کیا پاکستان نے وٹس ایپ کے متبادل ایپ تیار کر لی ہے
بیپ پاکستان ایپ کے فیچرز، مقصد اور یہ واقعی واٹس ایپ کا متبادل ہے یا نہیں، اس کی حقیقت جانیے۔

بیپ پاکستان میں وہ تمام فیچر شامل ہیں جو کہ ممکنہ طور پر حکومتی امور چلانے میں کارآمد ثابت ہو سکتے ہیں۔ لیکن اسے واٹس ایپ کے متبادل قرار دینا یعنیٰ کے اسے تمام عوام تک رسائی ہو اور یہ ان کے کام کو اسی طرح سر انجام دے جیسا واٹس ایپ دیتا آیا ہے تو ایسا ابھی ممکن نہیں ہے۔
بیپ پاکستان کو وٹس ایپ کے مقابل کھڑا ہونے کیلئے واٹس ایپ طرز کے سیکورٹی فیچر متعارف کرانا ہوں گے۔ اس کے ساتھ اسے واٹس ایپ کی طرز پر سپیڈ اور استعمال کرنے میں آسانی مہیا کرنے کے ساتھ صارفین کا اعتماد بھی جیتنا ہوگا۔ یعنیٰ کہ کام زیادہ اور فرق کم ہے۔
ایک طرف پاکستانی صارفین کو واٹس ایپ استعمال کرنے میں مشکلات کا سامنا ہے اور وہ اپنے پیغام جیسا کہ ویڈیو، تصاویر بھیجنے سے قاصر ہیں۔ ایسے میں ایک نئی خبر سامنے آئی ہے کہ حکومت نے واٹس ایپ کو ٹکر دینے کیلئے نئی متبادل ایپ "بیپ پاکستان” متعارف کرا دی ہے۔
واٹس ایپ کے متبادل ایپ بیپ پاکستان کیسے کام کرتی ہے؟
نیشنل انفارمیشن ٹیکنالوجی بورڈ کی جانب سے گزشتہ سال بیپ پاکستان کے نام سے ایک میسجنگ ایپ متعارف کرائی گئی تھی جو تقریباً ایک سال سے وزارتِ انفارمیشن ٹیکنالوجی میں آزمائشی بنیادوں پر چلائی جا رہی ہے۔
گزشتہ دنوں پاکستان میں جب انٹرنیٹ کی سپیڈ میں کمی دیکھی گئی اور فیس بک، واٹس ایپ سمیت کئی ایپس نے کام کرنے میں سستی دکھائی، تو پاکستان میں ایک بحث چل نکلی کہ پاکستان واٹس ایپ کے متبادل میں بیپ پاکستان نامی ایپ متعارف کرا رہا ہے، جس سے پاکستان میں واٹس ایپ کی چھٹی ہو جائے گی۔
پاکستان میں پھیلنے والی اس خبر کو نہ صرف ملکی بلکہ بین الاقوامی سطح پر بھی توجہ ملی۔ تاہم، وزیر مملکت برائے انفارمیشن ٹیکنالوجی شزا فاطمہ خواجہ نے اس بات کی تردید کر دی ہے۔
شزا فاطمہ کا مؤقف
شزا فاطمہ نے عرب نشریاتی ادارے الجزیرہ کو انٹرویو میں واضح کیا کہ بیپ پاکستان کو واٹس ایپ کے متبادل کے طور پر متعارف نہیں کرایا جا رہا اور اس کا واٹس ایپ سے موازنہ درست نہیں ہے۔
انہوں نے بیپ پاکستان کو تھرڈ پارٹی اپلیکیشن کے طور پر استعمال کرنے کے دعوؤں کی سختی سے تردید کرتے ہوئے واضح کیا کہ بیپ پاکستان صرف حکومتی امور چلانے کیلئے استعمال کی جائے گی۔
وزیر مملکت آئی ٹی کا کہنا تھا کہ حکومت اب اپنی پرائیویسی پر مزید سمجھوتہ نہیں کر سکتی، اس لیے یہ ایپ اب استعمال میں لائی جائے گی۔ اس ایپ کا تمام تر ڈیٹا اور سروس حکومت پاکستان کے ہاتھ میں ہو گی۔ انہوں نے بتایا کہ وزارتِ انفارمیشن ٹیکنالوجی میں اس کی آزمائش جاری ہے۔
مزید پڑھیں: چیٹ جی پی ٹی مسلمان ہو گیا
بیپ پاکستان کی خصوصیات
بیپ پاکستان کو آڈیو، ویڈیو شیئر کرنے اور کانفرنس کال کرنے کیلئے ترتیب دیا گیا ہے۔ وزارتِ انفارمیشن ٹیکنالوجی کے مطابق یہ ایپ اگرچہ انٹرنیٹ کے ساتھ کنیکٹ ہونے سے ہی قابل استعمال ہوگی، لیکن یہ دیگر ایپس سے محفوظ تصور کی جاتی ہے۔
حکومتی امور میں بیپ پاکستان کی کارکردگی
بیپ پاکستان میں وہ تمام فیچر شامل ہیں جو ممکنہ طور پر حکومتی امور چلانے میں کارآمد ثابت ہو سکتے ہیں۔ لیکن اسے واٹس ایپ کے متبادل قرار دینا — یعنی یہ تمام عوام تک رسائی حاصل کرے اور ان کے کام کو اسی طرح سر انجام دے جیسا واٹس ایپ دیتا آیا ہے — ابھی ممکن نہیں ہے۔
بیپ پاکستان کو واٹس ایپ کے مقابل کھڑا ہونے کیلئے، واٹس ایپ طرز کے سکیورٹی فیچر متعارف کرانے ہوں گے۔ اس کے ساتھ اسے واٹس ایپ کی طرز پر سپیڈ اور استعمال میں آسانی مہیا کرنے کے ساتھ صارفین کا اعتماد بھی جیتنا ہوگا۔
یعنی، کام زیادہ اور فرق کم ہے۔