دنیائے کرکٹ کا عظیم بولر مرلی دھرن، جس سے پاکستانی کھلاڑی خوف کھاتے تھے
کرکٹ کی دنیا میں کئی ایسے کھلاڑی آئے ہیں جو کھیلتے تو اپنی ٹیم کیلئے ہیں لیکن ان کو دیکھنے کیلئے سب ممالک کے کرکٹ مداح انتظار میں رہتے ہیں۔

ہر ملک کے سپورٹس فین اپنی ٹیم کو ہی سپورٹ کرتے ہیں لیکن کسی بھی کھیل کو دیکھ کر انجوائے کرنے کا یہ طریقہ ہے کہ آپ اس کھیل کے ہر اچھے کھلاڑی کو سراہتے رہیں۔
کرکٹ کی دنیا میں کئی ایسے کھلاڑی آئے ہیں جو کھیلتے تو اپنی ٹیم کیلئے ہیں لیکن ان کو دیکھنے کیلئے سب ممالک کے کرکٹ مداح انتظار میں رہتے ہیں۔
یوں تو پاکستان نے بھی دنیائے کرکٹ کو ایسے کئی نام دیئے ہیں، تاہم آج ہم بات کرنے جارہے ہیں دنیائے کرکٹ کے عظیم بولر، رائٹ آرام آف بریک سپن بولنگ کا بادشاہ مرلی دھرن کی۔
مرلی دھرن، جس سے پاکستانی کھلاڑی خوف کھاتے تھے:
مرلی دھرن ایک جادوگر سپنر تھے ۔ایک زمانے میں پاکستان کا سری لنکا سے ون ڈے میچ ہوتا تو شائقین مرلی کے اوور نہیں گیندیں گنتے تھے کہ اب اتنی رہ گئیں-
مرلی کا سپیل ختم ہوتا تو بیٹسمین ہی نہیں دیکھنے والے بھی ایک سکون کا سانس لیتے تھے۔ میچ کی حالت جیسی بھی ہوتی، نتیجہ جو بھی ہوتا مرلی کے اوورز گزارنا نہایت مشکل تھا-
مزید پڑھیں: الوداع جیمز اینڈرسن
ہدف کا تعاقب ہوتا تو مرلی کے اوورز کا حساب کم سے کم رنز سوچ کر کیا جاتا۔ اگر پانچ کا رن ریٹ چاہئے ہوتا تو مرلی کے اوورز تین رنز کے حساب سے گنے جاتے۔
مرلی ہمیشہ ہی پاکستانیوں کے لئے عذاب نہیں رہا۔ کبھی سعید انور کبھی انضمام کبھی شاہد آفریدی اور کبھی معین خان نے پٹائی بھی کی لیکن مرلی کا ٹیرر ہمیشہ ویسا ہی رہا۔
مرلی کے ایکشن پر لاتعداد اعتراض ہوئے، شاید کچھ عرصے بعد آتا تو سعید اجمل کی طرح پابندی بھی لگ جاتی لیکن مرلی کے ریکارڈ اب ایک حقیقت ہیں۔
مرلی کے انٹرنیشنل کرکٹ ریکارڈز:
انٹرنیشنل کرکٹ میں سب سے زیادہ وکٹیں لینے والا باؤلر مرلی دھرن ہی ہے۔
ٹیسٹ کرکٹ میں مرلی کی مکمل 800 وکٹیں ہیں۔ آخری میچ میں 8 وکٹیں درکار تھیں، جو انڈین بیٹنگ کو دیکھتے مشکل لگ رہی تھیں- 799 اور 800 کے درمیان 50 اوورز کا انتظار تھا جس میں 23 اوورز خود مرلی نے کئے۔
دنیائے کرکٹ کے اس عظیم بولر مرلی دھرن نے اس معاملے میں ڈان بریڈ مین کو بھی پیچھے چھوڑ دیا جو ٹیسٹ کیریئر میں سو کی اوسط برقرار رکھنے کے لئے اپنی آخری اننگ میں چار رنز نہ بنا پائے تھے-
ون ڈے کرکٹ کی بات کر لی جائے تو یہاں مرلی نے 350 میچز میں 534 وکٹیں حاصل کرکے سب سے زیادہ وکٹیں حاصل کرنے والے کھلاڑی کا ریکارڈ رکھتے ہیں۔
تاہم ٹی ٹونٹی کرکٹ میں انہوں نے اپنے کیرئیر کے اختتامی لمحات میں قدم رکھا۔ انہیں صرف 12 میچز میسر آئے جس میں انہوں نے 13 وکٹیں حاصل کیں۔
ایسے جادوگر سپنر آج بھی اپنے جونئیرز کیلئے مشعلِ راہ ہیں۔ ساتھ ہی ایسے ورلڈ کلاس باؤلرز کے ریکارڈ آج بھی نئے کھلاڑیوں کو چیلنج کرتے، اور ان کا خون گرماتے دکھائی دیتے ہیں۔