آئی سی سی مینز ون ڈے ٹیم 2024 میں تین پاکستانی
آئی سی سی مینز ون ڈے ٹیم میں پاکستان ، سری لنکا، افغانستان اور ویسٹ انڈیز سے کھلاڑی شامل ہیں۔

انٹرنیشنل کرکٹ کونسل (آئی سی سی) نے سال 2024 کی مردوں کی ون ڈے ٹیم کی نقاب کشائی کر دی ہے۔
اس ٹیم میں پاکستان، سری لنکا، افغانستان اور ویسٹ انڈیز کے کھلاڑی شامل ہیں۔ آئی سی سی مینز ون ڈے ٹیم میں پاکستان سے صائم ایوب، شاہین شاہ آفریدی اور حارث رؤف کو شامل کیا گیا ہے۔
آئی سی سی مینز ون ڈے ٹیم ٹاپ آرڈر
صائم ایوب (پاکستان) نے 9 میچوں میں 105.53 کے اسٹرائیک ریٹ کے ساتھ 515 رنز بنائے۔ ان کی تین سنچریوں میں جنوبی افریقہ میں بیک ٹو بیک دوسنچریاں شامل تھیں۔ اس پرفارمنس نے انہیں ایک اہم اوپنر کے طور پر آئی سی سی مینز ون ڈے ٹیم میں جگہ بنانے کا موقع دیا۔
رحمان اللہ گرباز (افغانستان) نے 48.2 کی اوسط سے 531 رنز بنا کر شاندار کارکردگی کا مظاہرہ کیا جس میں تین سنچریاں بھی شامل ہیں۔
ان کی دھماکہ خیز بلے بازی نے افغانستان کو سری لنکا، جنوبی افریقہ اور بنگلہ دیش کے خلاف سیریز میں کامیابی حاصل کی۔
پاتھم نسانکا (سری لنکا) 63.1 کی اوسط سے 694 رنز بنائے ۔ افغانستان کے خلاف ان کا ناقابل شکست 210 ون ڈے تاریخ میں سب سے زیادہ انفرادی سکور تھا۔
مڈل آرڈر :
کوسل مینڈس (سری لنکا) نے 2024 میں 742 رنز کے ساتھ ون ڈے رنز کے چارٹ میں سرفہرست رکھا، جس میں نیوزی لینڈ کے خلاف میچ جیتنے والے 143 رنز بھی شامل ہیں۔
مزید پڑھیں:چیمپئنز ٹرافی 2025 کیلئے پاکستان کی حتمی اسکواڈ کیا ہوگی؟
چارتھ اسالنکا (سری لنکا)، جو کہ آئی سی سی ون ڈے مینز ٹیم الیون کے کپتان ہیں، نے 16 میچوں میں 605 رنز اور اہم وکٹیں حاصل کیں۔ اس سے وہ اپنی ٹیم کے لیے ایک انمول آل راؤنڈ اثاثہ بن کر سامنے آئے ۔
شیرفین ردرفورڈ (ویسٹ انڈیز) نے صرف نو میچوں میں 120.1 کے اسٹرائیک ریٹ سے 425 رنز بنا کر اپنی قابل اعتمادی کا مظاہرہ کیا۔ ان کے لگاتار پانچ 50 پلس اسکورز نے ایک قابل ذکر ڈیبیو سال کو تاریخی بنانے میں اہم کردار ادا کیا۔
عظمت اللہ عمرزئی (افغانستان) نے بطور آل راؤنڈر 417 رنز اور 17 وکٹوں کے ساتھ آئی سی سی مینز ون ڈے ٹیم میں حصہ پایا۔
بولنگ اٹیک:
وینندو ہسرنگا (سری لنکا) نے 26 وکٹوں کے ساتھ باؤلنگ یونٹ کی قیادت کی، جس میں زمبابوے کے خلاف 19 رنز کے عوض 7 وکٹوں کی غیر معمولی پرفارمنس بھی شامل ہے ۔
شاہین شاہ آفریدی (پاکستان) نے صرف چھ میچ کھیلے لیکن 15 وکٹوں کے ساتھ زبردست اثر ڈالا، اور سب سے زیادہ مسلسل تیز گیند بازوں میں سے ایک کے طور پر اپنی ساکھ کو برقرار رکھا۔
حارث رؤف (پاکستان) نے آٹھ میچوں میں 13 وکٹیں حاصل کیں جن میں آسٹریلیا کے خلاف ایڈیلیڈ میں فیصلہ کن پانچ وکٹیں بھی شامل ہیں۔
18 سالہ ابھرتے ہوئے اسٹار اے ایم غضنفر (افغانستان) نے 11 میچوں میں 21 وکٹیں حاصل کیں۔ بنگلہ دیش کے خلاف ان کے 26 رنز کے عوض 6 وکٹوں نے افغانستان ٹیم کو کرکٹ میں بہتر مستقبل کی نوید سنائی ہے۔
اختتامیہ:
3 پاکستانی کھلاڑیوں کا آئی سی سی مینز ون ڈے ٹیم میں شامل ہونا یقیناً بڑا اعزاز ہے۔ صائم ایوب انتہائی ٹیلنٹ کے حامل اوپنر ہیں۔ وہ چھوٹی عمر سے جس پرفارمنس کا مظاہرہ کر رہے وہ آگے چل کر پاکستان کیلئے اچھا اوپننگ سٹینڈ ثابت ہوگی۔
باؤلنگ میں حارث رؤف اور شاہین آفریدی کی پرفارمنس ہی پاکستانی ٹیم کیلئے جیت کی ضامن بنتی۔ تاہم آل راؤنڈ پوزیشن جس میں کبھی پاکستان دنیا پر راج کرتا تھا، آج کوئی قابل قدر نام سامنے نہیں آ پا رہا۔