ڈاکٹر نبیحہ کے الزامات پر شوہر حارث کھوکھر کا جواب اور واقعہ کے اخلاقی پہلو
ڈاکٹر نبیحہ نے معروف میزبان فضہ علی کی رمضان ٹرانسمیشن میں شرکت کی اور اپنی نجی ازدواجی زندگی، سسرالیوں کے رویے، اور شوہر کے مبینہ ناروا سلوک کے حوالے سے چونکا دینے والے انکشافات کیے ۔

اسلامی معاشروں میں خاندانی تنازعات اور ازدواجی اختلافات کو چار دیواری کے اندر، خاندانی بزرگوں یا ثالثی کونسلز کی مدد سے حل کرنے کی ترغیب دی جاتی رہی ہے۔
تاہم، ریٹنگز، سنسنی خیزی اور کلک بیٹ کلچر کے عروج نے اس روایتی خاندانی تقدس کو شدید خطرات سے دوچار کر دیا ہے۔
حالیہ دنوں میں معروف ماہر نفسیات، سوشل میڈیا انفلوئنسر، اور میڈیا کی شخصیت ڈاکٹر نبیحہ علی خان اور ان کے شوہر حارث کھوکھر کا ازدواجی تنازع اس رجحان کی سب سے نمایاں، پیچیدہ اور متنازعہ مثال بن کر سامنے آیا ہے ۔
یہ شادی، جس کا آغاز ہی سوشل میڈیا پر ایک طوفان برپا کرنے سے ہوا تھا، محض چند ماہ کے قلیل عرصے میں ایک انتہائی تلخ عوامی جنگ میں تبدیل ہو گئی۔
اس تنازع نے اس وقت ایک نیا اور سنگین موڑ لیا جب ڈاکٹر نبیحہ نے معروف میزبان فضہ علی کی رمضان ٹرانسمیشن میں شرکت کی اور اپنی نجی ازدواجی زندگی، سسرالیوں کے رویے، اور شوہر کے مبینہ ناروا سلوک کے حوالے سے چونکا دینے والے انکشافات کیے ۔
اس انٹرویو کے دوران فضہ علی کا انتہائی جذباتی اور جارحانہ ردعمل دیا۔
فضہ علی کے شو میں ڈاکٹر نبیحہ کی شرکت اور تہلکہ خیز انکشافات
اس ڈرامے کا سب سے اہم اور متنازعہ باب اس وقت رقم ہوا جب ڈاکٹر نبیحہ نے نجی نیوز چینل پر نشر ہونے والی فضا علی کی رمضان ٹرانسمیشن ا میں شرکت کی ۔
رمضان ٹرانسمیشنز، جن کا بنیادی مقصد روحانیت کا فروغ ہونا چاہیے، حالیہ برسوں میں ریٹنگز کے حصول کے لیے سنسنی خیز مواد نشر کرنے کا ایک بڑا ذریعہ بن چکی ہیں ۔
اس پروگرام کی براہ راست نشریات کے دوران ڈاکٹر نبیحہ مسلسل جذبات سے مغلوب رہیں اور روتے ہوئے اپنے شوہر اور سسرال کے خلاف متعدد سنگین نوعیت کے الزامات عائد کیے، جن کا تفصیلی تجزیہ درج ذیل ہے:
ذہنی تشدد اور حقوق کی پامالی کا الزام
ڈاکٹر نبیحہ کا سب سے سنگین الزام یہ تھا کہ انہیں شادی کے محض دو ماہ بعد ہی شدید "ذہنی ٹارچر” (Mental Torture) کا نشانہ بنایا گیا ۔ ان کا موقف تھا کہ جسمانی زخم تو وقت کے ساتھ بھر جاتے ہیں لیکن جو ذہنی اذیت انہیں دی گئی ہے، وہ ناقابل برداشت ہے۔
ان کا مزید کہنا تھا
- "فی الوقت میرا رشتہ ٹوٹا نہیں ہے، لیکن ٹوٹنے کے کنارے پر ہے۔ میں نہیں چاہتی کہ یہ ختم ہو، لیکن اگر ایسا ہوا تو گھر میں بیٹھے لوگوں کی وجہ سے ہوگا”
- ان کے مطابق، انہیں اپنے کمرے کا دروازہ بند کرنے کی بھی اجازت نہیں تھی
- انہیں اپنے شوہر کے ساتھ آرام سے بیٹھنے اور کھانا کھانے کی بھی اجازت نہیں تھی
میزبان فضا علی کا متنازعہ کردار، جارحانہ طرز عمل اور میڈیا ٹرائل
پاکستانی ٹیلی ویژن پر مارننگ شوز اور رمضان ٹرانسمیشنز ایک طویل عرصے سے سنسنی خیزی (Sensationalism) اور ریٹنگز کی دوڑ کے لیے مشہور رہے ہیں ۔
اس پروگرام کی نشریات کے دوران فضہ علی کے استعمال کردہ الفاظ اور ڈائیلاگز انتہائی جذباتی، اشتعال انگیز اور براہ راست دھمکی آمیز تھے۔ حقائق کی غیر جانبدارانہ تفتیش کے بجائے، انہوں نے کیمرے کی طرف دیکھتے ہوئے براہ راست حارث کھوکھر کو مخاطب کیا اور ایک چیلنجنگ انداز میں کہا کہ وہ انہیں نہیں چھوڑیں گی اگر انہوں نے نبیحہ کو تکلیف دی۔ فضہ علی کے عین الفاظ یہ تھے: "آئیں گے، ادھر ہی بات ہوگی پورے میڈیا کے سامنے بھائی جان کو لے کر آؤ۔ ہم بلائیں گے کال کرو آج… ان کو بلاؤ بات کریں آکے یہاں پہ۔ ایسے نہیں کسی کا گھر خراب ہوگا نہ ایسے کسی کا گھر تباہ ہونے دیں گے ہم سارے کھڑے ہیں تمہارے ساتھ” ۔
یہ طرز عمل صحافت نہیں بلکہ میڈیا ٹرائل کہلاتا ہے جہاں ایک میزبان لائیو کیمروں کے سامنے کسی کی غیر موجودگی میں اس کے جرائم کا فیصلہ سنا رہا ہوتا ہے۔
حارث کھوکھر کا جامع دفاع، جوابی موقف اور الزامات کی تردید
میڈیا پر ہونے والی اس یکطرفہ، شدید اور کردار کش مہم کے بعد، حارث کھوکھر نے خاموشی توڑی اور مختلف ڈیجیٹل پلیٹ فارمز، سوشل میڈیا ویڈیوز اور پوڈکاسٹس کے ذریعے اپنا تفصیلی اور مدلل موقف پیش کیا۔
حارث کا دفاع بنیادی طور پر ڈاکٹر نبیحہ کی نفسیاتی حالت، ان کے شکی اور تحکمانہ مزاج، اور اپنے خاندانی پس منظر کے دفاع پر مبنی تھا ۔
View this post on Instagram
الزامات کی تردید
حارث کھوکھر نے اپنی اہلیہ کی جانب سے لگائے گئے جسمانی یا ذہنی تشدد کے الزامات کو یکسر مسترد کر دیا۔ انہوں نے دوٹوک الفاظ میں کہا کہ ان کی جانب سے نبیحہ کو ایک گالی تک نہیں دی گئی اور تشدد تو بہت دور کی بات ہے۔
حارث نے کہا کہ ان کی جانب سے نبیحہ کو گھر سے نہیں نکالا گیا ۔ انہوں نے بتایا کہ گھر میں ہر طرف کیمرے لگے ہوئے ہیں اگر کوئی فوٹیج دیکھنا چاہے تو صاف نظر آئے گا کہ وہ خود ان ڈرائیو بک کرا کر گئیں ۔
حارث کھوکھر کا کہنا تھا کہ ڈاکٹر نبیحہ کو شک اور وہم کی بیماری ہے جس کا کوئی علاج نہیں ۔
حارث کے مطابق، نبیحہ کا اصرار تھا کہ حارث جہاں بھی جائیں، کام پر جائیں، مردوں کی میٹنگ میں جائیں، یا دوستوں کے ساتھ بیٹھیں، انہیں ہر جگہ ساتھ لے کر جائیں۔
حارث نے وضاحت کی کہ کوئی بھی شخص اپنی بیوی کو مردوں کی کاروباری محفلوں یا کمیونٹی کے ہر اجلاس میں ساتھ نہیں بٹھا سکتا کیونکہ ایک مرد کو گھر چلانے کے لیے باہر نکلنا اور معاشی جدوجہد کرنی پڑتی ہے۔
ازدواجی تنازعات میڈیا پر لانے کے تباہ کن سماجی اور اخلاقی اثرات
ڈاکٹر نبیحہ اور حارث کھوکھر کا یہ کیس اس بات کی ایک درخشاں اور افسوسناک مثال ہے کہ جب شوہر اور بیوی کے نجی معاملات، جو مکمل طور پر خلوت کے پردوں اور روایتی خاندانی ثالثی کے متقاضی ہوتے ہیں، انہیں ٹیلی ویژن کی اسکرینوں اور سوشل میڈیا کے بے رحم پلیٹ فارمز پر پیش کر دیا جائے تو اس کے کس قدر تباہ کن اثرات مرتب ہوتے ہیں۔
علمی، اخلاقی، سماجی، اور قانونی اعتبار سے اس قسم کے مواد کو مین اسٹریم میڈیا اور مارننگ شوز پر لانے کی شدید ممانعت ہونی چاہیے۔
خاندانی اختلافات، میاں بیوی کے جھگڑوں، اور طلاق کے معاملات کو ٹی وی پر دکھانا صحافت کے کسی بھی زمرے میں نہیں آتا بلکہ یہ خالصتاً "جذباتی استحصال” (Emotional Exploitation) ہے۔
فضا علی کے شو میں ڈاکٹر نبیحہ کے آنسوؤں کو بیچنا، ان کی کمزوری کا فائدہ اٹھانا، اور لائیو کیمروں پر شوہر کو للکارنا میڈیا کے ضابطہ اخلاق کی صریح اور سنگین خلاف ورزی ہے۔ جب اینکرز اور میزبان خود کو تفتیش کار، جج اور جیوری کے طور پر پیش کرنا شروع کر دیتے ہیں، تو مستند صحافت اپنی وقعت کھو دیتی ہے اور معاشرے میں محض عدم برداشت اور ہیجان پیدا ہوتا ہے ۔
اس تنازع میں ایک اور انتہائی تشویشناک پہلو فریقین کی جانب سے ایک دوسرے پر ذہنی مسائل کے سرعام الزامات لگانا ہے۔
ڈاکٹر نبیحہ (جو خود ایک ماہر نفسیات ہونے کی دعویدار ہیں) کا میڈیا پر آکر رونا اور "ذہنی تشدد” کے الزامات کو تکنیکی معنوں میں استعمال کرنا، اور دوسری جانب حارث کھوکھر کی جانب سے ایک عام فرد کے طور پر "وہم” اور "Hallucination” جیسی طبی اور پیچیدہ نفسیاتی اصطلاحات کا استعمال کرتے ہوئے اپنی بیوی کی دماغی حالت کو مشکوک قرار دینا انتہائی خطرناک رجحان ہے ۔



