سائنس اور ٹیکنالوجی

دماغ کو کنٹرول کرنے والی ایلون مسک کی ٹیکنالوجی کیا ہے؟

نیورالنک کمپنی  نے پہلی بارانسانی دماغ میں وائرلیس برین چپ نصب کرنے میں کامیابی حاصل کرلی ہے۔

مشہور ویب سائٹ ایکس کے بانی ایلون مسک کی نیورو ٹیکنالوجی کمپنی نیورا لنک نے پہلی دفعہ کسی انسان کے دماغ میں چِپ امپلانٹ کی ہے ۔

اس نئی ٹیکنالوجی کو دنیا بھر میں تجسس بھرے انداز سے دیکھا جا رہا ہے ۔ طبی ماہرین ، ریسرچرز، مریضوں سمیت دیگر افراد اس ٹیکنالوجی کو قدر کی نگاہ سے دیکھ رہے ہیں۔

 

دماغ کنٹرول کرنے کی ایلون مسک کی ٹیکنالوجی کیا ؟

 

ایلون مسک نے  ایکس (سابقہ ٹویٹر)  پر ایک پوسٹ کے ذریعے اس حوالے سے بتایا کہ ان کی نیورالنک کمپنی  نے پہلی بارانسانی دماغ میں وائرلیس برین چپ نصب کرنے میں کامیابی حاصل کرلی ہے۔

انہوں نے مزید بتایا کہ مریض کی صحت بہتری کی طرف جا رہی ہے اور ابتدائی نتائج امید افزا ہیں۔

نیورا لنک کی اس حیران کن ٹیکنالوجی کا نام "ٹیلی پیتھی” ہے۔ یہ آلہ صرف سوچ کے ذریعے فون، کمپیوٹریا کسی اور ڈیوائس کو کنٹرول کر سکتا ہے۔

اس بارے میں ایلون مسک کا کہنا ہے کہ اُنکے ابتدائی صارف وہ لوگ ہونگے جو معذور یا اپنے جسم کے کسی اعضاء سے محروم ہیں ۔

 

انسان سے قبل بندروں پر نئی ٹیکنالوجی کا تجربہ:

 

اس چپ کا انسانی دماغ میں تجربہ کرنے سے قبل نیورالنک نے مئی میں امریکہ کے محکمہ خوراک و ادویات سے اجازت لینے کا اعلان کیا تھا۔

ساتھ ہی  اس بات کا بھی اعلان کیا تھا کہ اس چِپ کا سب سے پہلا تجربہ بندروں پر کیا گیا ہے۔

اس تجربے کا مقصد یہ تھا کہ وہ بندروں کے ذہنی سگنل کامیابی سے حاصل کر کے آلات میں منتقل کر دیں جس میں وہ کامیاب بھی ہوئے۔

اس کمپنی کو قائم کرنے کا واحد مقصد یہ تھا کہ وہ اپنی تیار کردہ مائیکرو چِپ کے ذریعے اُن لوگوں کی مدد کرسکیں جو فالج اور اندھے پن جیسے نیورولوجک امراض کا شکار ہیں۔

ایلون مسک اپنی اس نیو ٹیکنالوجی کے ذریعے معذور انسانوں کے معیارِ زندگی میں بہتری لانا چاہتے ہیں۔

مزید پڑھیں:ایلون مسک کی ٹیکنالوجی نے 8 سال سے مفلوج نوجوان کی زندگی کیسے بدلی

ٹیکنالوجی پر تنقید:

ایلون مسک کی اس ٹیکنالوجی کو تنقید کا نشانہ بھی بنایا جارہا ہے۔ تجرنہ کاروں اور ریسرچرز کا کہنا ہے کہ سارا مسئلہ راز داری کا ہے۔

جب کوئی ڈیوائس انسان کی سوچ تک پہنچ جائے گی تو یہ تمام اخلاقی پہلوؤں کو نظر انداز کر دے گی۔

اس لئے تجریہ کاروں اور ریسرچرز کی جانب سے اس ٹیکنالوجی کو تنقید کا نشانہ بنایا جارہا ہے۔

تاہم اس ٹیکنالوجی سے مسفتید ہونے کا ارادہ رکھنے والے افراد اس تحقیق کو بھاؤ دینے پر قطعاً راضی نہیں ہے۔

ان کا کہنا ہے کہ تکلیف سے نجات اولین ترجیح ہے۔ اگر اس راستے سے نکلنا کا کوئی طریقہ سامنے آیا ہے اور اس میں تھوڑے سے اخلاقی پہلو ہیں تو انہیں نظر انداز کرنے میں کوئی مسئلہ نہیں ہے۔

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button