
آج سے تین سال قبل 3 نومبر 2022 کے روز سابق وزیرِاعظم عمران خان اس وقت زخمی ہوئے جب پنجاب کے شہر وزیرآباد میں ان کے جلسے کے دوران فائرنگ ہوئی۔
اس ڈرامائی واقعے نے پاکستان کے سیاسی منظرنامے پر گہرا اثر چھوڑا۔
عمران خان پر قاتلانہ حملے کا واقعہ کیا تھا؟
- عمران خان اسلام آباد کی طرف "لانگ مارچ” کی قیادت کر رہے تھے، جس کا مقصد 2022ء کے اوائل میں ان کی برطرفی کے بعد قبل از وقت انتخابات کا مطالبہ تھا۔
- وزیرآباد میں، جب وہ ایک کنٹینر ٹرک پر کھڑے خطاب کر رہے تھے، اچانک گولیاں چلیں۔ ان کی ٹانگ (پنڈلی/ران) میں گولی لگی اور انہیں اسپتال منتقل کیا گیا۔ ڈاکٹروں کے مطابق، گولی کے کچھ ٹکڑے ٹانگ میں پھنس گئے اور ان کی ہڈی (ٹیبیا) ٹوٹ گئی۔
- عمران خان پر قاتلانہ حملے میں ان کا ایک کارکن بھی جاں بحق ہوا، جب کہ کئی دیگر بشمول ایک سینیٹر زخمی ہوئے۔
- حکام نے موقع پر ایک شخص کو گرفتار کیا، جس نے بعد میں دعویٰ کیا کہ وہ اکیلا ہی کاروائی کر رہا تھا۔
تحقیقات اور قانونی عمل: ملی جلی پیش رفت
ایف آئی آر اور رجسٹریشن میں تاخیر
عمران خان پر قاتلانہ حملے کی تحقیقات کی پہلی رکاوٹ ایف آئی آر کے اندراج میں تاخیر تھی۔ مقامی ذرائع ابلاغ کے مطابق ایف آئی آر کے اندراج میں رکاوٹ ڈالی گئی اور سپریم کورٹ کو پنجاب پولیس کو حکم دینا پڑا کہ فوری کارروائی کرے۔
عمران خان اور ان کی جماعت نے بارہا شکایت کی کہ انہیں اپنی پسند کے مطابق ایف آئی آر درج کرانے کا موقع نہیں دیا جا رہا — خصوصاً اس بات پر کہ اس میں سینئر انٹیلی جنس یا فوجی حکام کے نام شامل کیے جائیں۔
ملزمان اور عدالتی فیصلے
- اپریل 2025ء میں گوجرانوالہ کی انسدادِ دہشت گردی عدالت نے مرکزی ملزم "نوید” کو قتل اور دہشت گردی کے الزامات میں دو بار عمر قید کی سزا سنائی۔
- دو شریک ملزمان کو شواہد کی کمی کے باعث بری کر دیا گیا۔
- عدالت کے حکم نامے میں لکھا گیا کہ ایف آئی آر 7 نومبر 2022ء کو درج ہوئی اور انسدادِ دہشت گردی ایکٹ (اے ٹی اے) کے تحت ایک مشترکہ تحقیقاتی ٹیم (جے آئی ٹی) تشکیل دی گئی۔
کیوں کچھ لوگ انصاف کو “نامکمل” سمجھتے ہیں
- اگرچہ شوٹر کو سزا مل چکی ہے، لیکن عمران خان اور ان کے حامیوں کے کئی الزامات تاحال حل طلب ہیں۔ مثال کے طور پر، عمران خان نے دعویٰ کیا تھا کہ اس حملے کے پیچھے اعلیٰ حکومتی اور فوجی شخصیات کا ہاتھ ہے، مگر کسی باضابطہ تحقیق میں اب تک ان کو جوابدہ نہیں ٹھہرایا گیا۔
- ایف آئی آر کے اندراج میں تاخیر اور عمران خان کی خواہش کے مطابق مخصوص نام شامل نہ کرنے کی ہچکچاہٹ کو بعض ماہرین ادارہ جاتی رکاوٹ یا مداخلت سمجھتے ہیں۔
- اس دوران عمران خان خود مختلف مقدمات اور سزاؤں کا سامنا کر رہے ہیں: کرپشن، خفیہ معلومات کے افشا، غیر قانونی شادی اور دیگر الزامات۔ ان کی جماعت کا مؤقف ہے کہ ان میں سے زیادہ تر مقدمات سیاسی بنیادوں پر ہیں۔
- مجموعی طور پر عوامی تاثر یہ ہے کہ ایک سابق وزیرِاعظم جو قاتلانہ حملے سے بال بال بچے، ان کے کیس میں مکمل انصاف تاحال ممکن نہیں ہو سکا۔
عمران خان پر قاتلانہ حملے کے کیس کا متوازن تجزیہ
ایک جانب
- مرکزی حملہ آور کی سزا ایک ٹھوس قانونی پیش رفت ہے۔
- حکومت، عدلیہ اور سیکیورٹی اداروں نے بظاہر تحقیقات کے عزم کا اظہار کیا؛ واقعے کے بعد اعلیٰ سطحی مذمت اور تحقیقات کا آغاز ہوا۔
دوسری جانب
- عمران خان کے کلیدی مطالبات، جیسے اعلیٰ عہدے داروں کے نام شامل کرنا، اب تک حل طلب ہیں — جس سے تحقیقات کی شفافیت پر سوال اٹھتے ہیں۔
- ایف آئی آر کے اندراج میں تاخیر اور انٹیلی جنس یا فوجی شخصیات کے ناموں کے اندراج پر تنازع نے کئی مبصرین کے اعتماد کو متاثر کیا۔
- سیاسی ماحول بدستور کشیدہ ہے: یہ کیس ریاستی اداروں کے تعلقات، سول ملٹری توازن اور سیاسی تقسیم سے جڑا ہوا ہے۔
آگے کیا ہونا باقی ہے
- اس حملے کے پیچھے کسی ممکنہ سازش کی مکمل عوامی وضاحت، بشمول یہ کہ آیا متعدد افراد یا ادارہ جاتی مدد شامل تھی۔
- تحقیقاتی ٹیموں/جے آئی ٹی کی شفاف رپورٹنگ — تاکہ عوام دیکھ سکیں کہ کیا مزید بااثر افراد کو جوابدہ ٹھہرایا جائے گا۔
- عمران خان کے خلاف جاری دیگر قانونی یا سیاسی معاملات سے اس کیس کو علیحدہ رکھنا تاکہ دونوں ایک دوسرے پر اثرانداز نہ ہوں۔
- سول سوسائٹی اور میڈیا کی جانب سے مستقل نگرانی تاکہ کیس قانونی خلا کا شکار نہ ہو۔
خلاصہ
عمران خان پر قاتلانہ حملے کو تین سال گزر چکے ہیں۔ شوٹر کی سزا ایک حد تک انصاف کی نشاندہی کرتی ہے، لیکن یہ سوال اب بھی باقی ہے کہ کیا مکمل سچائی سامنے آئی ہے اور ادارہ جاتی جوابدہی ممکن ہو پائی ہے یا نہیں۔ یہ معاملہ مکمل طور پر حل شدہ باب بنے گا یا متنازع انصاف کی علامت رہے گا — اس کا دار و مدار آئندہ مہینوں میں تحقیقات اور شفافیت پر ہوگا۔
ایک سابق وزیر اعظم پر قاتلانہ حملے کی تحقیقات اس لئے بھی ضروری ہیں کیونکہ ماضی میں بھی ایسے معاملات میں سستی نے کئی سیاسی قائدین کے قتل کے معاملات کو دبا دیا۔



