
بھارت کا جنگی جنون دوسرے روز بھی برقرار ہے اور آج بھی انڈیا کی جانب سے پاکستان کے اہم شہروں کو آج بھی نشانہ بنایا گیا۔
لاہور، روالپنڈی، گجرانوالہ، سیالکوٹ، چکوال سمیت سندھ کے چند علاقے بھی مودی سرکار کے پاگل پن کا نشانہ بنے۔
ایک طرف جہاں عوام انڈین حملوں پر کارروائی کا مطالبہ دہرا رہی ہے وہیں حکومت اپنی طاقت ایک بار پھر اڈیالہ جیل کے باہر عمران خان سے ملاقات کیلئے آنے والوں کو روکنے میں صرف کر رہی ہے۔
انہی حالات میں صوبائی صدر پاکستان تحریک انصاف خیبرپختونخوا جنید اکبر نے ایک ہنگامی پیغام جاری کیا ہے جس میں انہوں نے اڈیالہ جیل پر حملے کا خدشہ ظاہر کیا ہے۔
انڈین ڈرون اڈیالہ جیل پر؛ جنید اکبر کا ہنگامی بیان جاری
سوشل میڈیا پر ایک ویڈیو پیغام کے ذریعے جنید اکبر کا کہنا تھا کہ "موجودہ حالات جو ہم دیکھ رہے ہیں — مختلف شہروں میں میزائل آ رہے ہیں — ہمیں یہ خدشہ ہے کہ کہیں ایسا نہ ہو کہ اس جنگ کو بنیاد بنا کر کوئی ڈرون یا میزائل اڈیالہ جیل پر آ گرے۔”
انہوں نے خدشہ ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ کیونکہ عمران خان اس وقت ریاست اور ریاستی اداروں کی تحویل میں ہیں، تو ہمیں یہ خوف لاحق ہے کہ کہیں اس جنگ کے بہانے عمران خان صاحب کی جان کو کوئی نقصان نہ پہنچے۔
جنید اکبر کا مزید کہنا تھا کہ اگر ہم آج اپنے کارکنان کے بر خلاف اپنے ورکرز اور ووٹرز کا پریشر برداشت کر رہے ہیں، کہ ملک کو اس وقت یکجہتی کی ضرورت ہے، تو ہمیں اس وقت احتجاج نہیں کرنا چاہیے۔
مزید پرھیں: عمران خان معاف کریں ، ہم نہیں کریں گے؛ صاحبزادہ حامد رضا
لیکن ریاست اور ریاستی ادارے ہمیں مجبور کر رہے ہیں کہ ہم اپنے لیڈر، عمران خان کی زندگی کے لیے کھڑے ہوں۔ ہم ان سے اس لیے محبت کرتے ہیں کہ ہم سجھتے ہیں کہ وہ اس ملک کے لیے وفادار ہیں، اور ملک کی وابستگی عمران خان کے ساتھ جڑی ہوئی ہے۔
صوبائی صدر پی ٹی آئی خیبرپختونخوا کا مزید کہنا تھا کہ ہمارے ملک کی یوتھ ہے وہ ، خان صاحب سے امیدیں لگائے بیٹھے ہیں، کیونکہ وہ سمجھتے ہیں کہ خان صاحب اللہ کے فضل و کرم سے اس ملک کو عظیم ملک سکتے ہیں۔
جنید اکبر کا کہنا تھا کہ اگر ریاست کا یہی رویہ رہا اور خان صاحب کو رہائی نہ ملی، تو پھر ہمیں سوچنا ہوگا کہ یہ یکجہتی صرف آپ کے لیے ہے یا ہمارے لیے بھی؟ اگر آپ یکجہتی چاہیے اور آپ چاہتے ہیں کہ سب ایک ہوں، تو ہمارے لیڈر کو جتنی جلدی ہو سکے رہا کریں تاکہ ہم سب اکٹھے ہو کر بھارت — جو ہمارا ازلی دشمن ہے — کے خلاف ایک صفحے پر ہوں۔
صوبائی صدر پی ٹی آئی خیبر پختونخوا کا مزید کہنا تھا کہاگر آپ نے اسی طرح انائیں سامنے رکھیں گے اور ، ذاتی پسند ناپسند کو ترجیح دی، تو پھر ہم بھی مجبور ہوں گے کہ ہم اپنا فیصلہ کریں۔
بظاہر حکومت صوبائی صدر جنید اکبر کے اس پیغام کو کسی خاطر میں نہیں لانے والی کیوں کہ جس وقت جنید اکبر کا یہ بیان سامنے آیا اس وقت وزیر اعلیٰ خیبرپختونخوا علی امین گنڈا پور کو جیل میں عمران خان سے ملاقات کی اجازت نہ مل سکی۔