کھیل

ہانگ کانگ سکسز 2025 ؛ چھٹی بار ایونٹ پاکستان کے نام

اگرچہ یہ فارمیٹ “تفریحی” نوعیت کا ہو سکتا ہے، مگر کسی ایک ٹورنامنٹ میں 6 بار جیتنا پاکستان کی قوت، ہِٹ کرنے کی صلاحیت اور متغیر فارمیٹس میں مطابقت کا ثبوت ہے۔

انتہائی جارحانہ انداز سے کھیلتے ہوئے، پاکستان کرکٹ ٹیم نے ہانگ کانگ سکسز کا ایونٹ چھٹی بار اپنے نام کرا لیا۔قومی ٹیم نے ایونٹ  فائنل میں کویت کی ٹیم کو ‎43‎ رنز سے شکست دی۔

ہانگ کانگ سکسز پاکستان کی بڑی فتح:

 

پہلے بیٹنگ کرتے ہوئے، پاکستان کرکٹ ٹیم  نے صرف چھ اوورز میں ‎135/3‎ کا ریکارڈ اسکور بناتے ہوئے اوسطاً ‎22.5‎ رنز فی اوور کی رفتار دکھائی۔

کپتان عباس آفریدی نے صرف ‎11‎ گیندوں میں ‎52‎ رنز بنائے، جن میں سات چھکے شامل تھے۔ سپورٹ میں عبدالسلام مدثر (‎13‎ گیندوں میں ‎42‎) اور خواجہ نافع (‎6‎ گیندوں میں ‎22‎) نے بہترین کارکردگی دکھائی۔ کویت کی ٹیم نے مزاحمت کی مگر صرف ‎92‎ رنز پر ڈھیر ہو گئی جس سے پاکستان نے شاندار فتح سمیٹی۔

اس فتح کے ساتھ، پاکستان نے انگلینڈ اور جنوبی افریقہ (دونوں ‎پانچ بار کی فاتح) کو پیچھے چھوڑتے ہوئے اس ٹورنامنٹ کی تاریخ میں سب سے زیادہ کامیاب ٹیم ہونے کا ریکارڈ بھی اپنے نام کر لیا۔

یہ کیوں اہم ہے

 

  1. قومی ٹیم کی قوت – اگرچہ یہ فارمیٹ “تفریحی” نوعیت کا ہو سکتا ہے، مگر کسی ایک ٹورنامنٹ میں 6 بار جیتنا پاکستان کی قوت، ہِٹ کرنے کی صلاحیت اور متغیر فارمیٹس میں مطابقت کا ثبوت ہے۔
  2. نئے ٹیلنٹ کا پلیٹ فارم – جیسے عباس آفریدی اور خواجہ نافع نے شاندار کارکردگی دکھائی، یہ نئے ٹیلنٹ کی جانب واضح اشارہ ہے۔
  3. فارمیٹ کی اہمیت – سِکسز فارمیٹ (صرف چھ اوورز فی سائیڈ،  ہیوی ہِٹنگ، کم پیچیدگیاں) کرکٹ کی نئی شکل پیش کرتا ہے اور مستقبل میں سب سے زیادہ دیکھے جانے والا ایونٹ بن سکتا ہے۔
  4. قومی جذبہ اور برانڈنگ – کسی بھی بین الاقوامی سطح پر کامیابی قوم کے حوصلے کو بڑھاتی ہے اور پاکستان کرکٹ کی برانڈ ویلیو میں اضافہ کرتی ہے۔

ہانگ کانگ سکسز  کو پوری توجہ کیوں نہیں مل رہی؟

 

  • مین اسٹریم فارمیٹس کا غلبہ – میڈیا اور ناظرین کا رخ عموماً ٹیسٹ، ون ڈے اور ٹی20 کے بڑے مقابلوں کی طرف ہوتا ہے، چھ اوورز والا ٹورنامنٹ اتنی توجہ نہیں پاتا۔
  • سنجیدگی کا تصور کم – بہت سے لوگ سِکسز ٹورنامنٹ کو “ظاہر-تفریح” تصور کرتے ہیں، اور اس کی کامیابی کو باقاعدہ چیمپئن شپ کی طرح نہیں لیتے۔
  • میڈیا کی توجہ کی کمی – بڑے کرکٹ ایونٹس (ورلڈ کپ، سیریز) کی موجودگی میں چھوٹے اور مخصوص ٹورنامنٹس کو کالم انچز اور نشریاتی جگہ کم ملتی ہے۔
  • جغرافیائی اور نشر و اشاعت کی حدیں – ہانگ کانگ میں منعقد ہونے والا یہ ٹورنامنٹ، جس میں عالمی سطح کے بڑے نام اتنے نمایاں نہیں، دنیا بھر میں بڑے پیمانے پر ناظرین نہیں بناتا۔
  • ساختی ابہام – سِکسز فارمیٹ ابھی بین الاقوامی کرکٹ کی مرکزی ڈھانچے (رنکنگ پوائنٹس، آئی سی سی کی بڑی ٹورنامنٹس) میں واضح نہیں بسا ہوا، اس لیے اس کی اہمیت صارفین تک بخوبی نہیں پہنچتی۔

نتیجہ:

 

اگرچہ اس ایونٹ کو بین الاقوامی اور ملکی سطح پر وہ پذیرائی نہیں مل رہی جو ملنی چاہیے تھی، اس ایونٹ میں چھٹی کامیابی نے پاکستان کو ایونٹ کی سب سے زیادہ جیتنے والی ٹیم بنا دیا ہے۔

اس کے ساتھ ہی ایونٹ کی جیت نے پاکستانی کرکٹ شائقین کا حوصلہ ایک بار پھر بلند کیا ہے جو اس سے قبل قومی ٹیم کی ناقص پرفارمنس کے باعث دلبرداشتہ ہو گئے تھے۔

اس ایونٹ کو پی سی بی کو باقاعدہ اہمیت کی ںظر سے دیکھا جانا چاہیے کیونکہ یہ ٹی ٹونٹی فارمیٹ کیلئے نیا ٹیلنٹ فراہم کر سکتا ہے۔

ساتھ ہی مستقبل میں ایسے مختصر نوعیت کے ایونٹس ہی صارفین کی دلچسپی کا مظہر ہوں گے اور یہی وجہ ہے کہ آئندہ کی تیاری آج سے کی جاسکتی ہے۔

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button