
قومی کرکٹ ٹیم کیلئے ایک بار پھر ایک نیازی نے بڑی ٹرافی بلند کی — اس بار قیادت محمد عرفان خان نیازی کے ہاتھوں، جنہوں نے 2025 ایشیا کپ رائزنگ اسٹارز میں ٹیم کو فتح دلائی۔
شائقین کرکٹ فوراً ہی پاکستان کے عظیم سابق کپتان عمران خان نیازی سے تقابل کرنے لگے۔
اگرچہ عمران خان کی وراثت ورلڈ کپ جیتنے سے جڑی ہے، مگر عرفان کی کامیابی ظاہر کرتی ہے کہ ایک اور نیازی اپنی پہچان تراش رہا ہے — ابھی سینئر ٹیم میں نہیں، مگر اُبھرتی ہوئی صلاحیتوں کے میدان میں۔
عمران خان نے دنیا کی بہترین ٹیموں کے خلاف کرکٹ کے سب سے بڑے مقابلوں میں اپنی قیادت کا لوہا منوایا تھا، جبکہ عرفان کا سفر ڈومیسٹک کرکٹ اور ڈویلپمنٹ اسکواڈز کے ذریعے آگے بڑھا ہے۔
لیکن رائزنگ اسٹارز ایشیا کپ کا تیسرا ٹائٹل جیتنا (پاکستان شاہینز اب یہ ٹرافی تین بار جیت چکے ہیں) یہ ثابت کرتا ہے کہ نیازی نام اب بھی پاکستان کے کرکٹ مستقبل کی تشکیل میں اہم وزن رکھتا ہے۔
کامیابی کی جانب سفر: پاکستان شاہینز کی ناقابلِ شکست مہم
ٹورنامنٹ کا فارمیٹ اور کپتانی
ایشیا کپ رائزنگ اسٹارز 2025، جو ایشین کرکٹ کونسل کی جانب سے منعقد ہوا، دوحہ، قطر میں کھیلا گیا اور اس میں آٹھ "اے” یا ڈویلپمنٹ ٹیموں نے حصہ لیا۔
عرفان خان نیازی کی قیادت میں پاکستان شاہینز کو گروپ بی میں رکھا گیا، جہاں اُن کے ساتھ عمان، انڈیا اے اور یو اے ای شامل تھے۔ پی سی بی نے ٹورنامنٹ سے قبل عرفان کو باضابطہ کپتان مقرر کیا۔
گروپ اسٹیج میں شاندار کارکردگی
عمان کے خلاف (اوپننگ میچ):
شاہینز نے فاتحانہ آغاز کیا۔ اوپنر معاذ صداقت نے دھواں دار اننگز کھیلی جبکہ کپتان عرفان خان نے بھی صرف 21 گیندوں پر 44 رنز کی برق رفتار اننگز سے اہم کردار ادا کیا۔
انڈیا اے کے خلاف:
ایک اہم مقابلے میں معاذ صداقت دوبارہ نمایاں رہے۔ انہوں نے صرف 47 گیندوں پر 79 رنز ناٹ آؤٹ بنا کر شاہینز کو 40 گیندیں باقی ہوتے ہوئے آٹھ وکٹوں سے جیت دلائی۔
یو اے ای کے خلاف:
شاہینز نے شاندار کارکردگی دکھاتے ہوئے یو اے ای کو صرف 59 رنز پر آؤٹ کر دیا، اور پھر 88 گیندیں باقی رہتے ہوئے سکون سے ہدف حاصل کر لیا۔
گروپ اسٹیج میں یہ تینوں فتوحات شاہینز کو بھرپور رفتار اور اعتماد دے گئیں۔
فائنل: بڑا اسٹیج، بڑی کارکردگی
فائنل — بنگلہ دیش اے کے خلاف:
فائنل انتہائی سنسنی خیز رہا۔ دونوں ٹیموں نے 20 اوورز میں 125-125 رنز بنائے، اور میچ سپر اوور میں چلا گیا۔
- سپر اوور میں بنگلہ دیش اے کو صرف 6 رنز تک محدود کر دیا گیا۔
- پاکستان کو 7 رنز درکار تھے، جو انہوں نے صرف چار گیندوں میں حاصل کر لیے — سعد مسعود نے ایک باؤنڈری سمیت اہم شاٹس کھیل کر ٹرافی یقینی بنا دی۔
اصل اننگز میں شاہینز کی بیٹنگ کچھ مشکلات کا شکار رہی: ٹاپ آرڈر ناکام ہوا اور ٹیم 125 پر آؤٹ ہو گئی۔
مگر باؤلرز نے شاندار کم بیک کیا، خصوصاً اسپنرز نے۔
سفیان مقیم، بائیں ہاتھ کے اسپنر، نے دباؤ کے لمحات میں 11 رنز کے عوض 3 وکٹیں حاصل کیں۔
اہم کھلاڑی اور حکمتِ عملی
1. معاذ صداقت
- ٹورنامنٹ کے اسٹار بیٹسمین — انڈیا اے کے خلاف ان کی 79 رنز ناٹ آؤٹ کی اننگز فیصلہ کن ثابت ہوئی۔
- انہوں نے باؤلنگ میں بھی اہم کردار ادا کیا، جس سے وہ حقیقی آل راؤنڈر نظر آئے۔
2. عرفان خان نیازی (کپتان)
- کپتانی کے ساتھ ساتھ اپنی تیز رفتار اننگز سے بھی ٹیم کو سہارا دیا، جیسے عمان کے خلاف 44 رنز۔
- ان کے فیصلے — مثلاً یو اے ای کے خلاف پہلے باؤلنگ کرنا — بڑے مؤثر ثابت ہوئے۔
- سپر اوور جیسے دباؤ کے لمحات میں اُن کی قیادت نمایاں رہی۔
3. سفیان مقیم
- فائنل میں بنگلہ دیش کی تباہی کے مرکزی کردار — 11 رنز میں 3 وکٹیں۔
- خاص طور پر اہم اوورز میں اُن کی لائن و لینتھ نے بیٹسمینوں کو پریشان رکھا۔
4. احمد دانیال
- انہوں نے سپر اوور کرایا اور سخت دباؤ کے باوجود بنگلہ دیش کو کم اسکور تک محدود رکھا۔
5. ٹیم کی گہرائی اور توازن
- شاہینز نے ثابت کیا کہ وہ کسی ایک یا دو کھلاڑی پر انحصار نہیں کرتے۔
- ان کے پیس، اسپن، بیٹنگ اور ڈیتھ اوور اسکلز نے انہیں ہر میچ میں مضبوط رکھا — اور وہ پورا ٹورنامنٹ ناقابلِ شکست رہے۔
اس فتح کی اہمیت
پاکستان کے لیے:
یہ ٹائٹل صرف ایک ڈویلپمنٹ ٹرافی نہیں— یہ پاکستان کی مضبوط کرکٹنگ بیک اَپ کا ثبوت ہے۔
اس ایونٹ کو تیسری بار جیتنا ظاہر کرتا ہے کہ پاکستان کے "اے لیول” کھلاڑیوں کی کوالٹی کتنی اچھی ہے۔
عرفان خان نیازی کے لیے:
یہ کامیابی اُن کے کیریئر میں بڑا قدم ہے۔
جیسے عمران خان نیازی کا نام پاکستان کرکٹ کی تاریخ میں سنہری حروف میں لکھا ہے، ویسے ہی عرفان نے بھی اب ایک بڑی ڈویلپمنٹ ٹائٹل کے ساتھ اپنا نام ابھارا ہے۔
نوجوان کھلاڑیوں کے لیے:
معاذ صداقت اور سفیان مقیم جیسے کھلاڑی اب سلیکٹرز کی نظر میں بہتر پوزیشن میں ہیں۔
ان کی کارکردگی بتاتی ہے کہ وہ بڑے اسٹیج کے لیے تیار ہیں۔
چیلنجز اور سیکھنے کے پہلو
مڈل آرڈر کی کمزوری:
فائنل میں شاہینز کے ابتدائی بلے باز ناکام ہوئے اور صرف 125 تک محدود رہے۔ (جیو نیوز)
مستقل کامیابی کے لیے مڈل آرڈر کو زیادہ مضبوط ہونا ہوگا۔
دباؤ والے لمحات:
اگرچہ سپر اوور جیت لیا، مگر ایسے قریبی مقابلے خطرناک ہو سکتے ہیں۔
میچز کو زیادہ آرام سے ختم کرنے کی صلاحیت درکار ہے۔
قیادت کا مستقبل:
عرفان خان نیازی کے لیے یہ پلیٹ فارم ہے — مقصد نہیں۔
دیکھنا ہوگا کہ وہ "اے ٹیم” یا سینئر سطح پر ایسی کارکردگی دہرا سکتے ہیں یا نہیں۔
اختتامیہ
ایشیا کپ رائزنگ اسٹارز 2025 میں عرفان خان نیازی کی قیادت میں پاکستان شاہینز کی فتح ایک اہم سنگِ میل ہے۔
یہ نہ صرف پاکستان کی ڈویلپمنٹ کرکٹ کی طاقت ظاہر کرتی ہے بلکہ نیازی خاندان کی قیادت کی روایت میں ایک نیا باب بھی جوڑتی ہے — جو عمران خان کی یاد دلاتا ہے، مگر اپنا منفرد راستہ بھی بناتا ہے۔



