
کہا جاتا ہے کہ انصاف میں تاخیر، انصاف سے انکار کے مترادف ہوتی ہے، مگر پاکستان میں یہ جملہ محض ایک کہاوت نہیں بلکہ کروڑوں شہریوں کی روزمرہ حقیقت ہے۔
عدالتوں میں برسوں تک چلنے والے مقدمات، تاریخ پر تاریخ، اور فیصلہ آنے سے پہلے فریقین کی زندگیاں ختم ہو جانا — یہ سب عدالتی تاخیر کی وہ صورتیں ہیں جو انصاف کے تصور کو کمزور اور غیر مؤثر بنا دیتی ہیں۔
آئینی وعدہ اور زمینی حقیقت
پاکستان کا آئین ہر شہری کو بروقت اور منصفانہ انصاف کی ضمانت دیتا ہے، مگر عملی صورتحال اس وعدے کے برعکس نظر آتی ہے۔
لاکھوں مقدمات مختلف عدالتوں میں زیر التوا ہیں، ججوں کی تعداد آبادی کے تناسب سے انتہائی کم ہے، اور عدالتی طریقہ کار آج بھی فرسودہ اور پیچیدہ ہے۔ ایسے میں انصاف ایک حق کم اور ایک طویل آزمائش زیادہ بن چکا ہے۔
عام شہری کے لیے عدالت کا سفر
عام شہری کے لیے عدالت کا دروازہ کھٹکھٹانا خود ایک مشکل فیصلہ ہوتا ہے۔ قانونی فیسیں، بار بار پیشیاں، ملازمت یا کاروبار سے چھٹیاں، اور ذہنی دباؤ — یہ سب وہ قیمت ہے جو انصاف کی تلاش میں ادا کی جاتی ہے۔
جب یہ سفر برسوں پر محیط ہو جائے تو انصاف کی اہمیت ہی ماند پڑ جاتی ہے۔ کئی لوگ فیصلہ آنے سے پہلے ہی ہار مان لیتے ہیں، کیونکہ نظام ان کے لیے ناقابلِ برداشت بن جاتا ہے۔
طاقتور اور کمزور: دو الگ دنیائیں
عدالتی تاخیر کا سب سے سنگین پہلو یہ ہے کہ یہ طاقتور اور کمزور کے درمیان فرق کو مزید گہرا کر دیتی ہے۔ وسائل رکھنے والا فرد مہنگے وکلا، قانونی موشگافیوں اور تاخیری حربوں کے ذریعے وقت کو اپنے حق میں استعمال کر لیتا ہے، جبکہ غریب شہری اسی تاخیر میں پس کر رہ جاتا ہے۔ یوں انصاف ایک مساوی حق کے بجائے ایک طبقاتی سہولت بننے لگتا ہے۔
عوامی اعتماد کا بحران
جب انصاف وقت پر نہ ملے تو عوام کا ریاستی اداروں پر اعتماد متزلزل ہو جاتا ہے۔ لوگ یہ محسوس کرنے لگتے ہیں کہ قانون ان کے لیے نہیں بلکہ طاقتور کے تحفظ کے لیے ہے۔ یہی احساس مایوسی کو جنم دیتا ہے اور بعض اوقات شہری غیر قانونی یا غیر رسمی راستے اختیار کرنے پر مجبور ہو جاتے ہیں، جو معاشرے میں بدامنی اور انتشار کو بڑھاتا ہے۔
عدالتی تاخیر کی بنیادی وجوہات
عدالتی تاخیر کی وجوہات کسی ایک عنصر تک محدود نہیں۔ مقدمات کا غیر معمولی بوجھ، ججوں اور عدالتی عملے کی کمی، ناقص تفتیش، غیر ضروری تاریخیں، اور جدید ٹیکنالوجی کا محدود استعمال — یہ سب مل کر انصاف کے عمل کو سست کر دیتے ہیں۔ اس کے ساتھ ساتھ متبادل تنازعاتی حل کے مؤثر استعمال کی کمی بھی مسئلے کو مزید پیچیدہ بنا دیتی ہے۔
دنیا کی مثالیں اور اصلاحات
دنیا کے کئی ممالک نے عدالتی اصلاحات کے ذریعے اس بحران پر قابو پایا ہے۔ ڈیجیٹل کیس مینجمنٹ، وقت کی پابندی، عدالتوں میں ٹیکنالوجی کا استعمال، اور مصالحتی نظام نے وہاں انصاف کو تیز اور مؤثر بنایا۔
یہ مثالیں ثابت کرتی ہیں کہ عدالتی تاخیر کوئی ناگزیر حقیقت نہیں بلکہ اصلاحات کے ذریعے قابلِ حل مسئلہ ہے۔
عدالتی معاملات میں اسی سست روی کی وجہ سے ورلڈ رول آف لاء انڈیکس میں سال 2025 کی رینکنگ میں پاکستان کا نمبر 143 ممالک کی فہرست میں 130 رہا جو کہ انتہائی پریشان کن صورتحال ہے۔
بروقت انصاف کیوں ضروری ہے؟
پاکستان میں عدالتی نظام کی بہتری صرف عدالتوں کی ذمہ داری نہیں بلکہ ایک اجتماعی قومی ضرورت ہے۔ بروقت انصاف قانون کی بالادستی کو مضبوط کرتا ہے، عوامی اعتماد بحال کرتا ہے، اور ریاستی نظام کو مستحکم بناتا ہے۔ جب شہریوں کو یقین ہو کہ ان کے مسائل کا فیصلہ وقت پر ہوگا تو وہ قانون کے دائرے میں رہتے ہوئے جدوجہد کو ترجیح دیتے ہیں۔
نتیجہ: انصاف وقت پر ہو تو معنی رکھتا ہے
انصاف اگر برسوں بعد ملے تو وہ انصاف نہیں رہتا، محض ایک رسمی فیصلہ بن جاتا ہے۔ عوام کے لیے انصاف میں تاخیر کا مطلب امید کا ٹوٹ جانا اور ریاست سے فاصلے کا بڑھ جانا ہے۔
اگر پاکستان کو واقعی ایک منصفانہ معاشرہ بنانا ہے تو عدالتی تاخیر کو معمول نہیں بلکہ ایک سنگین مسئلہ سمجھنا ہوگا، کیونکہ انصاف کا اصل حسن اسی میں ہے کہ وہ وقت پر، سب کے لیے، اور بلا امتیاز فراہم ہو۔



