عماد وسیم کو واپس نہ آنے ، محمد عامر کو فیصلہ واپس لینے کی اپیل
یاد رہے کہ عامر اور عماد نے پچھلے سال ریٹائرمنٹ لے لی تھی جس کے بعد انہیں پی سی بی نے ایک بار پھر سے فیصلے پر نظرثانی کا کہا تھا جس پر دونوں کھلاڑیوں نے لبیک کہا تھا۔

پاکستان کرکٹ ٹیم کے دو بڑے نام عماد وسیم اور محمد عامر نے ایک دن کے وقفے سے انٹرنیشنل کرکٹ سے ریٹائرمنٹ کا اعلان کیا۔
عماد کا ریٹائرمنٹ کا اعلان:
گزشتہ روز عماد وسیم نے اپنے سوشل میڈیا اکاؤنٹ سے ایک پوسٹ میں لکھا کہ کافی غور و فکر کے بعد، میں نے بین الاقوامی کرکٹ سے ریٹائر ہونے کا فیصلہ کیا ہے۔
بین الاقوامی سطح پر پاکستان کی نمائندگی کرنا میری زندگی کا سب سے بڑا اعزاز رہا ہے، اور سبز جرسی پہننے کے ہر لمحے کو میں کبھی نہیں بھول سکتا۔
عماد وسیم نے مزید لکھا کہ جبکہ یہ باب اختتام پذیر ہو رہا ہے، میں اپنی کرکٹ کے سفر کو ڈومیسٹک اور فرنچائز کرکٹ کے ذریعے جاری رکھنے کے لیے پُر امید ہوں اور میں امید کرتا ہوں کہ نئے انداز میں آپ سب کو محظوظ کرتا رہوں گا۔
جہاں کئی صارفین نے ان کا اچھی کرکٹ کیلئے شکریہ ادا کیا، بہت سے صارفین ان کے ریٹائرمنٹ سے خوش بھی نظر آئے۔ ایک صارف نے لکھا کہ امید کرتے ہیں یہ آخری بار ہے۔
ایک سوشل میڈیا صارف نے لکھا آپ کی سروسز کا بہت شکریہ اب دوبارہ کبھی واپس نہ آئیے گا۔ ایک اور صارف کچھ حد آگے بڑھ کر بولے کہ بھائی آپ کا شکریہ، کرکٹ کھیلنے کیلئے نہیںبلکہ ریٹائرمنٹ لینے کیلئے ۔
محمد عامر کا ریٹائرمنٹ کا اعلان:
محمد عامر نے بھی سوشل میڈیا کے ذریعے کرکٹ سے ریٹائرمنٹ کا اعلان کیا غور و فکر کے بعد، میں نے بین الاقوامی کرکٹ سے ریٹائر ہونے کا مشکل فیصلہ لیا ہے۔
ایسے فیصلے کبھی آسان نہیں ہوتے لیکن ناگزیر ہیں۔ میں محسوس کرتا ہوں کہ یہ وقت ہے کہ اگلی نسل یہ ذمہ داری سنبھالے اور پاکستان کرکٹ کو نئی بلندیوں تک لے جائے۔اپنے ملک کی نمائندگی کرنا میری زندگی کا سب سے بڑا اعزاز رہا ہے اور ہمیشہ رہے گا۔
مزید پڑھیں: محمد عرفان کی ریٹائرمنٹ؛ ہم اپنے ہیروز کو اتنی جلدی زیرو کیوںبنا دیتے؟
میں دل کی گہرائیوں سے پی سی بی، اپنے خاندان، دوستوں، اور سب سے بڑھ کر اپنے مداحوں کا شکریہ ادا کرنا چاہتا ہوں جنہوں نے ہمیشہ محبت اور حمایت دی۔
محمد عامر کے ریٹائرمنٹ پوسٹ پر بھی اکا دکا ایسے صارفین نظر آئے جنہوں نے گزارش کی کہ پلیز دوبارہ نہ آئیے گا۔تاہم زیادہ تر شائقین نے محمد عامر سے گزارش کی کہ وہ چیمپئنز ٹرافی تک اپنے فیصلے پر نظرثانی کریں۔
یاد رہے کہ عامر اور عماد نے پچھلے سال ریٹائرمنٹ لے لی تھی جس کے بعد انہیں پی سی بی نے ایک بار پھر سے فیصلے پر نظرثانی کا کہا تھا جس پر دونوں کھلاڑیوں نے لبیک کہا تھا۔
لیکن اس کم بیک کے بعد شائقین کے دلوں میں ویسا گھر نہ کر سکے۔ نہ ہی دونوں کھلاڑیوں کی جانب سے ایسی عمدہ پرفارمنس دیکھنے کو ملی جس کے باعث انہیں دوبارہ روکا جاتا۔
پی سی بی کی دوغلی پالیسی:
پی سی بی کی جانب سے اس حوالے سے دوغلی پالیسی دیکھنے کو ملتی ہے۔ محمد عامر اور عماد کو دوبارہ بلایا گیا اور ریٹائرمنٹ واپس لینے کا کہا گیا۔
دوسری جانب کئی سٹار کھلاڑی ایک بار کی غلط پرفارمنس کی وجہ سے اپنی جگہ کھو دیتے ہیں۔ اس کے بعد انہیں دوبارہ قومی ٹیم میں موقع نہیں ملتا۔
یہی کھلاڑی جب ریٹائرمنٹ لیتے تو اسے چپ چاپ قبول کر لیا جاتا ہے۔ اور دوبارہ موقع نہیں دیا جاتا ہے۔