اہم خبریںپاکستان

ایڈہاک ججز کی تعیناتی کا پلان فلاپ

سپریم کورٹ آف پاکستان میں ایڈہاک ججز کی تعیناتی کا پلان فلاپ ہوتا نظر آنے لگا ہے۔ اگرچہ اس حوالے سے جوڈیشل کونسل کا اجلاس ابھی ہونا باقی ہے، لیکن اس اجلاس سے قبل ہی چنے گئے 4 میں سے دو ججز نے ایڈہاک جج بننے سے معذرت کر لی ہے۔
جسٹس مشیر عالم نے پہلے دن ہی اس عہدے کو قبول کرنے سے معذرت کر لی تھی جبکہ جسٹس مقبول باقر نے آج اس عہدے کو قبول کرنے سے معذرت کی۔ ایڈ ہاک ججز کی تعیناتی کے حوالے سے ہونے والے اجلاس میں مزید فیصلہ سامنے آئے گا۔
اس حوالے سے پریس کانفرنس کرتے ہوئے سینئر قانون دان اور پی ٹی آئی رہنما سینیٹر حامد خان نے سپریم کورٹ میں ایڈ ہاک ججز کی تقرری کو مسترد کر دیا۔
سینئر وکلاء کے ساتھ پریس کانفرنس کرتے ہوئے حامد خان کا کہنا تھا کہ ایڈہاک ججز اس وقت لگائے جاتے ہیں جب سپریم کورٹ میں ججز کا نمبر پورا نہ ہوا اور انکی تعیناتی میں کوئی مسئلہ آرہا ہو۔
حامد خان کا کہنا تھا کہ موجودہ حالات میں سپریم کورٹ کو کورم مکمل ہے اور 17 ججز کے موجود ہوتے ہوئے ایڈہاک ججوں کی تقرری کا کوئی آئینی جواز نہیں ہے۔

مزید پڑھیں:‌پی ٹی آئی پر پابندی کیلئے سپریم کورٹ میں بڑی گیم

انہوں نےمزید کہا کہ پاکستان بھر کے وکلاء اس تقرری کے خلاف ہیں اور اگر کوئی نہیں احتجاج کر رہا تو اس کے پیچھے کچھ اور عوامل ہوں گے۔ اس کے ساتھ انہوں نے جسٹس مشیر عالم کو خراج تحیسن بھی پیش کیا کہ انہوں نے فی الفور اس تقرری کو قبول نہ کرنے کا بیان دیا۔
انہوں نے بقیہ ججز سے بھی امید اور استدعا کی کہ وہ اس تقرری کو قبول کرنے سے انکار کریں گے۔
یاد رہے کہ چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے سپریم جوڈیشل کونسل کا اجلاس طلب کرتے ہوئے ایڈ ہاک ججوں کی تقرری کا معاملہ اٹھایا تھا جس کیلئے جسٹس مشیر عالم ، جسٹس مقبول باقر، جسٹس سردار طارق مسعود اور جسٹس مظہر عالم میاں خیل کے نام سامنے آئے تھے۔

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button