تیجس طیارے کی تباہی؛ بھارت کا دفاعی برآمدات کا خواب چکنا چور
یہ واقعہ بین الاقوامی خریداروں کی آنکھوں کے سامنے پیش آیا، جو بھارت کی دفاعی برآمدات کی کوششوں پر ایک بڑا سوالیہ نشان بن گیا ہے۔

بھارتی ساختہ لڑاکا طیارہ تیجس (Tejas) دبئی ایئر شو کے دوران ایک فضائی مظاہرے کے دوران گر کر تباہ ہو گیا، اور اس حادثے میں بھارتی وِنگ کمانڈر نمَنش سیال ہلاک ہو گئے ہیں۔
یہ واقعہ بین الاقوامی خریداروں کی آنکھوں کے سامنے پیش آیا، جو بھارت کی دفاعی برآمدات کی کوششوں پر ایک بڑا سوالیہ نشان بن گیا ہے۔
بھارتی طیارے تیجس کی تباہی؛ بین الاقوامی سطح پر بھارتی رسوائی:
بھارتی فضائیہ کی جانب سے بتایا گیا ہے کہ تیجس طیارے کی تباہی کی وجوہات فوری طور پر واضح نہیں ہیں اور اس معاملے کی تفتیش کے لیے ایک کورٹ آف انکوائری قائم کر دی گئی ہے۔
یہ حادثہ ایک ایسے ایونٹ میں پیش آیا تھا جہاں بھارت اپنی دفاعی خود انحصاریصلاحیت کا تاثر دینے کی کوشش کر رہا تھا۔ ماہرین کے مطابق، ایئر شوز میں اس طرح کے حادثوں کی توقع بہت کم ہوتی ہے، اور تباہی کسی بھی ملک کی بدترین پیداواری صلاحیت کا پیغام دیتی ہے۔
تیجس طیارے کی تباہی ؛ بھارت کیلئے تکنیکی اور برآمداتی چیلنجز
تیجس پروگرام کا آغاز 1980 کی دہائی میں ہوا تھا تاکہ پرانے MiG-21 طیاروں کی جگہ لی جا سکے۔ لیکن اس کی برآمداتی امیدوں کے لیے یہ حادثہ سنگین چیلنج ہے۔ ریاستی ملکیت والی کمپنی HAL کے پاس Mk-1A ماڈل کے 180 یونٹس کے آرڈر ہیں، مگر GE انجن کی سپلائی چین میں مسائل ہیں۔
ایک سابق HAL عہدیدار نے کہا ہے کہ اس حادثے کے بعد “ابھی برآمداتی امکانات تقریباً ختم ہو چکے ہیں” اور کمپنی مستقبل میں اپنی توجہ زیادہ تر مقامی (بھارتی) مارکیٹ پر مرکوز کرے گی۔
بھارتی فضائیہ پر اثرات
بھارتی فضائیہ پہلے ہی اپنی اسکواڈرن کی تعداد کم ہونے کی وجہ سے تشویش میں مبتلا ہے — ان کی متوقع اسکواڈرن تعداد 42 تھی، مگر فعال اسکواڈرن کی تعداد کم ہوکر 29 رہ گئی ہے۔
چونکہ چند پرانے طیارے (جیسے MiG-29، Mirage 2000) آئندہ برسوں میں ریٹائر ہونے والے ہیں، تیجس کو ان کی جگہ لینے کے لیے طے کیا گیا تھا۔
تاہم، اب بھارت کو عارضی حل کے طور پر غیر ملکی ماڈلز پر بھی نظر رکھنی پڑ سکتی ہے۔ دو دفاعی ذرائع کے مطابق، وہ مزید فرانسیسی رافیل خریدنے یا جدید 5ویں نسل کے طیاروں جیسے F-35 اور Su-57 پر غور کر رہے ہیں۔
صنعتی اور اسٹریٹجک معنی
ماہرین کا کہنا ہے کہ اس حادثے کے باوجود تیجس کا سب سے بڑا اہم کردار طویل المدت صنعتی بنیاد قائم کرنا ہے، نہ کہ صرف بیرونِ ملک فروخت۔
ایک اہم تناظر یہ ہے کہ بھارت اور پاکستان، دونوں ایئر شو میں موجود تھے، اور پاکستان نے اسی موقع پر اپنے JF-17 تھنڈر بلاک III کو بھی نمایاں کیا، جو دفاعی مقابلہ بازی کی نشاندہی کرتا ہے۔
سرکاری ردعمل اور بعد کے اقدامات
بھارتی حکومت نے اس سے ایک دن پہلے سوشل میڈیا پر گردش کرنے والے دعووں کی سخت نفی کی تھی کہ طیارے سے آئل لیک ہو رہا تھا۔ صحافیوں کو بتایا گیا کہ حقیقت میں وہ “نمی سے بنا عارضی پانی” تھا، جو ایئر کنٹرول اور آکسیجن جنریٹر سسٹم کی معمول کی صاف-صفائی کے دوران نکلنے والی بخارات کا حصہ تھا۔
اب، ایک معائنہ کار ٹیم طیارے کے ڈیزائن، پرواز کی اسٹریٹیجی اور حفاظتی نظام کا تفصیلی جائزہ لے گی۔ اس تفتیش کے نتائج، نہ صرف تیجس پروگرام کی مستقبل کی سمت کا تعین کریں گے بلکہ بھارت کی دفاعی برآمداتی پالیسیوں پر بھی دیرپا اثر ڈال سکتے ہیں۔



