کھیل

کیا انٹرنیشنل کرکٹ سے ریٹائرمنٹ واپس لینے والوں کو دوبارہ موقع ملنا چاہیے؟

قومی ٹیم کے کئی ایسے ہیرے کھلاڑی تھے جنہوں نے کیرئیر کے آغاز پر اچھا پرفارم کیا لیکن تھوڑی سی پرفارمنس میں خرابی ان کی مستقل طور پر ٹیم سے ڈراپ کی وجہ بنی۔

پاکستانی کرکٹ بورڈ ہو یا پاکستانی کرکٹ ٹیم ، سیاست میں یہ دونوں قومی سیاست کو بھی پیچھے چھوڑ چکے ہیں۔

یہاں کرکٹ کا کوئی تجربہ نہ رکھنے والے افراد کرکٹ بورڈ میں اعلیٰ عہدوں پر فائز ہو جاتے اور سلیکشن کمیٹی میں بھی اپنی پسند کے افراد شامل کر لیتے۔

بورڈ میں اعلیٰ عہدوں پر فائز ہونے والی یہ مخلوق عہدے کا حلف اٹھاتے ہی اپنے من پسند کھلاڑیوں کو نوازنا شروع کر دیتی۔

وں جس کھلاڑی کا دل چاہتا ہے وہ ذرا سا نامناسب وقت سامنے آتی ہی انٹرنیشنل کرکٹ سے ریٹائرمنٹ لے لیتا ہے اور پھر اپنی مرضی کی سلیکشن کمیٹی ملنے پر دوبارہ اپنی شرائط کے ساتھ ٹیم میں شامل ہو جاتا ہے۔

 

عامر اور عماد کی انٹرنیشنل کرکٹ سے ریٹائرمنٹ اور واپسی:

ایسا ہی ایک نظارہ حالیہ دنوں میں دیکھنے کو ملا ہے جہاں آل رؤانڈر عماد وسیم اور محمد عامر نے انٹرنیشنل  کرکٹ سے ریٹائرمنٹ کے ایک لمبا عرصہ گزر جانے کے بعد ریٹائرمنٹ واپس لینے کا فیصلہ کیا۔

دونوں کھلاڑیوں نے دوبارہ اپنی خدمات ٹیم کیلئے پیش کر دیں۔

عماد وسیم کی بات کر لی جائے تو انہوں نے دبئی لیگ کھیلنے کیلئے قومی ٹیم تک کو الوادع کہہ دیا تھا۔ ان کا دعوی تھا کہ انہیں ٹیم سے جان بوجھ کر ڈراپ کیا جاتا ہے۔

یوں انہوں نے دلبرداشتہ ہو کر گزشتہ سال انٹرنیشنل کرکٹ سے ریٹائرمنٹ لے لی تھی۔تاہم اب وہ بورڈ حکام سے ملاقات کے بعد اپنی شرائط پر واپس ٹیم میں آگئے۔

 

مزید پڑھیں‌:‌عماد وسیم کی شائقین کرکٹ کو بڑی خوشخبری

 

محمد عامر کی بات کر لی جائے توکیرئیر کے شروع میں ہی سپاٹ فکسنگ سکینڈل میں ملوث ہونے پر محمد عام کو لمبا عرصہ ٹیم سے بار رہنا پڑا۔ وہ دوبارہ واپس تو آئے لیکن ان کی کارکردگی دوبارہ واپس نہ آ سکی۔

عامر بھی فرنچائز لیگ کھیلنے کے پر تول رہے تھے لیکن بورڈ سے این و سی نہ ملنے پر وہ انٹرنیشنل کرکٹ سے ریٹائر ہو گئے۔ تاہم وہ پی ایس ایل میں اپنے جلوے دکھاتے رہے۔

 

کیا ریٹائرمنٹ لینے والوں کو دوبارہ موقع ملنا چاہیے؟

 

یہاں سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ ریٹائرمنٹ واپس لینے والوں کو قومی ٹیم میں دوبارہ موقع ملنا چاہیے؟

دیکھا جائے تو اس معاملے میں بظاہر کوئی مضائقہ نظر نہیں آتا۔ تاہم اگر کسی کھلاڑی کو دوبارہ قومی ٹیم میں شامل کیا جائے تو اسکی کارکردگی اور فٹنس کو مدنظر رکھتے ہوئے موقع ملنا چاہیے نہ کہ بورڈ اسکی شرائط مانتا پھرے۔

اسی طرح قومی کرکٹ ٹیم کے میچز کو چھوڑ کر پرائیوٹ لیگز میں کھیلنے والے کھلاڑیوں کوکسی طور دوبارہ موقع نہیں ملنا چاہیے۔

قومی ٹیم کے کئی ایسے ہیرے کھلاڑی تھے جنہوں نے کیرئیر کے آغاز پر اچھا پرفارم کیا لیکن تھوڑی سی پرفارمنس میں خرابی ان کی مستقل طور پر ٹیم سے ڈراپ کی وجہ بنی۔

ایسے کھلاڑیوں پر پی سی بی کی جانب سے محنت کی جاتی تو ان کی واپس ممکن ہو پاتی۔ لیکن ان پر محنت نہ کی گئی  ناں ہی دوبارہ موقع ملا۔ بالآخر  انہوں نے ریٹائرمنٹ کا راستہ چنا۔

ایسے کھلاڑیوں کی  ٹیم میں واپسی کو ریٹائرمنٹ لے کر واپس آنے والوں پر ترجیح دی جانی چاہیے۔

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button