسٹ کرتے ہیں وہ آپ کی ملکیت رہتا ہے اور فیس بک اس میں کوئی رد و بدل نہیں کر سکتا ہے۔

لیکن فیس بک استعمال کرتے ہوئے آپ ان شرائط سے اتفاق کرتے ہیں کہ فیس بک آپ کی پوسٹس کو اپنی سروسز چلانے جیسا کہ اشتہارات دکھانایا پروڈکٹس وغیرہ کی تشہیر کیلئے استعمال کر سکتا ہے۔

یہاں بھی آپ کے انتخاب کو ترجیح دی جاتی ہے ۔ آپ جیسا استعمال کریں گے ، فیس بک کے الگورتھم آپ کو ویسا مواد دکھائیں گے۔

کنٹرول:

 

اپنی پرائیویسی اور آڈینس کی سیٹنگز میں آپ یہ طے کرتے ہیں کہ کون آپ کی پوسٹ دیکھ سکتا ہے اور کون نہیں۔

اسی طرح آپ کسی پیچ یا آپ کو اپنے اضافی ڈیٹا تک رسائی کیلئے بھی خود اجازت مہیاکرتے ہیں ۔ وگرنہ ایسا خود بخود نہیں ہو سکتا ۔

میٹا کی پالیسی تبدیلیاں:

 

بالفرض میٹا کی جانب سے پرائیویسی شرائط میں کوئی تبدیلی کی جاتی ہے تو ایسی صورت میں میٹا آپکو باقاعدہ نوٹیفکیشن کے ذریعے ان سے آگاہ کرتا ہے۔

اسکے بعد آپ کے پاس انتخاب ہوتا ہے کہ آپ ان شرائط سے اتفاق کریں اور سروس جاری رکھیں یا استعمال ترک کردیں۔ فیس بک خاموشی سے یا یک طرفہ طور پر پرائیویسی کی سیٹنگز تبدیل نہیں کر سکتا۔

 

فیس بک کی پرائیویسی کیسے محفوظ بنائی جائے ؟

 

اگر آپ واقعتًا اپنی فیس بک پرائیویسی کو محفوظ بنانا چاہتے ہیں تو آپ کو درج ذیل  اقدامات اٹھانا ہوں گے۔

فیس بک پرائیویسی چیک اپ:

 

اگر آپ فیس بک کی پرائیویسی سے بالکل نا واقف ہیں تو آپ فیس بک سرچ کا پرائیویسی چیک ٹول استعمال کریں یہ اپ کو آگاہ کرے گا کہ آپ نے کس کس چیز پر نظر رکھنی ہے۔

اس پرائیویسی چیک میں فیس بک آپکو مکمل گائیڈ کرتا ہے اور آپ ایک ایک کر کے اپنی پرائیویسی کو ریویو کرتے ہیں۔

اس دوران آپ سیٹنگز تبدیل کر سکتے ہیں۔

 

مینوئیل پرائیویسی چیک:

 

آپ چند اقدامات پر عمل کرتے ہوئے خود بھی فیس بک کا مینوئیل طریقے سے پرائیویسی چیک کر سکتےہیں۔

اس کیلئے آپ کو پرانی فیس بک پوسٹس کو پبلک سے پرائیوٹ کرنا ہوگا۔ اپنی ذاتی تصاویر کو پبلک سے ہٹا کر صرف فرینڈز تک محدود کر دیں۔

اس کے بعد بھی اگر آپکو پرائیویسی میں دشواری آئے تو آپ مکمل طور پر اپنی ذاتی تصاویر کو لاک کر سکتے ہیں۔

اس کے علاوہ اس بات کو چیک کریں کہ آپ نے کس کس کو یہ اجازت دے رکھی ہے کہ وہ آپکو ٹیگ کر سکے۔ یہاں بھی مناسب تبدیلی آپ کی پرائیویسی کو بہتر بنا سکتی ہے۔

 

خلاصہ:

 

ایسی پوسٹ اس لئے پھیلتی ہیں کہ ہم سوشل میڈیا  پرائیویسی کا کنٹرول بھی چاہتے ہیں اور اس کیلئے ہم ڈیجیٹل لٹریسی کیلئے بھی تیار نہیں ہیں۔

ڈیجیٹل لٹریسی کے بغیر سوشل میڈیا پرائیویسی کا تحفظ ویسے ہی مشکل ہے جیسے ایسی پوسٹ کر کے میٹا سے اپنی تصاویر اور ڈیٹا استعمال کرنے کا اختیار چھننا۔

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button