گل پلازہ کی آگ: نظام کی ناکامی، ایک قابلِ مذمت سانحہ
یہ واقعہ کسی حادثے سے زیادہ، گہری انتظامی غلطیوں، حفاظتی قوانین کی سنگین خلاف ورزی، اور حکومتی غفلت کا نتیجہ ہے، نہ کہ محض بدقسمتی۔

گل پلازہ کراچی کے ایم اے جناح روڈ پر واقع ایک بڑا تجارتی مرکز، 17 جنوری 2026 کی رات لگنے والی آگ کی وجہ سے ایک بھیانک حادثہ بن گیا، جس نے دکانیں، انسانی زندگی اور معاشی بچتیں یکجا راکھ میں بدل دیں۔
یہ واقعہ کسی حادثے سے زیادہ، گہری انتظامی غلطیوں، حفاظتی قوانین کی سنگین خلاف ورزی، اور حکومتی غفلت کا نتیجہ ہے، نہ کہ محض بدقسمتی۔
کسی معمولی واقعہ سے بڑھ کر ایک نظام کی تباہی
اس تین منزلہ تجارتی عمارت میں لگنے والی آگ نے تیزی سے پھیلتے ہوئے درجنوں دکانوں کو جلا دیا، جس میں کم از کم 61 افراد ہلاک ہوئے اور درجنوں لاپتہ ہیں۔
ایسا معلوم ہوتا ہے کہ یہ آگ بنیادی حفاظتی حکمت عملیوں کے بغیر تیزی سے پھیلی، کیونکہ عمارت میں فائر الارم، ایمرجنسی ایکزٹس، سپرنکلرز یا مناسب حفاظتی آلات نہ ہونے کے برابر تھے — ایسے بنیادی اقدامات جو کسی بھی بڑی عمارت کو حادثے سے بچانے کے لیے لازمی سمجھے جاتے ہیں۔
گل پلازہ سے لاشیں نہیں بلکہ باقیات نکل رہی ہیں یا محض ہڈیاں یا دانت ، انکا ڈی این اے بھی ممکن نہیں یہ سب اعضاء پوٹلیوں کی صورت میں نکل رہے ہیں زندہ تو انہیں سرکار کیا بچاتی اب بہت سے لوگ اپنے پیاروں کی شناخت سے بھی محروم رھیں گے یہ ظلم کی وہ داستان ہے جسے حکومت کبھی نہ دھو سکے گی pic.twitter.com/ZM2YO7Im6q
— Faizullah Khan فیض (@FaizullahSwati) January 21, 2026
یہ کوئی اتفاق نہیں تھا؛ یہ ایک طویل مدت سے جاری غفلت اور حفاظتی قوانین کی بے عملی کا نتیجہ تھا۔ اس بات کا اندازہ اس سے بھی لگایا جا سکتا ہے کہ کئی دکانوں کے باہر موجود ایگزٹ دروازے بند یا بلااستعمال رکھے گئے تھے جس نے بچاؤ کے مواقع کو مزید محدود کر دیا۔
اداروں کی غفلت اور انتظامی ناکامی
انتہائی تکلیف دہ حقیقت یہ ہے کہ — محکمہ جات اور متعلقہ حکام نے حفاظتی معیارات کی خلاف ورزیوں پر کبھی مناسب کاروائی نہیں کی۔
رپورٹس اور مبصرین کا کہنا ہے کہ ایس بی سی اے (Sindh Building Control Authority) جیسے ادارے حفاظتی چیک اور عمارتوں کے معائنے صرف کاغذ پر کرتے رہے، جبکہ عملی نفاذ اور نگرانی غائب رہی۔
اعداد و شمار بھی یہی بتاتے ہیں کہ مزید 80 سے 90 فیصد تک آگ پر قابو پایا جا چکا ہے، لیکن آگ لگنے کے بعد ہونے والی ہلاکتیں اور نقصان منہ بولتا ثبوت ہیں کہ ریسکیو اور حفاظتی خدمات وقت سے پہلے تیار نہیں تھیں۔
سندھ حکومت: غفلت، ذمہ داری سے انکاری یا مطلوبہ عمل درآمد میں ناکام؟
سندھ حکومت نے اگرچہ کہا ہے کہ گل پلازہ میں آگ کے کیس میں کوئی بھی غفلت ثابت ہونے پر سخت کاروائی کی جائے گی، لیکن یہ دعوے تب تک محض فقرے ہیں جب تک اصل میں کارروائی اور انصاف کا عمل شروع نہیں ہوتا۔
یہی وجہ ہے کہ عوام اور تاجروں میں شدید غم و غصہ پایا جاتا ہے، اور اسی تناظر میں عدالت عالیہ میں ایک درخواست بھی دائر کی گئی ہے جس میں کہا گیا ہے کہ یہ سانحہ غیر انجام شدہ حفاظتی ہدایات، ناکافی معائنوں، اور اداروں کی ناکامی کا براہِ راست نتیجہ ہے۔
صرف افسوس بیان کرنا کافی نہیں — کاروائی ہونا ضروری ہے
یہ سانحہ صرف ایک آگ لگنے کا واقعہ نہیں — یہ اس بات کا ثبوت ہے کہ حکومت کی ساخت، عمل درآمد، نگرانی اور حفاظتی قوانین کی خلاف ورزیوں کا نتیجہ کیا بنتا ہے۔
جب عمارتوں میں مناسب حفاظتی نظام نصب نہ ہو، جب عمارات کے معائنے صرف کاغذی سرٹیفیکیٹ تک محدود ہوں، اور جب شہریوں کی زندگیوں کی حفاظت ایک ثانوی معاملہ بن جائے — تو ایسے نظام کی ناکامی سے پیدا ہونے والے نتائج صرف افسوس کا اظہار نہیں بلکہ سخت احتساب طلب کرتے ہیں۔
یہ وقت ہے کہ صرف حکومتی بیانات اور زبانی دعوے نہیں بلکہ اصل میں کارروائی، سخت قانونی کاروائی، اور حفاظتی نظام میں بنیادی اصلاحات شروع کی جائیں — تاکہ آئندہ کوئی اور گل پلازہ جیسا سانحہ دوبارہ نہ ہو۔



